فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غزہ کی پٹی میں محکمہ صحت کے چیئرمین باسم نعیم نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ صحت کا شعبہ آج سے نہیں بلکہ پچھلے گیارہ سال سے بدترین بحران کا سامنا کررہا ہے۔ جب سے اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر معاشی پابندیاں مسلط کی ہیں تب سے غزہ میں انسانی بحران مسلسل ابتری کی طرف بڑھ رہا ہے۔
قبل ازیں غزہ میں صحت کے شعبے میں معاونت کرنے والے ممالک کے مندوبین کے ایک اجلاس سے خطاب میں بھی انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ میں کسی بھی وقت صحت کا شعبہ تباہ ہوسکتا Â ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں بجلی کے بدترین بریک ڈاؤن نے بھی صحت کے محکمے کے بحران میں اضافہ کیا۔ اسرائیلی پابندیوں کے نتیجے میں صحت کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ غزہ کی پٹی کی آبادی دو ملین سے زیادہ ہے جب کہ پورے علاقے میں 13 اسپتال اور 46 بنیادی مراکز صحت ہیں۔
ان اسپتالوں میں بھی 170 اقسام کی ادویات ختم ہیں جب کہ کینسرجیسے امراض سمیت 267 اقسام کی ادویات Â ختم ہونے کے قریب ہیں۔
