تل ابیب – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیل کی پارلیمنٹ (کنيسٹ) کی جنرل باڈی نے دوسری اور تیسری خواندگی کے بعد اس نام نہاد ظالمانہ خصوصی قانون کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد ان فلسطینی اسیران پر مقدمات چلانا ہے جن پر قابض حکام سات اکتوبر سنہ 2023ء کے واقعات میں ملوث ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
یہ قانون دستور، قانون اور انصاف کمیٹی کے چیئرمین سمحا روٹمین اور کنيسٹ کی رکن یولیا مالینوسکی کی جانب سے پیش کیا گیا جسے 93 ارکان کی بھاری اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔
اس قانون کے مطابق ان افراد پر مقدمات چلائے جائیں گے جنہیں قابض حکام خطرناک ترین جرائم کے مرتکب قرار دیتے ہیں، اور اس کے تحت ان اسیران کو سزائے موت سنائی جا سکے گی، جبکہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی تبادلے کے معاہدے کے تحت ان کی رہائی پر مکمل پابندی ہوگی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ قانون اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ اس کے تحت جن اسیران پر مقدمہ چلایا جائے گا انہیں کبھی بھی رہا نہیں کیا جائے گا، خواہ کوئی بھی ممکنہ تبادلہ معاہدہ طے پا جائے۔
میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس قانون کا مقصد نام نہاد مجرموں اور ان کے شراکت داروں کو کٹہرے میں لانا اور انہیں سزائے موت سمیت سخت ترین سزائیں دینا ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس قانون کے نتائج کے حوالے سے مسلسل انتباہات جاری کیے جا رہے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ قانون فلسطینی اسیران کے خلاف ایک غیر معمولی عدالتی راستہ اختیار کرنے اور ایسی کارروائیوں کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے جو منصفانہ سماعت کے بین الاقوامی معیارات سے عاری ہیں۔
اسیران کے امور کے ماہر اور قانونی مشیر حسن عبد ربہ نے اس سے قبل اپنے صحافتی بیانات میں خبردار کیا تھا کہ یہ ایک ایسی غیر معمولی پیش رفت ہے جس کا نشانہ خاص طور پر سات اکتوبر کے اسیران ہیں۔
حسن عبد ربہ نے وضاحت کی کہ خصوصی فوجی عدالتیں تشکیل دینے کا رجحان پایا جاتا ہے جنہیں سزائے موت سنانے کا اختیار حاصل ہوگا، اور یہ فلسطینی اسیران کے خلاف سزائے موت کے قانون کو منظور کروانے کی تیز رفتار قانون سازی اور عدالتی کوششوں کا حصہ ہے۔
گذشتہ مارچ میں بھی قابض اسرائیل کی کنيسٹ نے ایک ایسے قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت فلسطینی اسیران کو قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر پھانسی دینے کی تجویز دی گئی تھی، جسے انسانی حقوق کے حلقوں نے اسیران کے معاملے میں ایک بے مثال اور خطرناک موڑ قرار دیا تھا۔
قابض حکام اب بھی غزہ کی پٹی کے سینکڑوں بیٹوں کو حراست میں رکھے ہوئے ہیں، جن میں سے 1283 اسیران کو غیر قانونی جنگجو کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
ہیئت برائے امور اسیران و آزاد شدگان، کلب برائے اسیران اور مؤسسہ الضمیر کے فراہم کردہ قانونی اعداد و شمار کے مطابق مئی سنہ 2026ء کے آغاز تک قابض اسرائیل کے عقوبت خانوں میں فلسطینی اسیران اور معتقلين کی مجموعی تعداد 9400 سے تجاوز کر چکی ہے۔