• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 11 ستمبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی میں مائیکروسافٹ کا کردار

مڈل ایسٹ آئی نے غاصب صیہونی رژیم کی سرکاری دستاویزات کی بنیاد پر فاش کیا ہے کہ مائیکروسافٹ نے 2024ء میں ایسے وقت اسرائیل سے 125 ملین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے جب غزہ جنگ اپنے عروج پر تھی۔

جمعرات 10-09-2026
in خاص خبریں, مقالا جات
0
مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی میں مائیکروسافٹ کا کردار
0
SHARES
0
VIEWS

تحریر: علی احمدی
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مڈل ایسٹ آئی نے غاصب صیہونی رژیم کی سرکاری دستاویزات کی بنیاد پر فاش کیا ہے کہ مائیکروسافٹ نے 2024ء میں ایسے وقت اسرائیل سے 125 ملین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے جب غزہ جنگ اپنے عروج پر تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مائیکروسافٹ کمپنی نے ٹیکنالوجی کے میدان میں مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی کرنے میں غاصب صیہونی رژیم سے بھرپور تعاون کیا ہے۔ یہ دستاویزات غاصب صیہونی رژیم کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہو چکی ہیں۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے: یہ معاہدہ اسرائیل کی اس سرکاری رپورٹ میں قابل مشاہدہ ہے جو 2024ء کے بجٹ کے بارے میں پیش کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ مارچ 2025ء میں اسرائیل کی وزارت خزانہ نے جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں مائیکروسافٹ کے ساتھ معاہدے کی بہت سی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔

2024ء میں مائیکروسافٹ سے طے پانے والے معاہدے میں مختلف سافٹ ویئرز اور ان کے اکٹیویشن کوڈز خریدے گئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 31 دسمبر 2024ء تک اسرائیل نے یہ رقم مائیکروسافٹ کو ادا نہیں کی تھی اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ معاہدہ 2027ء تک جاری رہے گا۔ رپورٹ میں خریدے گئے سافٹ ویئرز کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں اور یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ غاصب صیہونی رژیم کی وزارت جنگ کے کون سے شعبے انہیں استعمال کریں گے۔ مائیکروسافٹ نے بھی مڈل ایسٹ آئی کو اس بارے میں معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ گذشتہ برس بھی ایسوسی ایٹڈ پریس نے کچھ دستاویزات کی روشنی میں فاش کیا تھا کہ مائیکروسافٹ نے 2021ء میں اسرائیلی فوج سے 133 ملین ڈالر کا تین سالہ معاہدہ انجام دیا ہے۔

اسی طرح یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مائیکروسافٹ نے اسرائیل کو کسٹمر "ایس 500” کا کوڈ دے رکھا ہے۔ یاد رہے یہ کوڈ مائیکروسافٹ کمپنی کے ہائی پروفائل کسٹمرز کو دیا جاتا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے ایسے 635 مزید کوڈ نیم فاش کیے ہیں جو مائیکروسافٹ کمپنی نے بنا رکھے ہیں۔ ان میں ممرام اور 8200 بھی شامل ہیں۔ یاد رہے اسرائیلی فوج کی سائبر یونٹ 8200 مشہور ہے۔ مائیکروسافٹ کمپنی کے سابقہ کارکنان نے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ قوی امکان ہے کہ موجودہ معاہدہ 2021ء میں طے پانے والے معاہدے کی مدت بڑھانے پر مشتمل ہے۔ ان دونوں معاہدوں میں کچھ مشترکہ چیزیں پائی جاتی ہیں۔ گذشتہ معاہدہ بھی تین سالہ تھا جبکہ موجودہ معاہدہ بھی تین سال پر مشتمل ہے۔ گذشتہ معاہدہ 133 ملین ڈالر لاگت کا تھا جبکہ موجودہ معاہدہ بھی 125 ملین ڈالر کا ہے۔

مڈل ایسٹ آئی اس بارے میں مزید لکھتی ہے: "مائیکروسافٹ نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ساتھ اس کی تجارتی سرگرمیاں اب تک جاری ہیں۔ یہ سرگرمیاں گذشتہ طویل عرصے سے چل رہی ہیں اور مائیکروسافٹ کمپنی پچھلے لگ بھگ بیس سال سے اسرائیلی فوج کے ساتھ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کرنے میں مصروف ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کو ملنے والی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے مائیکروسافٹ نے کم از کم اپنے 9 ماہرین بھی غاصب صیہونی رژیم کو فراہم کیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں ایک اعلی افسر بھی شامل ہے جو صیہونی فوج کی یونٹ 8200 میں 14 برس سے کام کر رہا تھا جبکہ صیہونی ملٹری انٹیلی جنس کے شعبے میں ایک آئی ٹی کا سربراہ بھی اسی ٹیم کا حصہ تھا۔

مائیکروسافٹ کمپنی مقبوضہ فلسطین میں بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ تل ابیب کے باہر مائیکروسافٹ نے دو بڑی عمارتوں میں ڈیٹا سنٹر بنا رکھے ہیں جبکہ ہرتزیا میں بھی 46 ایکڑ پر مشتمل ایک مرکز بنا رکھا ہے۔ بعض رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مائیکروسافٹ کمپنی نے اکتوبر 2024ء سے اب تک کم از کم اپنے ایسے 9 افراد کو برطرف کر دیا ہے جنہوں نے اسرائیل سے تعاون کرنے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اسی طرح بڑی تعداد میں افراد گرفتار بھی کیے گئے ہیں۔ انہی میں سے ایک ڈیٹا شعبے کے ماہر عبدہ محمد تھے جنہیں ریڈمونڈ میں مائیکروسافٹ کے مرکزی دفتر کے باہر غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی یاد میں تقریب منعقد کرنے کے بعد کمپنی سے نکال دیا گیا تھا۔ عبدہ محمد نے بھی مائیکروسافٹ کمپنی اور اسرائیلی فوج کے درمیان تعاون کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

عبدہ محمد نے کہا: "حال ہی میں جس معاہدے کا انکشاف ہوا ہے اس سے ثابت ہو جاتا ہے کہ مائیکروسافٹ کمپنی، اس کی ٹیکنالوجی اور اس کے ماہرین مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ایسے وقت جب اسرائیل نے 2023ء اور 2024ء میں فلسطین بھر میں نسل کشی پر مبنی مجرمانہ اقدامات بڑھا دیے تھے ہمارے ساتھ بہت سے دیگر کارکنان نے مائیکروسافٹ کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ مائیکروسافٹ نے پوری آگاہی سے اسرائیلی فوج سے 100 ملین ڈالر سے زیادہ کا معاہدہ انجام دیا اور فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل کا پورا ساتھ دیا ہے۔” عبدہ محمد نے کہا کہ اسرائلی فوج نے غزہ جنگ میں مائیکروسافٹ کی جانب سے فراہم کردہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئرز کا بھرپور استعمال کیا تھا اور یہ استعمال وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا گیا۔

Tags: gazaGazaWarIsraeliOccupationMicrosoftMicrosoftIsraelpalestinePalestinianGenocideTechCompanies
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.