مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) پناہ گزینوں کے امور سے وابستہ ایک فلسطینی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین "انروا” کے لگ بھگ 2800 ملازمین رواں سال کے اختتام سے قبل اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ اقدامات ایسے لائحہ عمل کا حصہ ہیں جن کا مقصد پٹی میں اس ایجنسی کے کام اور اس کے کردار کو محدود کرنا ہے۔
ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر "قدس پریس” کو بتایا کہ تقریباً 1100 ملازمین جنہیں "غیر ضروری شعبہ جات” کے زمرے میں رکھا گیا ہے، اس کے علاوہ 1700 سے زائد ایسے ملازمین جن کے نام "اسرائیل” کی طرف سے ایجنسی کی انتظامیہ کو سونپی گئی فہرستوں میں شامل ہیں اور جن پر سیاسی، جماعتی یا عسکری دھڑوں سے تعلق رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، آنے والے عرصے میں ان کی خدمات کا خاتمہ کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کارروائیوں کی زد میں آنے والے تمام ملازمین کا تعلق غزہ کی پٹی سے ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ عملے کی تعداد میں کمی کا یہ معاملہ ایجنسی کے اندر تشویش اور بے چینی کی لہر پیدا کر رہا ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جنہیں وہ اس ادارے کے کام کی نوعیت اور پٹی میں اس کے مستقبل کے وجود کو متاثر کرنے والی تبدیلیوں سے تعبیر کرتے ہیں۔
"غیر ضروری شعبہ جات” سے وابستہ 1100 ملازمین
ذرائع نے بتایا کہ دارالحکومت عمان میں حال ہی میں منعقد ہونے والی ان مجالس و ملاقاتوں کے بعد تقریباً 1100 ملازمین کو "غیر ضروری شعبہ جات” نامی زمرے میں تقسیم کر دیا گیا ہے جن کا مقصد ان شعبوں اور ملازمتوں کی چھان بین کرنا تھا جنہیں ختم کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس زمرے کا تعلق تین بڑے گروہوں سے ہے جن میں 400 سے زائد انتظامی ملازمین، سماجی مضامین کے شعبے سے وابستہ تقریباً اتنی ہی تعداد، اور اسپورٹس، ڈرائنگ، کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں سے وابستہ لگ بھگ 300 ملازمین شامل ہیں۔
ذرائع کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ ملازمتیں اب ایجنسی کے اندر تنظیم نو اور عملے کی کٹائی کے منصوبوں میں شامل ہو چکی ہیں، ایسے وقت میں جب غزہ کی پٹی کو انسانی، تعلیمی اور طبی لحاظ سے وسیع پیمانے پر ضروریات کا سامنا ہے۔
1700 ملازمین "سکیورٹی لحاظ سے ناپسندیدہ” فہرستوں میں
ایک اور معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ "اسرائیل” نے عمان میں "انروا” کی انتظامیہ کو ایسے تقریباً 1700 ملازمین کے ناموں پر مشتمل ایک فہرست تھمائی ہے جنہیں "سکیورٹی لحاظ سے ناپسندیدہ” قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ اس فہرست میں وہ ملازمین شامل ہیں جنہوں نے اسرائیلی فریق کے مطابق سکیورٹی جانچ پڑتال کے مراحل کو عبور نہیں کیا اور یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کا انجام ان کی خدمات کے خاتمے پر ہوگا۔
ذرائع نے ہر ملازم کے خلاف اختیار کیے جانے والے طریقہ کار کی نوعیت واضح نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا کہ آیا یہ فہرستیں براہِ راست معاہدوں کے خاتمے کا سبب بنیں گی یا نہیں، البتہ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ فائل اب ایجنسی کی انتظامیہ کی میز پر موجود ہے، جبکہ عملے کے مابین شدید بے یقینی کا عالم ہے۔
ملازمین کی یونین کے ساتھ متوقع اجلاس
ذرائع نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ "انروا” کے قائم مقام کمشنر جنرل کرسچن سونڈرز پیر کے روز ایجنسی میں عرب ملازمین کی یونین کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی طے شدہ میٹنگ میں ان کارروائیوں کی تفصیلات اور ملازمین پر ان کے اثرات کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی میں ایجنسی کے مستقبل کے کام کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔
ذرائع نے پٹی کے اندر "انروا” کی موجودہ صورتحال کو "جلتے ہوئے توے” پر قرار دیتے ہوئے یہ مؤقف اپنایا کہ متوقع فیصلے وسیع تر تناظر میں اس بین الاقوامی تنظیم کو نشانہ بنانے اور اس کے کردار کو ختم کرنے کے بعد اس کی جگہ دوسری مؤسسات کو لانے کی سازش کا حصہ ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ "انروا” کے کام کو سمیٹنا نہ صرف ہزاروں ملازمین پر اثر انداز ہو گا، بلکہ یہ براہِ راست فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے تک پھیل جائے گا، کیونکہ یہ ایجنسی ان تاریخی بین الاقوامی اداروں میں سے ایک ہے جو پناہ گزینوں کو خدمات فراہم کرنے اور بین الاقوامی سطح پر ان کے کاز کے تشخص کو برقرار رکھنے سے جڑی ہوئی ہے۔
"امن کونسل” کا انروا کے مستقبل پر سوالیہ نشان
یہ معلومات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب "انروا” کے مستقبل اور غزہ کی پٹی میں اس کے کردار کے حوالے سے جاری بحث میں تیزی آ رہی ہے، اور ساتھ ہی ان اطلاعات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے جن میں پٹی کے اندر انسانی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی ترتیبِ نو کے رجحانات کا ذکر کیا گیا ہے۔
"عالمی امن کونسل” نے فیس بک کے اپنے پیچ پر ایک امریکی خبر رساں ایجنسی کی اختصاصی رپورٹ شائع کی تھی، جس میں غزہ کی پٹی میں "انروا” کے کام کو ختم کرکے اس کی جگہ دیگر اداروں کو لانے کی سمت پیش قدمی کا تذکرہ کیا گیا تھا، جبکہ اس دوران پٹی میں موجود ایجنسی کے بڑے وسائل اور لاجسٹک تجربات سے فائدہ اٹھانے کی بات بھی کہی گئی۔
رپورٹ میں اس بات کا اشارہ دیا گیا تھا کہ "انروا” اور قاہرہ میں موجود "انتظامی کمیٹی” کے درمیان کئی ملاقاتیں منعقد ہو چکی ہیں جن میں پٹی میں ایجنسی کے مستقبل کے کام سے متعلقہ انتظامات اور آئندہ مراحل میں اس کے امور اور عملے سے نمٹنے کے طریق کار پر غور کیا گیا۔
رپورٹ میں "امن کونسل” کے ایک ذمے دار کا یہ قول نقل کیا گیا کہ یہ ملاقاتیں اس بات پر مرکوز تھیں کہ کس طرح "انروا” کے نظامِ کار سے فائدہ اٹھایا جائے تاکہ ایسے پروگراموں کو فروغ دیا جا سکے جنہیں انہوں نے "زیادہ کارآمد اور جوابدہ” قرار دیا۔
مذکورہ ذمہ دار کا کہنا تھا کہ "انروا کا دور ختم ہو چکا ہے، تاہم اس کے ملازمین بدستور اپنی جگہ رہیں گے اگر وہ سکیورٹی جانچ میں پورا اترتے ہیں، اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں اور حماس کی کسی نظریاتی یا مفاداتی سوچ کو فروغ نہیں دیتے۔”
لازارینی: "ایک مضحکہ خیز تضاد”
دوسری طرف "انروا” کے سابق کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے ایجنسی کی جگہ دوسرے اداروں کو لانے کے رجحان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس موقف کو بین الاقوامی برادری کی طرف سے ایجنسی سے اس کی خدمات جاری رکھنے کے مسلسل مطالبات سے متصادم قرار دیا۔
لازارینی نے کہا کہ "امن کونسل کہتی ہے کہ انروا اب ناپسندیدہ ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی یہ توقع ہوتی ہے کہ وہ اپنی خدمات جاری رکھے،” انہوں نے اس صورتحال کو "ایک مضحکہ خیز تضاد” سے تشبیہ دی۔
جبکہ غزہ کی پٹی میں "انروا” کے مستقبل سے متعلقہ تحاریک کا سلسلہ جاری ہے، تو ہزاروں ملازمین کے خلاف متوقع اقدامات آنے والے مرحلے میں ایجنسی کے کام کی نوعیت اور ان خدمات کے حجم کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں جو وہ پٹی میں جاری وسیع انسانی ضروریات کے تناظر میں فراہم کرنے کے قابل ہو سکے گی۔
غزہ میں انروا کو نشانہ بنانا اس کے کردار کو گھٹانے کی کوششوں کا حصہ :هویدی
دوسری جانب فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کے دفاع کے لیے قائم "ادارۂ 302” کے جنرل ڈائریکٹر علی هویدی نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین "انروا” کو جن حالات کا سامنا ہے، وہ اس کے کردار کو گھٹانے اور اس کی موجودگی کو محدود کرنے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہیں، انہوں نے اس کے پناہ گزینوں کی حقیقی زندگی اور ان کے مسئلے کے مستقبل پر پڑنے والے اثرات سے خبردار کیا۔
هویدی نے ایک پریس بیان میں مزید کہا کہ ایجنسی کو نشانہ بنانے کا دائرہ کار صرف مالی یا انتظامی پہلو تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ بنیادی خدمات کی فراہمی میں اس کے تشخص اور کردار تک پھیلا ہوا ہے، اور انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ اس کردار میں کمی لانا بین الاقوامی برادری کی طرف سے ایجنسی کو دیے گئے مینڈیٹ کو کمزور کرنے کے دروازے کھولتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ انروا فلسطینی پناہ گزینوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے نظام کا ایک لازمی جزو ہے، خصوصاً تعلیم، صحت، ریلیف اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں، اور اشارہ کیا کہ ان خدمات میں کوئی بھی اضافی تنزلی براہِ راست غزہ کی پٹی میں لاکھوں پناہ گزینوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
ہویدی کا کہنا تھا کہ ایجنسی کو درپیش یہ دباؤ غزہ کے انتہائی مشکل انسانی حالات کے سائے میں سامنے آ رہے ہیں، جو اس کی خدمات میں کمی کو پناہ گزینوں کے لیے مزید تکلیف دہ بنا دیتے ہیں، جن کی ایک بڑی تعداد انروا کی فراہم کردہ خدمات اور امداد پر منحصر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں انروا کو حاشئے پر دھکیلنے یا بعض انسانی کوآرڈینیشن کے دائروں سے اسے نکال باہر کرنے کی باتیں اس کے کام کے مستقبل کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیتی ہیں، اور یہ کہ ان اقدامات کو ایک وسیع تر راستے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا جس کا مقصد انروا کی موجودگی کو سمیٹنا اور تدریجی طور پر اس کے کردار کو دوسرے فریقوں کی طرف منتقل کرنا ہے۔
هویدی نے زور دیا کہ اصل ضرورت انروا کی پشت پناہی کرنا اور اسے تفویض کردہ مینڈیٹ کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے قابل بنانا ہے، نہ کہ اس کی جگہ لینے والے متبادل تلاش کرنا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کی خدمات کا تسلسل گھٹایا جانا عملی طور پر اس ایجنسی کو اس کے بنیادی کردار سے تہی دست کرنے کے مترادف ہو گا، چاہے ادارہ جاتی طور پر اس کا وجود برقرار ہی کیوں نہ رہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ انروا کے مالی بحران کا حل بنیادی خدمات میں کمی کے ذریعے تلاش کرنے سے اس بحران کا بوجھ پناہ گزینوں پر منتقل ہوتا ہے، نہ کہ خسارے کے اسباب کو حل کرنے اور ایجنسی کے لیے پائیدار فنڈنگ کی فراہمی سے۔
هویدی نے اس بات پر شدید زور دیا کہ انروا کا مسئلہ صرف انسانی خدمات تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ براہِ راست فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے سے جڑا ہوا ہے، اور یہ کہ ایجنسی کو کمزور کرنا یا اس کے کردار کا خاتمہ ریلیف کے دائرے سے نکل کر پناہ گزینوں کے کاز کے سیاسی اور قانونی پہلو کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
انہوں نے کہا کہ انروا کا اپنے فرائض کی انجام دہی کو جاری رکھنا ایک واضح بین الاقوامی مؤقف کا متقاضی ہے جو اس کے مینڈیٹ کی حفاظت کرے اور اس کے کام کے لیے درکار وسائل کی فراہمی کو یقینی بنائے، انہوں نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور ڈونرز سے پرزور اپیل کی کہ وہ ایجنسی اور فلسطینی پناہ گزینوں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں۔
هویدی نے اس بات پر اپنی بات ختم کی کہ غزہ کی پٹی کے لیے مستقبل کے کسی بھی بندوبست کو انروا کے کردار یا پناہ گزینوں کے حقوق کی قیمت پر ہرگز طے نہیں پانا چاہیے. انہوں نے خبردار کیا کہ ایجنسی کی موجودگی کا تدریجی زوال ایسے خلاء کو جنم دے سکتا ہے جسے کوئی دوسرا ادارہ کبھی پر نہیں کر پائے گا۔