غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں "انہوں نے آپ سے جھوٹ بولا” مہم کا آغاز
صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے بین الاقوامی رضاکاروں کے ساتھ مل کر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر #کذبوا_عليكم (انہوں نے آپ سے جھوٹ بولا) کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ایک وسیع ڈیجیٹل مہم کا آغاز کیا ہے۔
غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے بین الاقوامی رضاکاروں کے ساتھ مل کر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر #کذبوا_عليكم (انہوں نے آپ سے جھوٹ بولا) کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ایک وسیع ڈیجیٹل مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں پر جاری نسل کشی کی جنگ کو اجاگر کرنا اور ان بیانیوں کو مسترد کرنا ہے جو جنگ بندی یا جارحیت کے رکنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
اس مہم کا مقصد غزہ کے باشندوں کی حقیقی زندگی کی عکاسی کرنا اور اس میڈیا گمراہی کا مقابلہ کرنا ہے جسے منتظمین فلسطینیوں کے مصائب پر پردہ ڈالنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ اس مہم کے ذریعے مسلسل بمباری کے سائے میں جینے والے لوگوں کی انسانی اور میدانی صورتحال کو دنیا کے سامنے لایا جا رہا ہے۔
غزہ کے قلب سے میدانی دستاویزی ثبوت
کذبوا_عليكم مہم ان ویڈیو کلپس، تصاویر اور عینی شاہدین کی شہادتوں پر مبنی ہے جو خود غزہ کی پٹی کے اندر موجود شہریوں اور صحافیوں نے شیئر کی ہیں۔ یہ مواد تصدیق کرتا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے 10 اکتوبر 2025ء کو جنگ بندی کے اعلان کے باوجود شہریوں اور رہائشی محلوں کو نشانہ بنانا جاری رکھا ہوا ہے۔
اس مہم میں غزہ کے سیکڑوں کارکنان، مواد بنانے والے (Content Creators) اور میڈیا کے نمائندے شریک ہیں، جن کے ساتھ عرب اور غیر ملکی رضاکاروں کا نیٹ ورک بھی شامل ہے۔ اس کا مقصد فلسطینی بیانیے پر عائد "ڈیجیٹل محاصرے” کو توڑنا اور اس پیغام کو متعدد زبانوں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے۔
خلاف ورزیوں کے اعداد و شمار
مہم کے منتظمین نے غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے جاری کردہ اعداد و شمار سے اپنے پیغام کو تقویت دی ہے، جو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے مسلسل خلاف ورزیوں کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
قابض اسرائیلی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی 3,689 خلاف ورزیاں کیں۔
ان حملوں کے نتیجے میں 1,122 فلسطینی شہید اور 3,599 زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
انسانی، طبی امداد اور ایندھن کی فراہمی ضرورت کے 35 فیصد سے بھی کم رہی ہے، جس سے قحط اور صحت کا بحران شدید تر ہو گیا ہے۔
حقیقت جاننے کے لیے اپیل
مہم کے منتظمین نے عالمی میڈیا اور بین الاقوامی حقوقِ انسانی کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ گمراہ کن بیانیوں کے پیچھے لگنے کے بجائے غزہ کی میدانی صورتحال پر توجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی خاموشی یا صرف سیاسی بیانات تک محدود رہنا قابض دشمن کو قتل و غارت اور بے دخلی جاری رکھنے کے لیے بالواسطہ کور فراہم کرتا ہے۔
صحافی اور مبصرین کیا کہتے ہیں؟
صحافی یوسف الدموکی کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی جنگ کے آغاز سے ہی خون بہہ رہی ہے اور یہاں کے باشندے "زندگی اور موت کے آخری حد فاصل” پر پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داری صرف ان پر نہیں جو جنگ رکنے کا جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہیں، بلکہ ان پر بھی ہے جو اس پر یقین کر لیتے ہیں۔
صحافی احمد ہمدان نے وضاحت کی کہ یہ مہم اس لیے شروع کی گئی تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ جنگ ختم نہیں ہوئی، بلکہ عالمی ترجیحات بدلنے کے باعث اب میڈیا کی سرخیوں سے غائب ہو گئی ہے۔
محقق علی ابو رزق نے کہا کہ غزہ نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے بدترین راتوں میں سے ایک کا سامنا کیا، جس میں اسرائیلی بمباری نے متعدد شہروں اور محلوں کو تباہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کا شہری اب صرف اپنے بنیادی حق کا مطالبہ کرتا ہے: ایک ایسی رات جہاں بمباری نہ ہو، اور ایک ایسا دن جس میں کسی نئے شہید یا کسی خاندان کے مکمل مٹ جانے کی خبر نہ ہو۔
متاثرین کی تازہ ترین تعداد
وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگ بندی کے بعد سے کل شہداء کی تعداد 1,127 اور زخمیوں کی تعداد 3,643 ہو گئی ہے۔ 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک مجموعی جارحیت میں شہداء کی تعداد 73,250 اور زخمیوں کی تعداد 173,751 تک پہنچ چکی ہے۔