غزہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نےایک اور انتقامی اقدام کے طورپر غزہ کی پٹی کو بچوں کا دودھ اور ادویات کی ترسیل بند کردی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غزہ کی پٹی کے ڈائریکٹر جنرل ڈسپنریز ’منیر البرش‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی حکومت نے غزہ کی پٹی کو ادویہ اور بچوں کے دودھ کی ترسیل بند کردی ہے۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے بچوں کے دودھ اور ادیہ کی ترسیل پرپابندی کو’سیاسی انتقام‘ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ رام اللہ حکومت نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غزہ کے عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم کیا جا رہا ہے۔
منیرالبرش کا کہنا تھا کہ غزہ کے عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم کرنا پوری قوم کے مفاد کو نقصان پہنچانے بالخصوص مریضوں کو بنیادی طبی سہولیات سے محرومی کے کئی سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب غزہ کے عوام کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھنے کا اقدام کیا گیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں کینسر کی ادویات سمیت 17 اقسام کی بنیادی ادویات ختم ہوچکی ہیں۔ غرب اردن کے شمالی شہر نابلس سے غزہ کو ادویات کی ترسیل نامعلوم وجوہات کی بناء پر بند کردی گئی ہے۔
