• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
بدھ 15 جولائی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

فلسطینیوں کی واپسی پر اسرائیلی پابندی، جبری نقل مکانی کی پالیسی کا حصہ قرار

غزہ کےانسانی حقوق مرکز نے فلسطینی شہریوں کو غزہ کی پٹی میں واپس آنے سے روکنے کی قابض اسرائیلی حکام کی ظالمانہ پالیسی پر گہری تشویش اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔

بدھ 15-07-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, غزہ
0
فلسطینیوں کی واپسی پر اسرائیلی پابندی، جبری نقل مکانی کی پالیسی کا حصہ قرار
0
SHARES
0
VIEWS

غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کےانسانی حقوق مرکز نے فلسطینی شہریوں کو غزہ کی پٹی میں واپس آنے سے روکنے کی قابض اسرائیلی حکام کی ظالمانہ پالیسی پر گہری تشویش اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اس پابندی میں خواتین، بچے، مریض اور بوڑھے بھی شامل ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قابض طاقت فلسطینیوں کے اپنے وطن اور رہائش گاہوں پر واپس آنے کے حق کو محدود کرنے، خاندانی بکھراؤ کو گہرا کرنے اور جبری نقل مکانی کے حقائق مسلط کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

پابندی کا ظالمانہ طریقہ کار

مرکز نے بدھ کو جاری کردہ اپنے بیان میں بتایا کہ اسے حالیہ ہفتوں میں ایسی شہادتیں موصول ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکام "سکیورٹی مسترد” (Security Refusal) کا سہارا لے کر فلسطینیوں کو غزہ واپس آنے سے روک رہے ہیں۔ غزہ واپسی کا موجودہ طریقہ کار یہ ہے کہ فلسطینی قاہرہ میں فلسطینی سفارت خانے یا کسی نجی کوآرڈینیشن کمپنی کے پاس اپنے نام درج کرواتے ہیں، پھر یہ نام اسرائیلی حکام کو بھیجے جاتے ہیں جو کئی دن یا ہفتے لگا کر منظوری دیتے ہیں۔

بلا جواز پابندیاں

مرکز نے واضح کیا کہ منظوری نہ دینے کے فیصلے اکثر بلا جواز اور اچانک ہوتے ہیں، جن میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کو بغیر کسی قانونی وجہ کے روکا جاتا ہے۔ یہ عمل حقِ واپسی کو ایک ایسے استحقاق میں بدل دیتا ہے جو مکمل طور پر قابض طاقت کی مرضی پر منحصر ہے۔ مرکز نے کئی ایسی خواتین کے کیسز دستاویزی شکل میں محفوظ کیے ہیں جو مہینوں اور سالوں سے اپنے شوہروں اور بچوں سے الگ بیرونِ ملک پھنس چکی ہیں، جبکہ مریض علاج کے بعد بھی وطن واپس آنے سے محروم ہیں۔

متاثرین کی دردناک کہانیاں

ایک 34 سالہ خاتون (م. م) نے بتایا کہ”میں علاج کے لیے گئی تھی، میرے بچے اور شوہر غزہ میں ہیں۔ اب واپسی کے لیے نام لکھوایا تو اچانک معلوم ہوا کہ میرا نام مسترد کر دیا گیا ہے۔ میں صدمے میں ہوں کہ میرے بچے دو سال سے میرا انتظار کر رہے ہیں”۔

عائشہ کی عمر42 سال ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ "میں مہینوں سے اپنے خاندان سے دور ہوں۔ اپنے گھر واپس آنے کے لیے مجھے قابض دشمن کی اجازت کیوں درکار ہے؟ ہماری زندگیاں ایک ایسے فیصلے سے معلق ہیں جس کی وجہ ہمیں معلوم نہیں”۔

عبدالعزیز نے کہا کہ "میں علاج کے لیے نکلا تھا، اب واپسی پر قابض فوج نے انکار کر دیا ہے۔ میں اپنی تنہائی اور بچوں کی فکر میں گھل رہا ہوں، بس اپنے وطن واپس جانا چاہتا ہوں”۔

بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی

مرکز نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینیوں کی واپسی کو سکیورٹی چیکس سے مشروط کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف نقل و حرکت کی آزادی پر حملہ ہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے کنونشنز (جیسے کہ شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی عہد نامے کی شق 12/4) کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں، جو کسی کو بھی اپنے ملک میں داخل ہونے کے حق سے محروم کرنے سے روکتی ہے۔ چوتھا جنیوا کنونشن بھی خاندانوں کو تقسیم کرنے اور جبری نقل مکانی کے اقدامات کو سختی سے منع کرتا ہے۔

عالمی برادری سے مطالبہ

غزہ انسانی حقوق مرکز نے اقوام متحدہ، ہلالِ احمر اور انسانی حقوق کے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ

  1. غزہ سے باہر پھنسے ہوئے تمام فلسطینیوں کی غیر مشروط واپسی کو یقینی بنایا جائے۔

  2. اس ظالمانہ پابندی کی پالیسی کو فوری ختم کیا جائے۔

  3. واپسی کے ایسے انسانی راستے قائم کیے جائیں جو انسانی وقار کا احترام کریں۔

  4. بارڈر کراسنگ پر ہونے والی تذلیل، تشدد اور بھتہ خوری کے ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے۔

مرکز نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ وطن واپسی کا حق اور خاندانی وحدت ناقابلِ سمجھوتہ حقوق ہیں۔ واپسی سے روکنے کی کوئی بھی پالیسی جبری نقل مکانی مسلط کرنے اور فلسطینی آبادی کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی سازش کا حصہ ہے، جسے روکنے کے لیے عالمی سطح پر فوری مداخلت ناگزیر ہے۔

Tags: civil rightsforced displacementgazaHumanitarian CrisisisraelpalestinePalestinian ReturnRight of Return
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.