غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسرائیلی جیلوں میں قید دو فلسطینی ڈاکٹروں حسام ابو صفیہ اور مروان الہمص کی بگڑتی ہوئی صحت پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان کی فوری رہائی اور طبی سہولیات کی فراہمی کے مطالبات میں شدت آ گئی ہے، کیونکہ رپورٹس کے مطابق وہ شدید تشدد اور علاج سے محرومی کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ اور تمام طبی عملے کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ماہرین نے کہا کہ بغیر کسی الزام یا مقدمے کے ان کی حراست اسرائیلی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینی صحت کے نظام کو تباہ کرنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ڈاکٹر ابو صفیہ کو شدید تشدد کا سامنا ہے اور ان کی حالت اتنی بگڑ چکی ہے کہ ان کی جان کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ جو کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر تھے کو 27 دسمبر 2024 کو ہسپتال پر دھاوے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ دل کے عارضے اور ہائی بلڈ پریشر سمیت کئی دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور حراست کے دوران ان کی صحت مسلسل گر رہی ہے۔
دوسری جانب فلسطینی مرکز برائے دفاعِ اسیران نے اطلاع دی ہے کہ ڈاکٹر مروان الہمص بھی قید میں انتہائی سنگین صورتحال کا شکار ہیں۔ انہیں دل کی دوا سے محروم رکھا گیا ہے اور انہیں بھوک، تنہائی اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مرکز کے مطابق، فروری سے دوا نہ ملنے کے باعث ان کی جان کو ہر وقت خطرہ ہے۔ الہمص نے گرفتاری کے بعد سے اب تک 20 کلوگرام وزن کھو دیا ہے جو وہاں جاری بھوک اور تشدد کی پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔
مرکز نے ’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘، عالمی ادارہ صحت اور ریڈ کراس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کریں اور ڈاکٹر الہمص کی صحت کی صورتحال کا جائزہ لے کر ان کی رہائی کے لیے عملی قدم اٹھائیں۔