غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں توپ خانے کی گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھیں، جس کے نتیجے میں ایک اور شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ شہر کے مغرب میں واقع ایک آباد رہائشی فلیٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہری شہید اور دیگر کئی افراد زخمی ہو گئے۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے مواصی کے علاقے میں قابض اسرائیل کی افواج کی فائرنگ سے 4 شہری زخمی ہو گئے ہیں۔
خان یونس کے مشرق میں قابض فوج کی گاڑیوں کی نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ شہر کے جنوب میں توپ خانے کی گولہ باری کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
وسطی غزہ کی پٹی میں واقع نصيرات کیمپ میں قابض فوج کے حملے میں شہید ہونے والے احمد کفينة کی تدفین اور الوداعی مناظر بھی سامنے آئے ہیں۔
قابض فوج کے توپ خانے نے شہر غزہ کے جنوب مشرق میں واقع حی الزیتون پر بھی گولہ باری کی۔
یاد رہے کہ پیر کے روز غزہ اور وسطی گورنری میں ہونے والی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 3 شہری شہید اور دیگر کئی زخمی ہو گئے تھے۔
فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ ملبے کے نیچے اور سڑکوں پر موجود متاثرین تک پہنچنے میں لگاتار پیش آنے والی مشکلات کے سائے میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں چار شہداء اور 14 زخمی پہنچ گئے ہیں۔
وزارت نے اپنے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ میدانی حالات کی وجہ سے ریسکیو اور شہری دفاع کا عملہ متعدد متاثرین تک پہنچنے میں معذوری کا شکار ہے جس کی وجہ سے اصل اموات میں اضافے کا قوی امکان ہے۔
بیان کے مطابق 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے بعد سے اب تک شہداء کی کل تعداد 1207 ہو چکی ہے جن کے علاوہ 3914 زخمی جبکہ اسی مدت کے دوران ملبے کے نیچے سے لاشیں نکالنے کے 803 کیسز درج کیے گئے ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء کو جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک کی مجموعی شماریات کے مطابق شہداء کی تعداد بڑھ کر 73,333 ہو چکی ہے جبکہ ان کے مقابلے میں 174,023 زخمی ہوئے ہیں جو پٹی پر جاری ہولناک انسانی اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔
قابض اسرائیل کی افواج گذشتہ 10 اکتوبر سے اب تک فضائی اور توپ خانے کی گولہ باری کے ذریعے بے گھر افراد کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے، پیلے خط کے نام سے معروف علاقے کے اندر تباہی اور مسماری کی کارروائیوں کو انجام دینے کے ساتھ ساتھ سامان، امداد اور سفر کی نقل و حرکت پر پابندیاں برقرار رکھتے ہوئے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔