فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ، حرم قدسی اور القدس کے تمام تاریخی مقامات صرف فلسطینیوں اور مسلمانوں کی ملکیت ہیں۔ فلسطینیوں کو ان مقامات میں آنے جانے کا مکمل حق حاصل ہے اور کوئی طاقت فلسطینیوں پر قدغنیں عائد نہیں کر سکتی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ القدس اور مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی انتظامیہ کی پابندیاں دشمن کی کھلی جارحیت اور قبلہ اوّل پر قبضے کی سازشوں کا تسلسل ہے۔ فلسطینی قوم اسرائیلی پابندیوں کو جرائم قرار دیتے ہوئے انہیں مسترد کردیں۔
حماس نے فلسطینی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ دفاع قبلہ اوّل کے لیے مزاحمت تیز کریں اور اسرائیلی جرائم اور ریاستی طاقت کے استعمال کی پرواہ کیے بغیر مقدس مقام کے دفاع کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صہیونی ریاست کی طرف سے قبلہ اوّل میں داخلے کے لیے عائد کردہ پابندیوں کے خلاف فلسطینی قوم کی طرف سے ایک ہی پیغام جانا چاہیے کہ ہمیں صہیونی قدغنیں قبول نہیں۔ فلسطینی قوم اسرائیلی پابندیوں کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھتے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کے داخلی راستوں پر کیمرے نصب کرنے کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک واک تھرو گیٹ بھی نصب کیے تھے اور فلسطینی شہریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ ان الیکٹرانک دراوزں سے اندر جائیں تاہم فلسطینی شہریوں اور محکمہ اوقاف کے ملازمین نے صہیونی پابندیاں مسترد کر دی تھیں۔
