فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس کے ترجمان حسام بدران نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی پولیس کے ہاتھوں الشیخ رائد صلاح کی جس بے رحمانہ انداز میں گرفتاری عمل میں لائی گئی اس سے صہیونی ریاست کی فلسطینیوں کے خلاف خوف کی سیاست مسلط کرنے ظالمانہ پالیسی کی عکاسی ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اندرون فلسطین کی مذہبی اور سیاسی قیادت کو انتقام کی بھینٹ چڑھا رہا ہے۔
حسام بدران کا کہنا تھا کہ الشیخ رائد صلاح کی گرفتاری اسرائیلی ریاست کی کھلی غنڈہ گردی اور بدمعاشی ہے۔ رائد صلاح کے خلاف عائد کردہ اسرائیلی پولیس کے تمام الزامات قطعی بے بنیاد اور باطل ہیں۔ الشیخ رائد صلاح کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ صہیونی ریاست کی نسل پرستانہ سرگرمیوں کو بے نقاب کرتے اور دفاع القدس اور الاقصیٰ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہیں مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لیے کوششیں کرنے کے جرم میں پکڑا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی نمائندہ تنظیم اسلامی تحریک کے امیر الشیخ رائد صلاح کو حراست میں لے لیا تھا۔
