فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں الجزیرہ ٹی وی چینل کی نشریات دکھانے پر پابندی کا اسرائیلی اقدام قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔
اسرائیلی حکومت کے اس اقدام سے صہیونی ریاست کے ابلاغی اداروں کے خلاف دشمنی کے چلن کی قلعی کھول دی ہے۔ الجزیرہ کی بندش دراصل صہیونی ریاست کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرنے کی کوششوں کو دبانے اور فلسطینی قوم پر ڈھائے جانے والے مظالم کی پردہ پوشی کی مجرمانہ سازش ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس الجزیرہ ٹی وی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ الجزیرہ نے اعلیٰ پیشہ وارانہ ابلاغی معیارات کو برقرار رکھتے ہوئے ہمیشہ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کی ہے۔ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی ریاست کے مسلط کردہ مظالم اور پابندیوں کو بے نقاب کرنے اور مسجد اقصیٰ میں حالیہ ایام میں اسرائیلی غنڈہ گردی کو اجاگر کرتے ہوئے مقام مقدس کے دفاع میں الجزیرہ کا کلیدی کردار ہے۔
خیال رہے کہ اتوار کے روز اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ فلسطینی شہروں میں موجود الجزیرہ ٹی وی چینل کے تمام دفاتر بند کرتے ہوئے چینل سے وابستہ صحافیوں کو لائسنس منسوخ کردیے تھے۔
چینل پر پابندی سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے دھمکی دی تھی کہ وہ الجزیرہ کو بند کرنے کا حکم دینے والے ہیں۔ انہوں نے الجزیرہ ٹی وی پر اسرائیل کے خلاف اشتعال پھیلانےاور نفرت کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا۔
