غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اتوار کے روز قابض اسرائیل کی طرف سے خان یونس اور غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں تین شہری شہید اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ لرزہ خیز سانحہ اس وقت رونما ہوا جب قابض دشمن کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
ایک مقامی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ خان یونس شہر کے مغرب میں واقع محلہ الامل پر قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں شیرخوار شہری محمد شافعی ناصر الدين (عمر ایک سال) شہید ہو گئے۔
اس کے علاوہ اتوار کے روز ہی وسطی غزہ کی پٹی میں واقع شہر دیر البلح پر قابض فوج کی بمباری سے دو شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
ہمارے نامہ نگار نے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دیر البلح شہر کے مغرب میں عقیلہ اسٹریٹ کے قریب قابض فوج کے ڈرون طیاروں کی جانب سے شہریوں کے ایک گروپ پر کیے گئے بم حملے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت دو شہداء اور ایک بچی سمیت متعدد زخمی ہسپتال لائے گئے۔
غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع جبالیا کیمپ میں قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک بچی زخمی ہو گئی جبکہ غزہ شہر کے شمال مغرب میں واقع التوام کے علاقے میں ایک نوجوان گولی لگنے سے زخمی ہوا۔
قابض فوج کی توپ خانہ بمباری کا نشانہ قطاع کے شمال میں جبالیا کیمپ کا مشرقی علاقہ اور پٹی کے جنوب میں رفح شہر کا شمال مغربی علاقہ بنا جبکہ اسی دوران قطاع کے وسط میں البريج کیمپ کے مشرق میں قابض اسرائیلی گاڑیوں کی طرف سے شدید فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
قابض فوج نے غزہ کے شمالی حصے میں دھماکہ خیز مواد کے ذریعے عمارتوں کو اڑانے کا عمل بھی انجام دیا۔
گذشتہ روز ہفتے کے روز قابض اسرائیل کے فضائی حملوں اور غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر کیے گئے دیگر وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں چار شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
قابض اسرائیلی فوج فضائی اور توپ خانے کی بمباری کے ذریعے بے گھر افراد کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے، نام نہاد یلو لائن کے اندر تباہی و بربادی اور عمارتوں کو اڑانے کے عمل کے ساتھ ساتھ سامانِ رسد، امدادی اشیا اور سفر کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کر کے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل پاماری کر رہی ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال دس اکتوبر کو جنگ بندی کے آغاز سے لے کر اب تک شہداء کی تعداد بڑھ کر 1315 ہو چکی ہے جبکہ 4361 افراد زخمی ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ 815 لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی جارحیت کے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 73,449 شہداء اور 174,472 زخمیوں تک پہنچ چکی ہے جو قابض دشمن کی اس جاری نسل کشی کی انتہائی سنگین انسانی قیمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔