غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی تحریک مزاحمت’حماس‘ نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی امن ایچلی ’ جیسن گرین بیلٹ‘ کے بیانات پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ٹرمپ کے ایچلی امن کے لیے نہیں بلکہ جنگی مجرموں کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گرین بیلٹ کے فلسطینی تحریک مزاحمت اور تحریک آزادی کے بارے میں بیانات ’دشمنانہ‘Â ظالم کی طرف داری پر مبنی ہیں۔حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے کہا کہ امریکی امن مندوب فلسطینیوں کے خلاف صیہونی ریاست کے جنگی جرائم کی پردہ پوشی کررہے ہیں۔ غزہ کی پٹی اور پورے فلسطین میں صیہونی ریاست کی نسل پرستی اور دہشت گردی کے پیچھے امریکی انتظامیہ کا ہاتھ ہے جو جنگی مجرموں کی سرپرستی اور تحفظ کررہی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی امن مندوب جیسن گرین بیلٹ نے غزہ کی پٹی کے قریب صیہونی کالونیوں کا دورہ کیا۔ یہ اشتعال انگیز دورہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ کے مطابق گرین بیلٹ نے غزہ کے قریب اسرائیلی فوجی افسران سے ملاقات کی۔ اس دورے میں اسرائیل فوج کا جنرل یوآف مورڈخائی بھی ہمراہ تھا۔
امریکی مندوب کو وہ سرنگ بھی دکھائی گئی جس کے بارے میں اسرائیلی فوج نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ اسے فلسطینیوں نے کھودا ہے۔ یہ سرنگÂ اسرائیلی فوج نے مسمار کردی تھی۔
اس دورے سے واپسی کے بعد حماس پر تنقید کرتے ہوئے گرین بیلٹ نے کہا کہ حماس غزہ کی پٹی کے عوام کو بجلی،پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بجائے تمام وسائل راکٹوں کے حصول اور سرنگوں کی تیاری پر صرف کر رہی ہے۔ انہوں نے حماس پر نفرت پھیلانے اور تشدد کو خوراک مہیا کرنے کابھی الزام عائد کیا۔
