غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریکِ مزاحمت (حماس) کے ترجمان حازم قاسم نے اسرائیلی چینل "14” کی طرف سے پھیلائے جانے والے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ تحریک غزہ پٹی میں اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ انہوں نے ان رپورٹس کو "سر سرا جھوٹ اور کھلا اشتعال” قرار دیا ہے۔
حازم قاسم نے اپنے ایک پریس بیان میں واضح کیا کہ اس طرح کی بے بنیاد رپورٹس کا بنیادی مقصد فلسطینی عوام کے خلاف مزید جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو جواز فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ تحریک جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہی ہے۔
اسرائیلی چینل "14” نے پیر کے روز ایک رپورٹ نشر کی تھی جس میں بغیر کسی واضح ثبوت یا تفصیل کے دعویٰ کیا گیا تھا کہ حماس غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کرنے کے درپے ہے۔
دوسری طرف حماس نے اس طرح کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ یہ پروپیگنڈا اسرائیل کی طرف سے جاری کشیدگی اور اشتعال انگیزی کو تقویت دینے کے لیے کیا جا رہا ہے، ایک ایسے وقت میں جب قابض فوج مسلسل جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں میں مصروف ہے۔
حماس کے ترجمان نے ثالثوں اور نام نہاد "امن کونسل” سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے قابض فوج کے ان جرائم کا نوٹس لیں اور جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ غزہ پٹی میں حالات کو مزید خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔