فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس کے ترجمان سامی ابو زھری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جماعت فلسطینی اتھارٹی اور تحریک فتح کی طرف سے مملکت کے قومی اداروں میں مداخلت کو قبول نہیں کرے گی۔ ترجمان نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے فلسطینی عدلیہ میں رام اللہ اتھارٹی کی مداخلت کو مسترد کیے جانے کے موقف کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ حماس ریاستی اداروں میں سیاسی مداخلت کے خلاف کوششیں جاری رکھے گے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں فلسطینی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین سامی صرصور نے تحریک فتح کے رہنماؤں کے دباؤ کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس سامی صرصور سے جبرا استعفیٰ لیا گیا ہے۔ رواں سال بیس جنوری کو حلف اٹھانے سے بھی قبل ان سے استعفے پر دستخط لے لیے گئے تھے۔ تاہم استعفے کی تاریخ درج نہیں کی گئی تھی۔ حال ہی میں ان کی جانب سے کئی قبل لیا گیا استعفیٰ صدر محمود عباس کو پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ چیف جسٹس مستعفی ہو گئے ہیں۔
سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ تحریک فتح کی مرکزی کمیٹی رکن توفیق الطیراوی نے ان سے جبرا استعفیٰ لے لیا تھا۔
حماس سمیت فلسطین کی نمائندہ سیاسی اور سماجی تنظیموں نے چیف جسٹس سے جبرا استعفیٰ لیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عدلیہ کے امور میں کھلی مداخلت قرار دیا ہے۔
