آج غزہ ہو یا لبنان ہو یا پھر یمن ہو یا ایران ہوسب کا زخمی بدن لہولہان تڑپ رہا ہے، اور ہم اپنی چھوٹی چھوٹی مصلحتوں، سیاسی بحثوں، باہمی اختلافات اور ذاتی مفادات کے اندھے کنویں میں اتنے مگن ہیں کہ ہمیں اس تڑپتے بدن کی کراہ سنائی ہی نہیں دے رہی۔
تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) کیا ہمارے اجتماعی ضمیر پر کوئی گہری اور عجیب سی خاموشی چھا گئی ہے؟ کیا ہم تاریخ کے بدترین اور سفاک ترین ظلم کو آہستہ آہستہ فراموش کرنے کے عادی ہو چکے ہیں؟ یہ سوال آج ہر اس دل سے اٹھ رہا ہے جس میں رائی برابر بھی انسانیت اور ایمان باقی ہے۔ غزہ کی گلیوں سے اٹھنے والا معصوم بچوں کے خون کا شور، اپنے لختِ جگر کے جنازے اٹھاتی مائیں، اور زخمیوں کو بچانے والے امدادی کارکنوں پر گرتے ہوئے بارود کی ویڈیوز،یہ سب وہ ہولناک حقائق ہیں جن سے ہماری سوشل میڈیا کی مصروف دنیا اور روزمرہ کا معاشرہ بڑی حد تک بے خبر یا لاتعلق نظر آتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے امتِ مسلمہ کو ایک جسم سے تشبیہ دی تھی، جس کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم بیدار رہ کر تڑپتا اور درد محسوس کرتا ہے۔ مگر آج غزہ ہو یا لبنان ہو یا پھر یمن ہو یا ایران ہوسب کا زخمی بدن لہولہان تڑپ رہا ہے، اور ہم اپنی چھوٹی چھوٹی مصلحتوں، سیاسی بحثوں، باہمی اختلافات اور ذاتی مفادات کے اندھے کنویں میں اتنے مگن ہیں کہ ہمیں اس تڑپتے بدن کی کراہ سنائی ہی نہیں دے رہی۔ یہ بے حسی صرف عوام تک محدود نہیں، بلکہ مسلم حکمرانوں کے ایوانوں پر بھی مصلحت پسندی اور خاموشی کا ایسا قفل لگ چکا ہے جس نے انسانیت اور ایمانی غیرت کو بہت پیچھے دھکیل دیا ہے۔ یاد رہے کہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی، اور آج کی یہ خاموشی آنے والے وقت میں مسلم امہ کے چہرے پر ایک سیاہ باب کی طرح لکھی جائے گی۔
موجودہ عالمی و علاقائی منظرنامے میں فلسطین محض کوئی جغرافیائی ٹکڑا یا علاقائی تنازع نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا کے امن اور امتِ مسلمہ کے وجود کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت یمن، لبنان اور ایران تک پھیلتی ہوئی جنگ کے شعلے دراصل اسی ایک مرکزی نقطے یعنی فلسطین پر جاری اسرائیل کے ناجائز تسلط اور خطے میں گریٹر اسرائیل کے گیم کا شاخسانہ ہیں۔
غاصب صیہونی حکومت اسرائیل اور اس کے سب سے بڑے سرپرست، امریکہ کی جنگ طلب اور توسیع پسندانہ پالیسیوں نے پورے خطے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔آج امریکہ اور اسرائیل کھلم کھلا عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ ایران سمیت جہاں بھی جس جگہ چاہتےہیں دہشتگردانہ عزائم کو انجام دیتے ہیں لیکن ان کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔
لبنان کے دارلحکومت بیروت اور جنوبی لبنان کی سرزمین کو مقتل بنانے کا مقصد فلسطین کے حق میں اٹھنے والی ہر آواز اور بازو کو توڑنا ہے۔کیونکہ لبنان میں موجود حزب اللہ کا ایک ہی مقصد ہے کہ فلسطین کی آزادی اور القدس کی بازیابی ۔لہذا حزب اللہ کو اس لئے نشانہ بنایا جا رہاہے تا کہ حزب اللہ فلسطین کاز کے لئے اپنی جدوجہد ترک کر دے۔ لیکن حزب اللہ نے بھی عہد کیا ہے کہ چاہے کچھ بھی قربانی دینا پڑے دیں گے لیکن فلسطین کی آزادی کی جدوجہد سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔
بحیرہ احمر میں یمن کی دلیرانہ کارروائیوں نے ثابت کیا ہے کہ جہاں دنیا کی بڑی طاقتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں، وہاں چند مٹھی بھر نہتے حریت پسندوں نے غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا۔فلسطین کی خاطر یمن پر میزائل گرائےگئے لیکن یمن نہیں جھکا۔ یمن کے بچوں کو قحظ کا شکار کرنے کی سعودی کوشش کی گئی جو تاحال جاری ہے لیکن یمن کا اعلان بھی واضح ہے کہ فلسطین کے لئے ہر چیز قربان کر سکتے ہیں لیکن فلسطین کو قربان نہیں ہونے دیں گے۔
ایران پر حملے اور سازشیں بھی اسی کڑی کا تسلسل ہے۔ ایران کو مسلسل امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جارحیت کا نشانہ بنانا اور اس کی خودمختاری پر حملے کرنا دراصل اس پورے مزاحمتی بلاک کو کمزور کرنے کی مذموم امریکی و اسرائیلی کوشش ہے جو فلسطین کے نصب العین کے پیچھے کھڑا ہے۔آیت اللہ خامنہ ای سمیت درجنوں اہم شخصیات نے اپنی جان اس لئے قربان کی تا کہ فلسطین کا پرچم بلند رہے۔
ان تمام جنگی حالات کا محور اور مرکز اول و آخر فلسطین اور القدس کی آزادی ہے۔ لبنان، یمن اور ایران میں گرنے والا ہر قطرۂ خون اور اٹھنے والا ہر محاذ دراصل غزہ کے مظلوموں کے دفاع کے سلسلے کی ہی کڑیاں ہیں۔
امریکہ کی جنگ طلب پالیسیاں اور اسرائیل کی سرپرستی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ایک طرف عالمی فورمز پر جنگ بندی کی منافقانہ باتیں کی جاتی ہیں اور دوسری طرف اسرائیل کو اربوں ڈالرز کا تباہ کن بارود فراہم کیا جاتا ہے تاکہ وہ معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی جاری رکھ سکے۔ یہ نام نہاد مہذب دنیا اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے چہرے پر وہ طمانچہ ہے جس نے اقوامِ متحدہ سمیت تمام عالمی اداروں کی بے حسی اور ناکامی کو دنیا کے سامنے ننگا کر دیا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر آج ہم نے اپنی ترجیحات نہ بدلیں، اگر ہم نے اپنی سستی اور بے عملی کی چادر نہ پھینکی اور مظلوم فلسطینیوں کے حق میں موثر اور عملی آواز بلند نہ کی، تو کل کو ہماری اپنی فریاد سننے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے ضمیر، نظریات اور انسانیت کا سودا کر لیتی ہیں، دنیا کے نقشے سے ان کا وقار، پہچان اور نام و نشان مٹ جاتا ہے۔
ہمیں اپنے ذاتی، فروعی اور سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر اٹھنا ہوگا۔ ہمیں اپنے حکمرانوں کو یہ باور کرانا ہوگا کہ اب زبانی جمع خرچ اور مذمتی بیانات کا وقت گزر چکا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم معاشی، سیاسی اور سفارتی محاذ پر اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کا عملی بائیکاٹ کریں۔
غزہ کی پکار دراصل ہمارے ایمان اور انسانیت کا امتحان ہے۔ اس بیداری کے سفر کا آغاز ہم میں سے ہر شخص کو اپنے گھر، اپنے قلم اور اپنے دائرہ کار سے کرنا ہوگا، ورنہ کل ہم اپنے بچوں کو اور روزِ محشر اپنے رب کو کیا جواب دیں گے؟