• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
منگل 5 مئی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

فلسطینی مزاحمت کے ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کے پسِ پردہ اصل مقاصد کیا ہیں؟

جب بھی سیاسی اور ابلاغی حلقوں میں مزاحمت کے ہتھیاروں کی دستبرداری کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے، تو بات صرف چند بندوقوں یا مادی اسلحے تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ یہ پورے مرحلے کی ایک نئی تعریف متعین کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔

منگل 05-05-2026
in خاص خبریں, رپورٹس, صیہونیزم
0
فلسطینی مزاحمت کے ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کے پسِ پردہ اصل مقاصد کیا ہیں؟
0
SHARES
0
VIEWS

غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) جب بھی سیاسی اور ابلاغی حلقوں میں مزاحمت کے ہتھیاروں کی دستبرداری کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے، تو بات صرف چند بندوقوں یا مادی اسلحے تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ یہ پورے مرحلے کی ایک نئی تعریف متعین کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ دفاع کا حق کس کے پاس ہے، سکیورٹی کی شرائط کون مسلط کرے گا، اور کس سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنے دفاعی پتے دشمن کے حوالے کر دے، جبکہ قابض اسرائیل کی جانب سے قتل و غارت، محاصرہ اور جارحیت کا سلسلہ مسلسل جاری ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کو محض ایک تکنیکی تفصیل یا کسی تصفیہ سے پہلے کی انتظامی شرط کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ اس کی بنیاد بیک وقت سیاسی، قومی اور اخلاقی ہے۔

ہتھیاروں کی دستبرداری محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں

مزاحمت کے ہتھیار چھیننے کو "استحکام” کے لیے ایک لازمی قدم بنا کر پیش کرنے کی ہر کوشش ایک سادہ سی حقیقت کو نظر انداز کر دیتی ہے: فلسطین میں منظم تشدد کی اصل جڑ قابض اسرائیل ہے۔ وہی زمین پر قابض ہے، وہی غزہ کی پٹی کا محاصرہ کیے ہوئے ہے، وہی مغربی کنارے کے شہروں پر دھاوے بولتا ہے، ہزاروں فلسطینیوں کو اغوا کر کے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں ڈالتا ہے اور کسی بھی حقیقی فلسطینی خودمختاری کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ آج وہ غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور مقبوعہ بیت المقدس میں بلا جواز انسانیت کا خون بہا رہا ہے اور لبنان و شام میں بھی اپنی سفاکیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

مزید برآں، قابض اسرائیل غزہ کے مشرقی علاقوں میں مسلح جتھوں اور گینگوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے، ان کی پشت پناہی کر رہا ہے اور انہیں غزہ کے شہریوں کے خلاف غلیظ مشن سونپ رہا ہے، جن میں ڈکیتی، قتل اور اغوا کی وارداتیں شامل ہیں۔

اس تلخ حقیقت کے سائے میں، اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مزاحمت کے پاس ہتھیار کیوں ہیں؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ قابض اسرائیل کے خاتمے کا کوئی حقیقی عزم ظاہر کیے بغیر، قبضے تلے دبے ایک مظلوم عوام کو ان کے دفاعی ہتھیاروں سے محروم کرنے کی ضد کیوں کی جا رہی ہے؟

ہتھیاروں کی دستبرداری کا پرچار کرنے والا بیانیہ درحقیقت اس مفروضے پر مبنی ہے کہ مسئلہ فلسطینیوں کی طرف سے شروع ہوا ہے، نہ کہ اس استعماری نظام سے جس نے اس ٹکراؤ کو جنم دیا۔ یہ ایک جانبدارانہ سوچ ہے جو بحث کو حقوق اور آزادی کے بجائے سکیورٹی مینجمنٹ اور آبادی کو کنٹرول کرنے کی طرف موڑ دیتی ہے۔ جب اس عظیم مقصد کو محض ایک سکیورٹی شق میں سمو دیا جاتا ہے، تو پوری تاریخ کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے: چاہے وہ نکبہ ہو، غیر قانونی بستیوں کی تعمیر ہو، جبری بے دخلی ہو، محاصرہ ہو یا وہ عالمی جانبداری جس نے قابض اسرائیل کو فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ سیاسی تحفظ بھی فراہم کر رکھا ہے۔

مزاحمت کے ہتھیاروں کی دستبرداری کا مطالبہ بار بار کیوں کیا جاتا ہے؟

یہ مطالبہ کسی خلا سے پیدا نہیں ہوتا، اور نہ ہی اس لیے دہرایا جاتا ہے کہ یہ کوئی حقیقت پسندانہ حل ہے، بلکہ یہ مختلف فریقوں کے مفادات کو پورا کرتا ہے۔ قابض اسرائیل ایک ایسی مزاحمت چاہتا ہے جس کے پاس طاقت نہ ہو، ایسی آبادی چاہتا ہے جس کا کوئی محافظ نہ ہو، اور غزہ کی پٹی کو ہتھیاروں سے پہلے ارادے اور عزم سے محروم دیکھنا چاہتا ہے۔ کچھ بین الاقوامی قوتیں اس معاملے کو "تنازع کے حل” کے بجائے "تنازع کے انتظام” کی نظر سے دیکھتی ہیں، وہ ایک ایسی عارضی خاموشی چاہتی ہیں جو سرحدوں کے کنٹرول اور سیاسی قیمت میں کمی کو یقینی بنائے، چاہے دھماکے کے اصل اسباب اپنی جگہ موجود رہیں۔

اسی طرح، بعض علاقائی اور بین الاقوامی فریق مزاحمت کے ہتھیاروں کو ایک ایسی گرہ سمجھتے ہیں جو نسل کشی کے بعد کے انتظامات کی راہ میں رکاوٹ ہے یا ایسی قوتوں کے اثر و رسوخ کو دوبارہ جنم دے سکتی ہے جنہیں وہ ابھرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہاں ہتھیار صرف غزہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایک بڑے معرکے کا عنوان بن جاتے ہیں کہ فلسطینی سیاسی نظام کی شکل کیا ہوگی، اور اس انتہائی حساس موڑ پر فلسطینی عوام کی نمائندگی کا حق کس کے پاس ہوگا۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ تجویز اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتی ہے کہ مزاحمت محض ادارہ جاتی خلا سے پیدا نہیں ہوئی، بلکہ یہ تحفظ کے فقدان کی وجہ سے وجود میں آئی ہے۔ جب دفاع مفقود ہو تو جارحیت بڑھ جاتی ہے۔ جب فلسطینیوں سے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ محض ضمانتوں پر بھروسہ کریں، جبکہ تاریخ دھوکوں اور بے وفائیوں سے بھری پڑی ہے، تو ہتھیار ڈالنے کی بات کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی مقتول سے اس جلاد کے سامنے اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کا مطالبہ کرنا جو اس کے وجود اور حقوق کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔

زمین پر ہتھیاروں کی دستبرداری کے کیا معنی ہیں؟

سیاسی طور پر اس کا مطلب طاقت کے توازن کو مکمل طور پر قابض اسرائیل کے حق میں جھکا دینا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہتھیاروں نے قبضے کا مکمل خاتمہ نہیں کیا، اور یہ جزوی طور پر درست ہے، لیکن ان ہتھیاروں نے قابض اسرائیل کو اپنی شرائط من مانی طور پر مسلط کرنے سے بھی روکے رکھا ہے۔ مسلح مزاحمت کی موجودگی نے اگرچہ مصائب کو مکمل ختم نہیں کیا، لیکن اس نے جارحیت کی قیمت کو دشمن کے لیے بہت مہنگا بنا دیا ہے اور قابض اسرائیل کو ان حساب کتاب پر مجبور کیا ہے جن کی اسے اس صورت میں ضرورت نہ پڑتی اگر فلسطینی قوم مکمل طور پر نہتی اور بے بس ہوتی۔

معاشرتی طور پر، فلسطینی ماحول میں ہتھیار کو محض لڑائی کا آلہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے اپنے دفاع اور قومی وقار کے فطری حق کے اظہار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسی لیے اس کی دستبرداری پر کوئی بھی بحث اس سوال سے الگ نہیں ہو سکتی کہ: یہ مطالبہ کون کر رہا ہے؟ اس کے بدلے میں کیا ملے گا؟ اور اس کی ضمانتیں کیا ہیں؟ کیا اس میں جارحیت کا خاتمہ، محاصرے کا خاتمہ، بستیوں کی تعمیر کا خاتمہ، اسیران کی رہائی اور فلسطینی حقوق کا حقیقی اعتراف شامل ہے؟ یا مقصد صرف فلسطینیوں کی طاقت چھین کر انہیں دوبارہ اسی طاقت کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ہے جس کا تجربہ وہ گذشتہ کئی دہائیوں سے کر رہے ہیں؟

سکیورٹی کے حوالے سے بعض حلقے یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ ہتھیاروں کی دستبرداری سے خود بخود تعمیر نو، راہداریوں کا کھلنا اور امداد کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔ لیکن فلسطینی تجربہ بتاتا ہے کہ قابض اسرائیل انسانی ضروریات کو ہمیشہ سیاسی بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وعدے کیے جاتے ہیں، تو وہ اکثر مشروط اور معطل ہوتے ہیں۔ لہٰذا خوراک، تعمیر نو اور ادویات کو مزاحمت کے ہتھیاروں کے بدلے سیاسی قیمت بنانا کوئی انسانی راستہ نہیں، بلکہ اجتماعی جبر کی ایک بدترین شکل ہے۔

ریاست اور ہتھیار: کیا معاملہ اتنا سادہ ہے؟

سب سے زیادہ دہرایا جانے والا بیانیہ یہ ہے کہ "صرف ریاست کو ہتھیار رکھنے کا حق ہونا چاہیے”۔ اصولی طور پر کسی بھی مستحکم سیاسی نظام میں یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اسے فلسطینی صورتحال پر اس کی اصل شکل میں لاگو کرنا معاملے کو بہت سادہ بنا کر پیش کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ فلسطینی کسی ایسی ریاست میں نہیں رہ رہے جس کے پاس مکمل خودمختاری، محفوظ سرحدیں اور دشمن کے ارادوں سے آزاد ادارے ہوں۔

ایسی کوئی فلسطینی ریاست موجود نہیں جو ہتھیاروں پر مکمل اختیار رکھتی ہو اور قابض دشمن سے ہٹ کر سکیورٹی معاملات سنبھال سکے۔ یہاں ایک محدود اور تنہا اتھارٹی ہے، مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے درمیان بٹی ہوئی حقیقت ہے، ایسی سرحدیں ہیں جن پر قابض اسرائیل کا کنٹرول ہے، فضا اور سمندر دشمن کی نگرانی میں ہیں، اور روزانہ کے دھاوے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ فلسطینی خودمختاری نہ صرف ناقص ہے بلکہ اسے اغوا کر لیا گیا ہے۔ ایسے سیاق و سباق میں "ریاست سے باہر ہتھیاروں” کی بات کرنا ایک ایسی بحث ہے جس پر گہری نظر ڈالنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اصل مسئلہ صرف طاقت کے مراکز کا تعدد نہیں، بلکہ ایک آزاد ریاست کا نہ ہونا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ فوجی فیصلوں یا قومی مرجع کے بارے میں کوئی بھی اندرونی فلسطینی بحث غیر قانونی ہے۔ اس کے برعکس، یہ مسائل انتہائی حساس اور اہم ہیں۔ لیکن یہاں ترجیحات کا تعین فیصلہ کن ہے: کیا ہتھیاروں کی تنظیم ایک ایسے جامع قومی منصوبے کے فریم ورک کے اندر زیر بحث ہے جو مزاحمت کے حق کو محفوظ رکھتا ہو؟ یا ہتھیاروں کی دستبرداری کو ایک ایسی پیشگی شرط کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو بیرونی قوتوں کی طرف سے قابض اسرائیل کی ضروریات کے مطابق فلسطینی میدان کو ڈھالنے کے لیے مسلط کی گئی ہے؟ ان دونوں راستوں کے درمیان فرق بہت بڑا اور تقدیر ساز ہے۔

اس تناظر میں اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے ترجمان حازم قاسم نے اس بات پر زور دیا کہ مزاحمت کے ہتھیاروں کا مسئلہ ایک "اندرونی فلسطینی معاملہ” ہے، جسے قومی مذاکرات اور سیاسی و میدانی اتفاق رائے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، تاکہ اگلے مرحلے میں جدوجہد کی شکل اور فلسطینی عمل کے مختلف میدانوں کے کردار کا تعین کیا جا سکے۔

حازم قاسم نے اپنے گذشتہ اخباری بیانات میں کہا کہ قابض اسرائیل کی طرف سے ہتھیاروں کی دستبرداری کی مسلسل باتیں "اسرائیلی ہتھیاروں کے جرائم پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے”۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "اصل بے لگام اور مجرم ہتھیار قابض اسرائیل کا ہے جسے امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے، اور جس کا استعمال غزہ کی پٹی کی تباہی، وہاں کے باشندوں کے محاصرے اور انہیں گذشتہ دو سالوں سے بھوکا مارنے کے لیے کیا گیا ہے”۔

غزہ اور مغربی کنارے میں مزاحمت کے ہتھیار: مختلف حالات، ایک ہی تقدیر

غزہ میں ہتھیاروں کا تعلق محاصرے، بار بار کی جنگوں اور عوامی ارادے کو توڑنے کی مسلسل کوششوں سے ہے۔ لہٰذا وہاں ہتھیاروں کی دستبرداری کا مطالبہ محض تناؤ کم کرنے کا اقدام نہیں، بلکہ غزہ کی سیاسی اور سکیورٹی کی بنیاد پر ازسرنو تشکیل کی کوشش ہے۔ بہت سی تجاویز کا مقصد ایک ایسا غزہ بنانا ہے جس میں جوابی کارروائی کی صلاحیت نہ ہو، جس کا مزاحمتی ڈھانچہ اثر انداز نہ ہو سکے، اور جس کی انتظامیہ اسرائیلی اور بین الاقوامی شرائط کے مطابق خود کو ڈھال سکے۔

آج ایک اور خطرناک پہلو سامنے آیا ہے، اور وہ ہے قابض اسرائیل کے مسلح جتھوں اور گینگوں کا پھیلاؤ۔ ایسے میں یہ تصور کیسے کیا جا سکتا ہے کہ ایک طرف تو یہ جرائم پیشہ گروہ اسلحہ لہرائیں اور قتل و غارت اور غنڈہ گردی کریں، اور دوسری طرف قوم کے محافظوں سے ہتھیار چھین لیے جائیں؟

جہاں تک مغربی کنارے کا تعلق ہے، وہاں کا منظرنامہ بظاہر مختلف ہے لیکن حقیقت میں جڑا ہوا ہے۔ قابض اسرائیل پہلے ہی مسلح مزاحمت کی ہر شکل کا پیچھا کر رہا ہے، اور مزاحمت کاروں کے میدانی ڈھانچے کو توڑنے کے لیے دھاووں، ٹارگٹ کلنگ اور گرفتاریوں کا سہارا لے رہا ہے۔ اس کے باوجود، اس سفاکیت نے مزاحمت کے جذبے کو دبانے کے بجائے اسے نئی شکلوں میں دوبارہ زندہ کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہتھیار تنازع کی وجہ نہیں بلکہ اس کا نتیجہ ہیں۔ جب تک غاصبانہ قبضہ برقرار ہے اور بڑھ رہا ہے، دفاع کے آلے کو چھین لینے سے اصل وجہ ختم نہیں ہو جاتی۔

جنگ کے بعد: شرائط کون لکھے گا؟

کسی بھی بڑے پیمانے کی جارحیت کے بعد، وہی سوال ایک شدید دباؤ کے ساتھ لوٹتا ہے: غزہ کا انتظام کون سنبھالے گا، سکیورٹی کی ضمانت کون دے گا، تعمیر نو کے لیے فنڈز کون فراہم کرے گا، اور کیا اس کی قیمت مزاحمت کے ہتھیاروں کی دستبرداری ہوگی؟ یہ مساوات عام طور پر اس طرح پیش کی جاتی ہے جیسے یہ حقیقت پسندانہ ہو اور اس کا کوئی متبادل نہ ہو، لیکن حقیقت میں یہ ایک خطرناک مفروضے پر مبنی ہے: یعنی صرف فلسطینی فریق کو بنیادی رعایتیں دینی چاہئیں، جبکہ قابض اسرائیل کسی بھی حقیقی پابندی سے آزاد رہے۔

کوئی بھی سنجیدہ راستہ اس بات سے شروع نہیں ہو سکتا کہ پہلے فلسطینیوں سے ان کی طاقت چھین لی جائے اور پھر انہیں بھروسہ کرنے کا کہا جائے۔ سنجیدہ راستہ جارحیت کی بندش، محاصرے کے خاتمے، تعمیر نو کی ضمانت، اجتماعی سزا کی پالیسیوں کے خاتمے اور سکیورٹی مینجمنٹ کے بجائے حقوق پر مبنی ایک حقیقی سیاسی افق کھولنے سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد فلسطینی خود قومی مرجع کی شکل، اندرونی معاملات کی ترتیب اور سیاسی منصوبے کے ساتھ ہتھیاروں کے تعلق پر بحث کر سکتے ہیں۔ لیکن باہر سے نتائج مسلط کرنا استحکام نہیں لائے گا، بلکہ یہ ایک آتش فشاں کے دہانے پر عارضی اور کمزور جنگ بندی ثابت ہوگی۔

سب سے خطرناک سوال: قبضے تلے دبے عوام کے پاس کیا باقی بچے گا؟

جب مزاحمت کے ہتھیاروں کی دستبرداری کا مطالبہ مسئلے کی جڑوں کو حل کیے بغیر کیا جاتا ہے، تو اصل میں مقصد فلسطینیوں کی ایک ایسی قوم کے طور پر نئی تعریف کرنا ہوتا ہے جسے صرف "مینیج” کیا جائے، نہ کہ ایسی قوم جو آزادی کا حق رکھتی ہو۔ پورے بیانیے میں یہی سب سے خطرناک بات ہے۔ یہاں مسئلہ صرف ہتھیاروں کی تمجید کا نہیں، اور نہ ہی ٹکراؤ کی بھاری قیمت سے انکار کا ہے، بلکہ اس مساوات کو مسترد کرنے کا ہے جو قابض کو مستقل برتری کا حق دیتی ہے اور مظلوم سے اس کے دفاع اور جوابی کارروائی کا حق چھین لینا چاہتی ہے۔

حقیقی حقیقت پسندی مسلط کردہ طاقت کی شرائط کو دہرانے میں نہیں، بلکہ یہ سمجھنے میں ہے کہ جو ترتیب انصاف پر مبنی نہ ہو وہ قائم نہیں رہ سکتی۔ ہتھیار طاقت، دباؤ یا محاصرے سے چھینے جا سکتے ہیں، لیکن وہ جذبہ نہیں چھینا جا سکتا جس نے انہیں جنم دیا ہے، جب تک کہ غاصبانہ قبضہ قائم ہے۔ فلسطین نے یہ بار بار ثابت کیا ہے، اور ہر اس قوم کا تجربہ یہی بتاتا ہے جو استعمار کے چنگل میں ہو۔

لہٰذا، مزاحمت کے ہتھیاروں کی دستبرداری پر کوئی بھی ذمہ دارانہ بحث طریقہ کار کے سوال سے پہلے "حق” کے سوال سے اور سکیورٹی کنٹرول کے سوال سے پہلے "آزادی” کے سوال سے شروع ہونی چاہیے۔ جب تک یہ بنیاد نہیں بدلتی، سکیورٹی کے بارے میں ہر بات محض فلسطینیوں کی سلامتی، وقار اور مستقبل کی قیمت پر قابض اسرائیل کی سکیورٹی کو مستحکم کرنے کی کوشش ہی رہے گی۔

Tags: DisarmamentgazaGeopoliticsHamasisraelMiddle East ConflictPalestinian ResistancePeace Processsecurity analysisStrategy
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.