میڈرڈ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے اثرات اور یورپی یونین کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے مرتب کرنے کی کوششوں کے تناظر میں اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک یورپی یونین کو ایک تجویز پیش کرے گا جس میں تل ابیب کے ساتھ شراکت داری کے معاہدے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام بعض یورپی دارالحکومتوں کے موقف میں بتدریج تبدیلی کا عکاس ہے۔
سانچیز نے کہا کہ میڈرڈ منگل کے روز یورپی یونین کے اداروں میں اسرائیل کے ساتھ موجودہ شراکت داری کے معاہدے کو ختم کرنے کے لیے ایک باضابطہ اقدام پیش کرے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ قدم جاری پیش رفت کے بارے میں یورپی موقف پر وسیع تر نظرثانی کے دائرہ کار میں اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس تجویز کے منظور ہونے کے امکانات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ پہل اسپین کے اس موقف کے تناظر میں سامنے آئی ہے جو حالیہ مہینوں کے دوران اسرائیلی پالیسیوں پر شدید تنقید پر مبنی رہا ہے۔ میڈرڈ غزہ میں جنگ کے خاتمے اور تل ابیب کے ساتھ سیاسی و اقتصادی تعلقات پر نظرثانی کرنے والی ان آوازوں میں سرفہرست رہا ہے جو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے بڑھتے ہوئے الزامات کے درمیان اٹھ رہی ہیں۔
یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ جو سنہ 2000ء میں نافذ ہوا تھا، دو طرفہ تعلقات کو منظم کرنے والا اہم فریم ورک ہے۔ یہ معاہدہ تجارت، اقتصادی، سیاسی اور سائنسی تعاون سمیت وسیع شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ معاہدہ اسرائیل کو یورپی مارکیٹ میں اہم تجارتی مراعات فراہم کرتا ہے جس کے بدلے اسرائیل انسانی حقوق کے احترام سے متعلق شقوں پر عمل کرنے کا پابند ہے، جو یورپی یونین کے اداروں کے اندر بارہا بحث کا موضوع رہا ہے۔
گذشتہ برسوں کے دوران یورپی سطح پر اس معاہدے کو معطل کرنے یا اس پر نظرثانی کرنے کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں، خاص طور پر فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کے تسلسل کے تناظر میں، لیکن یورپی یونین کے اندر اختلافات کی وجہ سے یہ مطالبات عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔ کئی ممالک اسرائیل کے خلاف اجتماعی تعزیری اقدامات کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔
غزہ میں نسل کشی کی جنگ اور علاقائی کشیدگی میں اضافے کے بعد، بشمول لبنان اور ایران پر جارحیت، یہ بحث دوبارہ تازہ ہو گئی ہے۔ اس صورتحال نے یورپی سیاسی اور شہری قوتوں کو اس بات پر اکسایا ہے کہ وہ تل ابیب کے ساتھ تعلقات کا جامع جائزہ لیں جس میں شراکت داری کے معاہدے کو معطل کرنا یا تعاون پر پابندیاں عائد کرنا شامل ہے۔
اگرچہ اسپین اس معاملے میں سیاسی زور لگانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ایسی کسی تجویز کا منظور ہونا یورپی یونین کے رکن ممالک کے مابین پیچیدہ اتفاق رائے پر منحصر ہے۔ رکن ممالک کے موقف میں تضاد اس اقدام کو یورپی یونین کے لیے ایک نئے امتحان کے طور پر پیش کرتا ہے کہ آیا وہ قابض اسرائیل کے حوالے سے کوئی زیادہ سخت اور متحد پالیسی تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔