غزہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی تحریک مزاحمت’حماس‘ کے سیاسی شعبے کے نائب صدر اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ مسائل سے دوچار کرکے غزہ کے عوام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا رہا ہے مگر فلسطینی قوم کسی کے جھانسے میں آنے والی نہیں اور نہ ہی غزہ کے عوام کو غلام بنایا جاسکتا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غزہ کی پٹی میں ’القدس ہم آرہے ہیں‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے عوام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ غزہ کے عوام کو جھکنے پرمجبور کیاجائے گا وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے عوام مزاحمت کے حامی اور قربانیاں دینے والے ہیں۔ غزہ کے عوام اپنے شہداء کی وجہ سے پوری قوم کے لیے باعث فخر ہیں۔
اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ حماس کی طاقت کے کئی ذرائع ہیں۔ غزہ کی پٹی مزاحمت کا مضبوط قلعہ ہے۔ یہاں پر حماس کا عسکری ونگ القسام بریگیڈ ہے جو اب سنہ 2014ء کی جنگ کے بعد اب زیادہ مضبوط ہوچکا ہے۔ غزہ کے عوام القدس، اندرون فلسطین، اندرون اور بیرون ملک پناہ گزین کیمپوں میں رہنے والےفلسطینیوں اور عرب اور مسلم امہ کے ساتھ مربوط ہیں۔ اس کے علاوہ غزہ کے عوام اور حماس کا اسرائیلی جیلوں میں قید اسیران کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے اور بڑی تعداد اسیران کی حماس کے رہنماؤں اور کارکنان پر مشتمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس کی جانب سے آج جاری ہونے والے نئے سیاسی منشور میں بنیادی اصولوں سے انحراف نہیں کیا گیا۔ حماس کی بنیادی حکمت عملی اب بھی ان بنیادی پانچ نکات پر مشتمل ہے۔ فلسطین، القدس، حق واپسی، مزاحمت اور فلسطینی قوم میں اتحاد‘ جماعت کے بنیادی اصول ہیں۔
اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ حماس نے قومی وحدت کے لیے ہرممکن لچک دکھائی۔ غزہ کی پٹی میں حماس اپنی حکومت سےدستبردار ہوئی۔ عدم مشاورت کے باوجود بلدیاتی انتخابات کے صدارتی اعلان کو بھی اس لیے قبول کیا تاکہ قومی مفاہمت کا عمل آگے بڑھایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ حماس نے قومی مفاہمت کے لیے جب اور جہاں بلایا وہیں اپنے وفود بھیجے۔ غزہ کی پٹی، دوحہ اور دوسرے مقامات پر کتنے ہی اجلاس ہوئے۔ حماس نے ہربار بھرپور لچک دکھائی تاکہ فلسطینی قوم کے مسائل کا حل نکالا جاسکے مگر فلسطینی اتھارٹی کی طرف سےغزہ کے عوام کو انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ یہاں تک کہ غزہ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی 30 سے 40 فی صد کٹوتی کردی گئی۔
اسرائیلی دشمن کے نام اپنے پیغام میں اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ بیت المقدس کے باشندوں نے صہیونی ریاست کی طرف سے مسجد اقصیٰ کی زمانی اور مکانی تقسیم کی تمام سازشیں ناکام بنا دی ہیں۔ بیت المقدس کا ایک ایک شہری مسجد اقصیٰ کا مرابط بن کر کھڑا ہے۔ فلسطینی قوم نے اپنی قربانیوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ فلسطینی اپنے وطن کی ایک انچ بھی دشمن کو دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
