غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے عسکری ونگ شہید عز الدين القسام بریگیڈز نے منگل کے روز بڑے فخر کے ساتھ اپنے عظیم قائد، عسکری کونسل کے عمومی رکن اور غزہ کے شمالی بریگیڈ کے کمانڈر شہید عز الدين عبد العزيز البیک کی شہادت کا اعلان کیا۔
البیک اپنے ساتھی مہند ابو فول کے ساتھ منگل کی فجر کو شہر غزہ کے مغرب میں واقع النصر محلے میں مفترق اللبابیدی کے قریب ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر قابض دشمن کے طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں شہید ہو گئے۔
القسام بریگیڈز نے ایک عسکری بیان میں کہا کہ البیک نے انتفاضہ الاقصیٰ کے دوران شمالی بریگیڈ میں پہلی اسپیشل یونٹ کی کمان سنبھالی، پھر سنہ 2004ء میں شہید عماد عقل بٹالین کی کمان سنبھالی۔ اس سے پہلے کہ انہوں نے سنہ 2015ء میں بریگیڈ میں ملٹری انٹیلی جنس کی کمان سنبھالی، تاکہ وہ سات اکتوبر کو تاریخی یلغار کی نگرانی کرنے والے "طوفان الاقصیٰ” آپریشنز روم کے کمانڈروں میں سے ایک بن سکیں۔
بریگیڈز نے مزید کہا "پھر ہمارے مجاہد شہید نے بڑے کمانڈر احمد الغندور (ابو انس) کے جانشین کے طور پر شمالی بریگیڈ کی کمان سنبھالی، تاکہ شمالی غزہ کے بریگیڈ میں تمام جھڑپوں کے دوران مزاحمت کی طرف سے لڑی جانے والی شدید دفاعی جنگ کی قیادت کریں۔ انہوں نے اپنے مجاہد بھائیوں کے ساتھ شمالی غزہ کے محاصرے کے دوران 107 دن تک استقامت دکھائی اور جنگ لڑی، جس کا نام ‘جنرلز پلان’ رکھا گیا تھا، جسے انہوں نے اللہ کے فضل کے بعد ہمارے عوام کے صبر اور ہمارے جنگجوؤں کی جرأت کے بل بوتے پر ناکام بنا دیا۔”
بیان میں کہا گیا "ہم آج اپنے کمانڈر کو رخصت کرتے ہوئے اپنے منصفانہ اور مقدس کاز کی صداقت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ یہ کہ یہ ہم سے ہر قیمتی اور عزیز قربانی کا تقاضا کرتا ہے، وہ راستہ جسے ابو حمزه اور ان کے بھائیوں نے خون سے سینچا ہے، وہی نصرت اور آزادی کی طرف ہمارا پل ہے”۔
بریگیڈز نے مزید کہا "دشمن کی سفاکیت میں جتنا اضافہ ہوگا، ہمارے چھوٹوں سے لے کر بڑوں تک کے سینوں میں انتقام کی آگ اتنی ہی بھڑکے گی اور وہ اسے اس دن کے لیے محفوظ رکھیں گے جس دن وہ اللہ اور انسانیت کے دشمنوں کے چہروں کو بگاڑ دیں گے، ان کی بلندیوں کو تہہ و بالا کر دیں گے، تاکہ ملک اور بندوں کو ان کے شر سے نجات دلائیں۔”