غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کے ساحلوں سے پچاس برس سے زائد عرصہ قبل غرق ہونے والے ایک بحری جہاز کے ملبے سے فلسطینی باشندے بچ جانے والےسیمنٹ کو نکالنے اور اسے دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ منظر اس بحران کی شدت کو بخوبی واضح کرتا ہے جس کا سامنا اس خطے کو قابض اسرائیل کی طرف سے جاری محاصرے، تعمیراتی مواد کے داخلے پر پابندی اور جنگ بندی اور تعمیرِ نو سے متعلق تمام وعدوں کی قابض ریاست کی طرف سے خلاف ورزی کی وجہ سے ہے۔ ایک وقت تھا جب سیمنٹ گھروں کی تعمیر اور ان کی مرمت کے لیے بنیادی مادہ کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن اب سمندر سے نکالے گئے پرانے بلاک ایک نایاب ذریعہ بن چکے ہیں جن سے مکین قابض اسرائیل کی طرف سے جاری نسل کشی کے دوران محدود معیار اور ابتدائی وسائل کے باوجود فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
شمال مغربی غزہ میں فلسطینی باشندے سیمنٹ کے ان پتھروں کو باریک پیسنے میں مصروف ہیں جنہیں انہوں نے پاکستانی بحری جہاز ساتیا کے ملبے سے نکالا تھا جو سنہ 1973ء میں اس خطے کے ساحل کے قریب ڈوب گیا تھا، جنہیں بعد میں سادہ چکیوں میں لے جا کر دوبارہ پیسا جاتا ہے اور تعمیراتی اور محدود مرمتی کاموں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ ان مقداروں کے ذرائع صرف جہاز کے ملبے تک محدود نہیں ہیں، کیونکہ کارکن بندرگاہ کے بقایا جات، مصری منصوبوں اور سابقہ کارروائیوں کے نتیجے میں باقی رہنے والے ٹاورز سے بھی سیمنٹ اکٹھا کرتے ہیں۔
سمندری ملبے کا سیمنٹ تعمیراتی مواد کا متبادل
منرو کے ذمہ دار محمد ابو وردہ وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کارکن تین بنیادی ذرائع سے سیمنٹ اکٹھا کرتے ہیں، جن میں بندرگاہ کی باقیات، مصری ٹاورز کے منصوبے شامل ہیں، اس کے علاوہ ڈوبنے والے جہاز کا ملبہ بھی اس میں شامل ہے۔ اس کے بعد وہ اسے لوہے کے ہتھوڑوں سے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑتے ہیں اور اسے بوریوں میں بھرنے کے بعد ابتدائی چکیوں تک پہنچاتے ہیں، جن میں سے بعض دراصل مصالحوں اور دبکے کے کاموں میں استعمال ہونے والے مواد کو پیسنے کے لیے مخصوص ہیں۔
محمد ابو وردہ کا کہنا ہے کہ بجلی کی عدم موجودگی، اسپیئر پارٹس اور ضروری آلات کی قلت کام کی دشواری کو دوگنا کر دیتی ہے، انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ نکالا گیا سیمنٹ پرانا اور پتھر بناہوا ہے اور اسے تعمیراتی کاموں میں قابلِ استعمال بنانے کے لیے دیگر مواد ملانے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن یہ ری انفورسڈ کنکریٹ کی ڈلائی کے لیے موزوں نہیں ہے اور ان کے اندازے کے مطابق دوبارہ ری سائیکل کی گئی اس پروڈکٹ کا معیار اور تعمیر کے لیے اس کی افادیت نئے سیمنٹ کے معیار کے 50 سے 60 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔
قیمتیں بحران کے ایک اور رخ کو بے نقاب کرتی ہیں، کیونکہ جنگ سے پہلے سیمنٹ کی ایک بوری کی قیمت تقریباً 20 سے 23 شیکل سے بڑھ کر اب 500 سے 600 شیکل ہو چکی ہے، جب کہ ویلڈنگ راڈز کے کارٹن کی قیمت 60 سے 70 شیکل سے چھلانگ لگا کر تقریباً 9 ہزار شیکل تک پہنچ گئی ہے، اور پروجیکٹ کے ذمہ داروں کے بیان کے مطابق گرائنڈنگ سٹون کی قیمت 4 شیکل سے بڑھ کر 70 شیکل ہو چکی ہے۔
بحران صرف مہنگائی تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا دائرہ کار ری سائیکلنگ کے عمل کے لیے درکار آلات اور مواد کی ندرت تک پھیلا ہوا ہے، کیونکہ کارکنوں کو لوہے کے ہتھوڑوں، ویلڈنگ کے ٹکڑوں اور اسپیئر پارٹس کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، جو اس منصوبے کے تسلسل کو دستیاب محدود وسائل پر منحصر بنا دیتا ہے، ایسے وقت میں جب مکینوں کو اپنے تباہ شدہ گھروں کی مرمت کی ضرورت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
وسیع پیمانے پر تباہی اور لاکھوں خاندان بے سروسامان
غزہ میں وزارتِ تعمیراتِ عامہ و رہائش کی طرف سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار ان ضروریات کے حجم کی عکاسی کرتے ہیں جو سیمنٹ اور تعمیراتی مواد کو اشد ضرورت بناتی ہیں، وزارت کی طرف سے آٹھ اکتوبر سنہ 2026ء کو شائع کردہ ایک مجموعی اعدادو شمارنے ظاہر کیا کہ 227,703 عمارتیں اور تقریباً 510 ہزار رہائشی یونٹ متاثر ہوئے، جن میں 335 ہزار یونٹس کلی طور پر منہدم ہو چکے ہیں، اور 75 ہزار یونٹس رہنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔
وزارت نے ہنگامی بنیادوں پر پناہ کی ضرورت والے خاندانوں کی تعداد کا تخمینہ تقریباً تین لاکھ 50 ہزار خاندان لگایا ہے، جو کہ تباہی کے حجم اور رہائش کی فراہمی یا قابلِ مرمت حصوں کی درستگی کے لیے دستیاب وسائل کے درمیان بڑھتے ہوئے خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس حقیقت کی روشنی میں سیمنٹ کے داخلے پر پابندی کا اثر صرف تباہ شدہ گھروں کی دوبارہ تعمیر کو معطل کرنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ متاثرہ عمارتوں کی مرمت اور ساختی مضبوطی کے کاموں میں بھی رکاوٹ بنتا ہے اور میونسپلٹیز اور متعلقہ اداروں کی پانی، سیوریج، سڑکوں اور عام تنصیبات کے نیٹ ورکس کی مرمت کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے، اس کے علاوہ ہزاروں خاندانوں کو انتہائی کسمپرسی کے شکار رہائشی متبادل کے سامنے چھوڑ دیتا ہے۔
وزارتِ تعمیرات کی طرف سے ملبے کے انتظام میں کی جانے والی کوششیں مقامی متبادل پر انحصار کے حجم کو بے نقاب کرتی ہیں، جیسا کہ وزارت نے 10 جنوری سے 5 فروری سنہ 2026ء کے درمیان میدانی کاموں کے نفاذ کا اعلان کیا، جس میں 21,154 ٹن ملبہ اکٹھا کرنا، 39,999 ٹن کو توڑنا اور مختلف خدماتی کاموں میں 22,028 ٹن کا دوبارہ استعمال کرنا شامل ہے، جن میں سڑکوں اور عام سہولیات کی مرمت اور بحالی شامل ہے۔
جنگ بندی کا نفاذ تعمیرِ نو کا راستہ نہیں کھولتا
تعمیراتی مواد بالخصوص سیمنٹ اور لوہے کے داخلے پر قابض اسرائیل کی طرف سے جاری پابندیوں کے ساتھ یہ بحران مزید سنگین ہو جاتا ہے، اس کے باوجود کہ جنگ بندی سے جڑے ہوئے مفاہمتیں اور وہ انسانی ضروریات، بحالی کے لوازمات اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے بہاؤ کو ممکن بناتی ہیں۔
غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے پچھلے بیانات میں اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ قابض ریاست نے طے کردہ ٹرکوں کی مقدار کا احترام نہیں کیا اور نہ ہی بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال کے لیے درکار مواد اور ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری آلات کے داخلے کی اجازت دی، اس نے سیمنٹ کو ان مواد میں شامل کیا جن کے خطے میں داخلے پر پابندی عائد ہے، اس کے علاوہ پانی اور سیوریج کی پائپ لائنیں، لکڑی، لوہا اور بحالی کے لیے دیگر ضروری مواد بھی شامل ہیں۔
جنگ بندی کے پہلے مرحلے کی قابض ریاست کی طرف سے ہونے والی خلاف ورزیوں کے حوالے سے آفس کی طرف سے اعلان کردہ ایک حصار میں اس نے کہا کہ خطے نے 95 دنوں کے دوران 24,611 ٹرک وصول کیے، جبکہ 57 ہزار ٹرک داخل کیے جانے تھے، مقرره 600 ٹرکوں کے بجائے روزانہ اوسطاً 259 ٹرک آئے، اور اس کے 15 جنوری سنہ 2026ء کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پابندی کا تناسب 43 فیصد رہا۔
جبکہ لاکھوں خاندان اپنے گھروں کو واپس لوٹنے یا محفوظ رہائش حاصل کرنے کے مواقع کے منتظر ہیں، فلسطینی خود کو اس بات پر مجبور پاتے ہیں کہ وہ دہائیوں پہلے غرق ہونے والے بحری جہاز کے ملبے میں سیمنٹ کی تلاش کریں، اور اسے ایسی ابتدائی مشینوں سے دوبارہ پیسیں جو صرف سادہ استعمال کے لیے محدود مقدار فراہم کرتی ہیں۔
یہ منصوبہ تعمیراتی بحران کا حل پیش نہیں کرتا، بلکہ اس اضطرار کے حجم کی تجسیم کرتا ہے جو غزہ کے محاصرے کی وجہ سے خطے پر مسلط ہے، جب سمندر کی طرف سے نصف صدی قبل پھینکا گیا مادہ ایک ایسا مادہ بن جاتا ہے جس کے ذریعے مکین اپنے گھروں کے بچے ہوئے حصوں کی مرمت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسے وقت میں جب بنیادی تعمیراتی مواد اب بھی خطے میں داخلے کے لیے ممنوع یا مقید ہے۔