غزہ و مشرقی بیت المقدس میں فلسطینی الیکشن کمیشن کی ٹیموں کی رسائی اسرائیلی فیصلے سے محدود
اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مرکزی انتخابی کمیشن (سی ای سی ) کی ٹیموں کو غزہ اور مشرقی بیت المقدس میں قانون ساز انتخابات کی تیاریوں کی نگرانی کے لیے داخلے کے اجازت نامے دینے سے انکار کر دیا ۔
مقبوضہ بیت المقدس (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مرکزی انتخابی کمیشن (سی ای سی ) کی ٹیموں کو غزہ اور مشرقی بیت المقدس میں قانون ساز انتخابات کی تیاریوں کی نگرانی کے لیے داخلے کے اجازت نامے دینے سے انکار کر دیا ۔ شنہوا کے مطابق فلسطینی سرکاری ذرائع نے گزشتہ روز بتایا کہ اسرائیلی حکومت نے کمیشن کو انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
اس اقدام سے تین فلسطینی علاقوں میں بیک وقت انتخابات کرانے کی کوششیں پیچیدہ ہو سکتی ہیں۔ اسرائیل کا یہ انکار ایسے وقت میں سامنے آیا جب فلسطین کامرکزی انتخابی کمیشن 28 نومبر کو ہونے والے قانون ساز انتخابات کے لیے تکنیکی انتظامات مکمل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
مشرقی بیت المقدس اور غزہ کی پٹی کی صورتحال نے یہ سوالات پیدا کر دیے ہیں کہ آیا تمام فلسطینی علاقوں کی شرکت کے ساتھ انتخابات مقررہ وقت پر منعقد ہو سکیں گے یا نہیں۔
قبل ازیں اس معاملے سے واقف ایک فلسطینی ذریعے نے بتایا تھا کہ اگر مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ مشرقی بیت المقدس اور غزہ کی پٹی میں انتخابات بیک وقت منعقد نہ ہوئے تو انتخابات ملتوی کرنا پڑ سکتے ہیں۔دوسری جانب مشرقی بیت المقدس پر اسرائیل نے 1967 کی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے دوران قبضہ کیا اور بعد میں اسے اپنے ساتھ ضم کر لیا،تاہم عالمی برادری کی اکثریت نے اس الحاق کو تسلیم نہیں کیا۔فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ فتح کا ایک وفد انتخابات کے انعقاد سے متعلق انتظامات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور فلسطینی قومی کونسل کی تشکیلِ نو پر بات چیت کے لیے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں فلسطینی دھڑوں کے ساتھ جامع مذاکرات شروع کرے گا۔