غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی کے وسطی شہر دیر البلح میں پیر کے روز اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایک بچے سمیت تین شہری شہید ہو گئے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب قابض اسرائیلی افواج پیر کے روز بھی غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں گولہ باری، عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے اور فائرنگ کے ذریعے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ آج صبح دیر البلح کے علاقے ‘البرکہ’ کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے میں تین شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ شہداء کی شناخت 8 سالہ بچے مالک وائل ابو شاوش اور دو شہریوں علی فائز اسبیطان اور حسن سلمان الحناجرہ کے طور پر ہوئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، آج فجر کے وقت سے ہی قابض افواج نے خان یونس کے شمال مشرق میں کم از کم چار عمارتوں کو دھماکوں سے اڑا دیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ شہر کے مشرقی حصوں میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
قابض فورسز نے نصیرات اور بریج کیمپوں کے شمال میں اور وادیِ غزہ کے پل کے قریب بھی شدید فائرنگ کی۔
قابض اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ یہ خلاف ورزیاں بے گھر افراد کے ٹھکانوں پر فضائی اور توپ خانے سے گولہ باری، ‘یلو لائن’ کے اندر عمارتوں کو تباہ کرنے، اور سامان، امداد اور سفر پر عائد پابندیوں کی صورت میں جاری ہیں۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، 10 اکتوبر 2025ء کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 1041، جبکہ زخمیوں کی تعداد 3372 تک پہنچ چکی ہے، اس کے علاوہ 786 لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔
7 اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں مجموعی طور پر اب تک تقریباً 73,054 فلسطینی شہید اور 173,480 زخمی ہو چکے ہیں، جو اس جاری جارحیت کی بھاری انسانی قیمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔