غزہ – (روزنامہ قدس – آنلائن خبر رساں ادارہ) تین سال سے زیادہ عرصہ قبل غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہنما یحییٰ السنوار شہید نے اس راستے کے بارے میں بات کی تھی جس کا سامنا اسرائیل کو خود سے اس وقت کرنا پڑ سکتا ہے اگر وہ قبضے، یہودی بستیوں کی تعمیر اور بین الاقوامی قراردادوں کے انکار کو جاری رکھے۔ اس وقت ان کا بیان کسی محدود عسکری جنگ کے بارے میں نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے وسیع مساوات کے بارے میں تھا جو میدان جنگ سے لے کر سیاست اور بین الاقوامی معاشرے تک پھیلی ہوئی ہے۔
السنوار نے سات اکتوبر سنہ 2023ء سے چند ماہ قبل دیے گئے ایک خطاب میں کہا تھا کہ قابض ریاست کو مختصر مدت کے دوران دو میں سے ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ یا تو بین الاقوامی قانون کا نفاذ کیا جائے، غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس سے انخلا کیا جائے، یہودی بستیوں کو ختم کیا جائے، اسیران کو رہا کیا جائے اور پناہ گزینوں کی واپسی کی اجازت دی جائے، یا پھر وہ ”پورے بین الاقوامی عزم کے ساتھ تضاد کی حالت“ میں چلی جائے، جس کا نتیجہ اس کی تنہائی اور خطے اور دنیا میں اس کے انضمام کے خاتمے کی صورت میں نکلے۔
جنگ کے بعد کئی میڈیا اداروں نے یہ بیان دوبارہ شائع کیا، اسے ان نمایاں ترین بیانات میں سے ایک قرار دیا گیا جن میں السنوار نے میدانی محاذ آرائی اور اسرائیل کی بین الاقوامی حیثیت کے مستقبل کے درمیان رابطہ قائم کیا تھا۔
اس خطاب کے برسوں بعد بین الاقوامی میدان اس منظر سے بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے جو جنگ سے پہلے قائم تھا۔
چنانچہ ستمبر سنہ 2025ء میں دو ریاستی حل سے متعلق اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس سے وابستہ تقریبات کے دوران دس ممالک نے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 157 تک پہنچ گئی۔
السنوار کے خطاب سے لے کر اعتراف کی تبدیلیوں تک
بین الاقوامی اعترافات ہی اکیلی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں تھی، ستمبر سنہ 2025ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطینی مسئلے کے پرامن تصفیے اور دو ریاستی حل کے نفاذ سے متعلق ”نیویارک اعلامیے“ کی 142 ووٹوں کی اکثریت سے توثیق کی، جبکہ 10 ممالک نے اس کی مخالفت کی اور 12 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
ستمبر سنہ 2026ء میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے کہا کہ بہت سے ممالک نے ایک سال قبل ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنے میں شمولیت اختیار کی تھی، اسی کے ساتھ انہوں نے یہ انتباہ بھی کیا کہ ایک آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے درکار حالات کا کٹاؤ جاری ہے ۔ انہوں نے یہودی بستیوں کی توسیع کو روکنے، الحاق روکنے، فلسطینی اداروں کی حمایت کرنے اور قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
یہ حقائق اس کا مطلب یہ نہیں ہیں کہ فلسطینی ریاست کا قیام ایک زمینی حقیقت بن چکا ہےاور نہ ہی یہ کہ قبضہ ختم ہو چکا ہے، لیکن یہ فلسطینی مسئلے کے تئیں بین الاقوامی موقف میں ایک اہم تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔یہ کہ فلسطینی ریاست کے اعتراف کا دائرہ ایک محدود دائرے سے نکل کر ایسے وسیع دائرے تک پھیل گیا ہے جس میں وہ مغربی ممالک بھی شامل ہیں جو تاریخی طور پر اسرائیل کے نمایاں ترین اتحادی رہے ہیں۔
وہ منظر جو عارضی نہیں تھا
24 ستمبر سنہ 2026ء کو اس راستے کا ایک انتہائی علامتی منظر اس وقت سامنے آیا جب قابض حکومت کے سربراہ بنجمن نتنياهو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اسٹیج پر قدم رکھا۔
اپنی تقریر شروع کرنے سے پہلے ہی رائیٹرز کی رپورٹ کے مطابق درجنوں مندوبین نے فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہال سے واک آؤٹ کیا۔ نتنياهو نے واک آؤٹ کرنے والوں کو ”اخلاقی لحاظ سے بزدل“ کہہ کر جواب دیا اور پھر وفود کے باہر جانے کے بعد ہال کے سامنے اپنی تقریر جاری رکھی۔
اس طرح ہال کی تصویر خود اس واقعے کا ایک حصہ بن گئی، اسرائیلی حکومت کا سربراہ سب سے بڑے بین الاقوامی فورم سے خطاب کر رہا ہے، جبکہ کئی وفود اس جگہ سے باہر جا رہے ہیں جہاں وہ اپنی تقریر کر رہے تھے۔
یہ محض کوئی پروٹوکول کا منظر نہیں تھا، رائیٹرز نے نتنياهو کی تقریر کو ایجنسی کی بیان کردہ بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی کے مقابلے میں اسرائیل کا دفاع کرنے کی ایک کوشش قرار دیا، ایسے وقت میں جب بیرونی دباؤ اسرائیل میں داخلی سیاسی تقاضوں کے ساتھ متصادم ہو رہا ہے۔
السنوار نے ”تنہائی“ کی بات کی تھی.. کیا بدلا؟
یہاں السنوار کے الفاظ دوبارہ سامنے آتے ہیں اس لےیے نہیں کہ یہ کوئی ایسی پیش گوئی ہے جس کے مکمل سچ ہونے کا ثبوت دیا جا سکے، بلکہ ایک ایسے سابقہ بیان کے طور پر جس کا بعد میں رونما ہونے والے واقعات سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
چنانچہ السنوار نے قبضے کے تسلسل اور اسرائیل اور بین الاقوامی عزم کے درمیان وسیع ہوتے ہوئے تضاد کے درمیان تعلق جوڑا تھا ۔ خاص طور پر اس احتمال کا ذکر کیا تھا کہ اسرائیل ایک ایسے مرحلے پر پہنچ سکتا ہے جہاں خطے اور دنیا میں اس کے انضمام کی حالت زوال پذیر ہو جائے۔
اکتوبر 2023ء کے بعد فلسطینی مسئلے کو بین الاقوامی میدان میں وسیع پیمانے پر پذیرائی ملی، فلسطین کے اعتراف میں اضافہ ہوا اور اقوام متحدہ کے ایسے بار بار موقف سامنے آئے جن میں قبضے کے خاتمے اور یہودی بستیوں کی بندش کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ اسرائیل کو بڑھتی ہوئی تنقید اور قانونی و سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
لیکن تصویر مکمل نہیں ہے کیونکہ اسرائیل اب بھی وسیع بین الاقوامی تعلقات اور اتحادوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے، جن میں سرفہرست امریکہ کے ساتھ اس کا تعلق ہے، اسی طرح فلسطینی ریاست کا اعتراف خود بخود زمین پر اس کے قیام یا قبضے کے خاتمے کا ضامن نہیں ہے۔ لہٰذا جو کچھ ہو رہا ہے اسے ”مکمل تکمیل“ قرار دینا ان حقائق سے تجاوز کرتا ہے جو حالات اجازت دیتے ہیں، جبکہ زیادہ درست انداز میں اسرائیل کے گردونواح کے بین الاقوامی ماحول میں ایک واضح تبدیلی کی بات کی جا سکتی ہے۔
علاقائی انضمام سے لے کر نئے سوالات تک
جنگ سے پہلے اسرائیل اپنے علاقائی اور بین الاقوامی تعلقات کے جال کو وسعت دینے کے لیے کام کر رہا تھا، متعدد عرب ممالک کے ساتھ معمول پر لانے کا راستہ اس کی خارجی پالیسی کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے ایک تھا۔
جبکہ جنگ کے بعد یہ راستہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے، جو غزہ کی جنگ سے جڑے بڑھتے ہوئے دباؤ، فلسطین کے بین الاقوامی اعتراف کے دائرے کی وسعت، اور بین الاقوامی سفارتی بحث کے مرکز میں فلسطینی مسئلے کی واپسی کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔
اس تناظر میں خطے اور دنیا میں ”انضمام کی حالت کے خاتمے“ کے بارے میں السنوار کی بات اس وسیع تر بحث کا حصہ بن جاتی ہے جو اس بات کے گرد گھومتی ہے کہ جنگ اور قبضے اور یہودی بستیوں کے تسلسل کے سائے میں اسرائیل اپنی بین الاقوامی تصویر اور مقام کو برقرار رکھنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسرائیل کے بین الاقوامی تعلقات تباہ ہو چکے ہیں، بلکہ شواہد دو متوازی راستوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں،اہم اتحادوں کا جاری رہنا اور اس کے مقابلے میں ان ممالک کے رقبے میں وسعت جو فلسطین کو تسلیم کرتے ہیں اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ.. وہ تصویر جو تبدیلی کا احاطہ کرتی ہے
شاید اس تضاد کا احاطہ بہت سے الفاظ نہیں کر سکتے جتنا کہ ایک ہی تصویر کرتی ہے۔ نتن ياهو اقوام متحدہ کے اسٹیج پر کھڑا ہے، جبکہ درجنوں مندوبین ہال سے باہر جا رہے ہیں۔
چنانچہ اس جگہ پر جسے اسرائیل نے دہائیوں تک دنیا کے سامنے اپنا من گھڑت اور جھوٹا بیانیہ پیش کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہا، خود وہی تصویر اس کی بین الاقوامی حیثیت کے بارے میں بحث کا حصہ بن گئی۔
المیہ یہ ہے کہ نتنياهو نے اس منظر کو نظر انداز نہیں کیا، بلکہ اس کا براہ راست مقابلہ کیا اور ہال سے جانے والوں پر تنقید کیا، تاکہ واک آؤٹ کو اسرائیل کے مخالفین کے ساتھ ایک سیاسی محاذ آرائی میں تبدیل کیا جا سکے لیکن وفود کا بائیکاٹ میڈیا کی کوریج میں اس خطاب کے نمایاں ترین واقعات میں سے ایک کے طور پر موجود رہا۔
کیا السنوار کی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی؟
سب سے زیادہ درست جواب ہاں یا نا میں نہیں ہے، اگر تنہائی سے مراد اسرائیل کے بین الاقوامی تعلقات کا انہدام اور اس کے اتحادوں کا منقطع ہونا ہے، تو ایسا نہیں ہوا کیونکہ اسرائیل اب بھی با اثر ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
جبکہ اگر اس سے مراد اسرائیل اور ایک بڑے بین الاقوامی معاشرے کے درمیان وسیع ہوتی خلیج، فلسطین کے بڑھتے ہوئے اعتراف، بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید اور غزہ کی جنگ کا عالمی سیاست کا مرکزی مسئلہ بن جانا ہے تو السنوار کے بیان کے بعد کے برسوں میں درحقیقت ایسی پیش رفتیں ہوئیں جن کا موازنہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے جس کا انہوں نے ذکر کیا تھا۔
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ پیش رفت کسی خلا میں واقع نہیں ہوئی بلکہ یہ ایک ایسی جنگ کے بعد سامنے آئی جس نے بین الاقوامی ایجنڈے پر فلسطینی مسئلے کے مقام کو بدل دیا اور عالمی بحث کے مرکز میں قبضے، یہودی بستیوں، فلسطینی ریاست اور بین الاقوامی قانون کے سوالات کو دوبارہ اٹھایا۔
یہاں سے السنوار کی ”پیش گوئی“ کو اس کہانی کے طور پر نہیں پڑھا جا سکتا جو مکمل تکمیل پر ختم ہوئی، بلکہ اسے ایک ایسے سابقہ سیاسی بیان کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو بدلتے ہوئے بین الاقوامی منظر نامے کے ساتھ مزید نمایاں ہو گیا ہے۔
چنانچہ وہ شخص جس نے سات اکتوبر سے پہلے اس احتمال کے بارے میں بات کی تھی کہ اسرائیل ایک ایسے مرحلے پر پہنچ جائے گا جہاں وہ بین الاقوامی عزم سے متصادم ہوگا، اس نے اس منظر کو نہیں دیکھا جو اس کے بعد تشکیل پانے لگا؛ لیکن وہ اپنے پیچھے ایک ایسا جملہ چھوڑ گئے جو آج بھی اس وقت دہرایا جاتا ہے جب بھی فلسطین کے اعتراف کا دائرہ وسیع ہوتا ہے، جب بھی اسرائیل نئی بین الاقوامی تنقید کا سامنا کرتا ہے، جب بھی اقوام متحدہ کا اسٹیج خود اس کی حکومت کے سربراہ کی تقریر سے باہر جانے والے وفود کی تصویر کا تماشا بن جاتا ہے۔
آخرکار کہانی شاید اس سوال میں نہیں ہے کہ آیا السنوار نے مستقبل کی ”پیش گوئی“ کی تھی یا نہیں، بلکہ یہ ایک دوسرے اور زیادہ اہم سوال میں مضمر ہے: چند سالوں کے اندر اندر فلسطینی مسئلے کو بین الاقوامی توجہ کے مرکز سے باہر رکھنے کی کوشش سے نکال کر ایک ایسے مقام پر کیسے منتقل کر دیا گیا جہاں اسرائیل کی اپنی پالیسیاں ایک بڑھتی ہوئی سیاسی، قانونی اور سفارتی محاذ آرائی کا نشانہ بن چکی ہیں؟