غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) بارہ سالہ محمد ریاض غبون غزہ شہر کے محلہ ‘صبرہ’ میں اپنے خاندان کے تباہ شدہ گھر کے ملبے پر کسی نئے گھر کے بننے کا انتظار نہیں کر رہا، بلکہ وہ ان پیاروں کی باقیات کا منتظر ہے جو آٹھ ماہ سے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس کا واحد خواب یہ ہے کہ طویل انتظار کے بعد انہیں کم از کم قبر نصیب ہو جائے۔
محمدسے چند قدم کے فاصلے پر صرف ایک کھدائی کرنے والی مشین (ایکسویٹر) اپنی محدود صلاحیت کے باوجود تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار لاشوں اور انسانی باقیات کی تلاش میں مصروف ہے، جو اسرائیلی نسل کشی کے دوران تباہ ہونے والے مکانات کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ ہفتے کے روز ہلال احمر کی مدد سے سول ڈیفنس کی ٹیموں نے انتہائی محدود وسائل کے ساتھ یہ آپریشن دوبارہ شروع کیا ہے، لیکن ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ سست رفتار سے یہ کام مکمل ہونے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
غزہ میں لاشوں کی بازیابی کا یہ عمل ایندھن اور بھاری مشینری کی قلت کے باعث گذشتہ کئی مہینوں میں بارہا معطل ہو چکا ہے۔ سول ڈیفنس نے آخری بار 12 مئی کو ملبے سے لاشیں نکالنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد ہفتے کے روز غبون خاندان کے 8 لاپتہ افراد کی تلاش کا آغاز کیا گیا۔
اکتوبر 2025ء کے جنگ بندی معاہدے تک جاری رہنے والی اسرائیلی نسل کشی کے نتیجے میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 73 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ تقریباً 90 فیصد شہری بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، جس نے سول ڈیفنس کی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا ہے اور ہزاروں متاثرین تک ان کی رسائی کو ناممکن بنا دیا ہے۔
انتہائی سست اور کٹھن آپریشن
غزہ میں سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ وسائل اور بھاری مشینری کی کمی کے باعث بازیابی کا عمل انتہائی سست ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کے مختلف علاقوں میں اب بھی ساڑھے آٹھ ہزار لاشیں اور باقیات ملبے تلے موجود ہیں، جبکہ کام کی راہ میں بھاری آلات کی قلت اور میدانی خطرات جیسی بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔
بصل نے ایک انسانی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ "ہم تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ دستیاب وسائل ملبے تلے موجود شہداء اور لاپتہ افراد کی بڑی تعداد کو سنبھالنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمیں ضروری بھاری مشینیں، کھدائی کرنے والی مشینیں اور خصوصی آلات فراہم کر دیے جائیں تو ہم یہ کام صرف 3 ماہ میں مکمل کر سکتے ہیں، بصورتِ دیگر موجودہ سست رفتار سے یہ کام برسوں جاری رہے گا۔
یاد رہے کہ 10 اکتوبر 2025ء کے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیل کو ضروری بھاری مشینری اور آلات داخل کرنے کی اجازت دینی تھی، تاہم غزہ میں حکومتی ذرائع اور دھڑوں کے مطابق اسرائیل نے اس معاہدے کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔
دردناک یادیں اور ادھوری امیدیں
تلاشی کے اس عمل کے دوران 12 سالہ محمد ریاض غبون اپنی آنکھوں میں آنسو اور دل میں امید لیے کھڑا ہے۔ وہ خود بھی اسی گھر کے ملبے سے زخمی حالت میں نکالا گیا تھا۔ وہ کہتا ہےکہ "میرے اندر ایک عجیب سی بے چینی اور غم ہے، میں بس یہ چاہتا ہوں کہ اپنے پیاروں کی لاشیں دیکھ سکوں اور انہیں ان کی قبروں میں دفن کر سکوں”۔
مشینری کے فقدان کا اثر صرف لاشوں کی بازیابی میں تاخیر تک محدود نہیں بلکہ یہ لاپتہ افراد کے خاندانوں کے زخموں کو بھی تازہ رکھتا ہے جو اپنے پیاروں کی آخری رسومات تک سے محروم ہیں۔ بزرگ یوسف الزہارنہ کو یاد ہے کہ کس طرح ان کا پانچ منزلہ گھر بغیر کسی انتباہ کے بمباری کا نشانہ بنا جس میں تقریباً 45 بے گھر افراد پناہ گزین تھے۔ اس حملے میں ان کے تین بیٹے شہید ہوئے، جن میں سے ایک اب بھی ملبے تلے لاپتہ ہے۔
یوسف الزہارنہ کہتے ہیں کہ "ایک باپ ہونے کے ناطے یہ لمحہ میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ میں بس یہ چاہتا ہوں کہ مجھے میرے بیٹے کی باقیات یا اس کی ہڈیاں مل جائیں تاکہ میں اسے دفن کر سکوں اور میرے پاس ایک ایسی قبر ہو جس پر میں حاضری دے سکوں”۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق غزہ میں تباہی کے بعد ملبے کا حجم تقریباً 50 سے 68 ملین میٹرک ٹن ہے۔ اس وسیع و عریض ملبے کے انبار کے نیچے لاپتہ افراد کو تلاش کرنا ایک ایسا پیچیدہ چیلنج ہے جو موجودہ حالات میں ایک ناممکن مشن معلوم ہوتا ہے، مگر انسانیت آج بھی ان باقیات کی بازیابی کی منتظر ہے۔