کراچی (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) کتاب کے مصنف محمد اسامہ شفیق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب 7 اکتوبر 2023 سے 7 اکتوبر 2025 تک فلسطین کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات مغربی معاشروں میں ہونے والے احتجاج، سیاسی ردعمل اور فکری تبدیلیوں کو ایک دستاویزی شکل دینے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق کتاب کا مقصد صرف واقعات کو بیان کرنا نہیں بلکہ مغربی حکومتوں اور عوام کے مؤقف کے درمیان موجود فرق کو سمجھنا بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف غزہ تک محدود نہیں رہا بلکہ لندن، نیویارک، واشنگٹن، برلن اور پیرس سمیت دنیا کے مختلف شہروں میں عوامی احتجاج اور مباحث کا موضوع بنا۔ کتاب میں ان آوازوں اور تحریکوں کو محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جنہوں نے فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کی۔
محمد اسامہ شفیق نے کہا کہ کتاب کا صحافت سے گہرا تعلق ہے، کیونکہ صحافت کا بنیادی فریضہ اپنے عہد کے واقعات، حقائق اور آوازوں کو محفوظ کرنا ہے۔ غزہ کے صحافیوں نے جنگ کے دوران دنیا کو صرف خبریں نہیں دیں بلکہ حالات کی گواہی بھی دی اور اپنے فرائض کی انجام دہی میں جانوں کی قربانیاں پیش کیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے صحافیوں نے اپنے قلم، کیمروں اور آواز کو تاریخ کا حصہ بنا دیا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحافت محض خبر رسانی نہیں بلکہ گواہی بھی ہے۔ طاقتور مفادات اور ریاستی بیانیوں کے دباؤ کے باوجود سچ سامنے لانا صحافت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
مصنف کے مطابق کتاب کا مقصد آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسی دستاویز چھوڑنا ہے جس سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد مغربی معاشروں میں فلسطین کے بارے میں کیا سوچ پیدا ہوئی، عوام نے کیا ردعمل دیا اور فلسطین نے عالمی ضمیر کے سامنے کون سے سوالات کھڑے کیے۔
تقریب میں کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری اسلم خان، پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود، پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان، پروفیسر ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر، پروفیسر سید شاہد ہاشمی سمیت صحافیوں، اساتذہ، دانشوروں اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
تقریب کے اختتام پر مصنف نے شرکا، کراچی پریس کلب کی انتظامیہ اور تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ کتاب کی آواز کراچی پریس کلب جیسے معتبر صحافتی ادارے سے بلند ہوئی۔







