غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے نائب صدر الشیخ صالح العاروری نے کہا ہے کہ دو روز قبل غزہ کی پٹی کے دورے کے دوران وزیراعظم رامی الحمد اللہ کے قافلے کو دھماکے سے نشانہ بنانے کی کوشش فلسطین بالخصوص غزہ کی پٹی کے امن وامان کے حالات خراب کرنے کی منظم کوشش ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک بیان میں صالح العاروری نے کہا کہ وزیراعظم رامی الحمد اللہ کے قافلے کو نشانہ بنانے کا ذمہ دار اسرائیل اور اس کے سیکیورٹی ادارے ہوسکتے ہیں۔ اس حملے کے نتیجے میں فلسطینیوں مصالحتی عمل متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں میں یکجہتی کی مساعی بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں امن وامان کو تباہ کرنے اور فلسطینی وزیراعظم رامی الحمد اللہ کے قافلے پر حملے کے فوائد صرف صیہونی ریاست کو پہنچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہی اس واقعے کا ذمہ دار بھی ہے۔
صالح العاروری کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایک سازش کے تحت غزہ کی پٹی میں امن وامان کو تباہ کرکے حماس کے خلاف گھیراؤ کی کوشش کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی قوم جانتی ہے کہ رامی الحمد اللہ کے قافلے پر حملے کا کون ذمہ دار ہے۔
خیال رہے کہ دو روز قبل فلسطینی وزیراعظم رامی الحمد اللہ غزہ کی پٹی کے دورے پر آئے تو ان کے قافلے کو حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔
