فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس کی افیشل ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک بیان میں اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ قبلہ اوؔل کے حوالے سے اسرائیل کے نام نہاد سیکیورٹی اقدامات انتہائی خطرناک ہیں جن کا مقصد قبلہ اوؔل کو تقسیم کرنا اور اس پر تسلط مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم قبلہ اوؔل کی تقسیم اور اس پر قبضے کی صہیونی سازشوں کو کسی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ غاصب صہیونی حکومت نے مسلمانوں کے قبلہ اوؔل کو بند کرکے اس میں اذان اور نماز کی ادائیگی پر پابندی لگائی ہے۔ نصف صدی میں یہ پہلا موقع ہے جب صہیونی ریاست نے قبلہ اوؔل کو بند کرنے کی مکروہ جسارت کی ہے۔ صہیونی دشمن نے قبلہ اوؔل پر ایک Â ایسے وقت میں پابندیاں عائد کرنا شروع کی ہیں جب اسرائیلی پارلیمنٹ میں القدس کو یکجا کرنے کے لیے قانون سازی جاری ہے۔
اسرائیل کو اندازہ ہے کہ قبلہ اوؔل وہ واحد مقام ہے جس کی بناء پر مشرقی بیت المقدس پر اس کی گرفت کمزور ہوسکتی ہے۔ اگر قبلہ اوؔل پر قبضہ مستحکم کیا جائے تو اس کے نتیجے میں بیت المقدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی راہ ہموار ہوگی۔
اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ فلسطینی قوم مسجد اقصیٰ کے خلاف صہیونی ریاست کے ناپاک عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ الاقصیٰ مسلمانوں کا پہلا قبلہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آسمان کے سفر کا دروازہ ہے۔ قبلہ اوؔل فلسطینی قوم کی شناخت اور تشخص کی علامت اور جہد و جہد آزادی کا عنوان ہے۔ اس کےبغیر خون اور جانوں کی کوئی اہمیت نہیں۔
اسماعیل ھنیہ نے عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ قبلہ اوؔل کے خلاف جاری صہیونی سازشوں کی روک تھام کے لیے موثر حکمت عملی وضع کریں۔ انہوں نے عرب ملکوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو قبلہ اوؔل، القدس اور فلسطینی قوم کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے عرب دنیا سے اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دفاع قبلہ اوؔل کے لیے اپنی ذمہ داریاں کما حقہ انجام دینے کا مطالبہ کیا۔
