مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نےانکشاف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی اور سنہ 1948ء کے دوران صہیونی ریاست کے تسلط میں چلے جانے والے فلسطینی شہروں کے درمیان سرحد پر کنکریٹ کی دیوار کا کام دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے عبرانی اخبار’’یدیعوت احرونوت‘‘ کی رپورٹ میں غزہ اور سنہ 1948ء کے فلسطینی شہروں کے درمیان دیوار فاصل کا کام دو اسرائیلی تعمیراتی کمپنیوں ’’سولیل بونیہ‘‘ اور ’’زیمانت کول‘‘ کو سونپا گیا ہے۔ دونوں کمپنیوں کو دیوار کی تعمیر کے لیے فی کمپنی 55 ملین ڈالر کی رقم بھی ادا کی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق چند ہفتے قبل اسرائیلی فوج نے خود تجرباتی طور پر غزہ کے گرد کنکریٹ کی دیوار کی تعمیر شروع کی تھی۔ اس منصوبے پر کئی کروڑ شیکل کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ تجرباتی طور پر دیوار کا ایک ٹکڑا تعمیر کرنے کے بعد فوج نے یہ کام روک دیا تھا، جس کے بعد اب دیوار کی تعمیر کا کام دو تعمیراتی کمپنیوں کو سونپا گیا ہے۔
اسرائیلی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے گرد زیرتعمیر دیوار کا منصوبہ جلد پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ اس منصوبے کے ذریعے غزہ کے گرد کئی میٹر گہری اور کئی مئی میٹر بلند دیوار تعمیر کی جائے گی۔ دیوار کی تعمیر کا مقصد اسرائیلی ریاست کے زیرتسلط علاقوں میں غزہ کی پٹی سے دراندازی کی روک تھام کرنا ہے۔ منصوبے پر 550 ملین ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ دیوار 60 کلو میٹر طویل ہوگی۔
