غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) تباہی و سفاکیت کے اس جہنم زار غزہ میں جہاں مسمار شدہ گھروں کے ڈھیروں تلے لوہے کے سرئیے کنکریٹ کی وحشیانہ گرفت میں قید ہیں، وہاں کے باہمت محنت کش روزانہ موت کو دعوت دے کر اپنی تقدیر بدلنے نکلتے ہیں۔ یہ محض روزگار کی تلاش نہیں بلکہ اپنے لختِ جگروں کی بھوک مٹانے کے لیے موت کے دہانے پر کیا جانے والا ایک ایسا سودا ہے جس کی قیمت صرف خون سے ادا کی جا سکتی ہے۔
ہاتھوں میں بوسیدہ اور ناکارہ اوزار لیے یہ لوگ بھاری ہتھوڑوں کے وار سے کنکریٹ کی سینہ چاک کرتے ہیں۔ ان کے ہتھوڑوں کی ہر گونج موت کے سائے میں ہوتی ہے، تاکہ لوہے کے ان ٹکڑوں کو نکالا جا سکے جو کبھی ان کے گھروں کی بنیاد تھے اور آج اسی ملبے سے نکل کر ان کی زندگی کا سہارا بننے کی تڑپ رکھتے ہیں۔ یہ لوہا صرف دھات نہیں، بلکہ غزہ کے محاصرہ زدہ عوام کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہے، جو تعمیراتی مواد کی بندش کے اس تاریک دور میں ایک نعمت سے کم نہیں۔
ملبہ اب صرف درندگی کی نشانی نہیں رہا، بلکہ یہ ان ہزاروں بے گھر انسانوں کی آخری پناہ گاہ بن چکا ہے جہاں سے وہ اپنی بقا کا سامان کشید کرتے ہیں۔ قابض اسرائیل کی مسلط کردہ اس نسل کشی کی جنگ میں سنہ 2023ء سے اب تک غزہ کی پٹی کے نوے فیصد سے زائد گھر اور عمارتیں خاک و خون کا ڈھیر بن چکی ہیں۔
ہولناک ملبے تلے زندگی کی جدوجہد
محمد ابو العراج جس کے ہاتھ میں چھ کلو گرام وزنی ہتھوڑا ہے کئی ہفتوں سے روزانہ اس موت کی وادی میں اترتا ہے۔ وہ کنکریٹ کے ٹکڑے توڑتا ہے تاکہ لوہے کے سرئیے نکال سکے اور اس کے دل میں ہر لمحہ یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں کوئی دیوار اس کے وجود کو ہی نہ کچل دے۔ وہ کہتا ہے مہنگائی کے اس قیامت خیز دور میں جہاں روزگار کا نام و نشان تک نہیں یہ لوہا نکالنا ہی اس کے خاندان کا واحد سہارا ہے۔ مگر یہ کام خطرات کی آماجگاہ ہے، جہاں قدم قدم پر موت رقصاں ہے۔
بے بسی اور موت کے درمیان زندگی کا سفر
طارق یاسین کے لیے یہ ہتھوڑا محض ایک اوزار نہیں بلکہ اس کی کل کائنات اور واحد سرمایہ ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہاں کے مزدور مجبورِ محض ہیں، جنہوں نے موت کے کنوئیں میں اتر کر اپنی روٹی تلاش کرنا سیکھ لیا ہے۔ یہاں ہر ضرب کے ساتھ ایک سوال جنم لیتا ہے: کیا اگلی ضرب سے لوہا نکلے گا یا کسی چھپی ہوئی بارودی سرنگ کے پھٹنے سے اس کی زندگی کا چراغ گل ہو جائے گا؟ یہ وہ کرب ہے جسے غزہ کا ہر مزدور دن رات محسوس کرتا ہے۔
لوہے کی واپسی اور نئی زندگی کی تعمیر
لوہے کا یہ سفر ختم نہیں ہوتا بلکہ ایک نئی شکل میں ڈھل جاتا ہے۔ نکالا ہوا لوہا ان کارخانوں تک پہنچتا ہے جہاں اسے سیدھا کر کے خیموں، الماریوں اور باورچی خانے کے سامان میں بدلا جاتا ہے۔ محمود راضی، جو اس لوہے کو خرید کر اسے نئی زندگی بخشتا ہے، کہتا ہے کہ غزہ میں لکڑی اور بجلی کے آلات کی شدید قلت کے باعث یہ لوہا اب یہاں کے لوگوں کی واحد ضرورت بن چکا ہے۔ یہ وہی لوہا ہے جو اب یوسف عوض اللہ جیسے لوگوں کے لیے لکڑی کے بوسیدہ خیموں کے مقابلے میں ایک پائیدار اور محفوظ ٹھکانہ فراہم کر رہا ہے۔
چھیاسٹھ ملین ٹن ملبہ اور تاریک مستقبل
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی پٹی آج دنیا میں ملبے کا سب سے بڑا قبرستان بن چکی ہے، جہاں اکسٹھ سے چھیاسٹھ ملین ٹن ملبہ انسانی چیخوں کو دبائے کھڑا ہے۔ تین لاکھ اکہتر ہزار سے زائد گھر مٹی کا ڈھیر بن چکے ہیں، اور اگر یہی حالات رہے تو اسے صاف کرنے میں دس سے بیس سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ سنہ 2025ء کے اعداد و شمار کے مطابق، یہاں بے روزگاری اسی فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جس نے لوگوں کو موت اور بھوک کے درمیان ایک ہی انتخاب پر مجبور کر دیا ہے۔
غزہ کے یہ محنت کش آج اسی ملبے سے اپنے مستقبل کے ٹوٹے ہوئے خوابوں کو جوڑ رہے ہیں۔ یہ صرف لوہا نکالنے کی کہانی نہیں، بلکہ یہ غزہ کے ان لوگوں کی داستانِ عزم ہے جو تباہی کے ان ڈھیروں تلے سے بھی زندگی کے آثار کشید کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔