غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی پھول جیسی معصوم بچی وفاء یوسف عقیلہ جس کی عمر محض نو برس تھی، یہ نادان حقیقت بالکل نہیں جانتی تھی کہ اس کی درسگاہ کی جانب یہ پرنور واپسی صرف چند گھنٹوں کی امانت ہے۔ وہ نیا بستہ اور چمکتی نئی کاپیاں، جو اس نے علم کی شمع جلانے والے سال کے پہلے دن بڑے ارمانوں سے اٹھائی تھیں، اب ایک ایسے ادھورے بچپنے کے خواب کی آخری نشانی بننے جا رہی تھیں جسے غاصب دشمن کی ظالم فضائی بمباری نے ہمیشہ کے لیے خاک میں ملا دیا۔
وفاء نے اتوار کی صبح اپنے تعلیمی سفر کا آغاز کیا ۔ یہ وہ کٹھن دور تھا جب غزہ کے ننھے بچوں پر مسلط کردہ جنگ نے طویل اور تاریک تعطل ڈال رکھا تھا۔ درسگاہ کی گھنٹی بجنے اور چھٹی کا وقت ہونے پر وہ اپنے چھتیس سالہ شفیق والد یوسف عقیلہ کے ساتھ کتابیں اور قلم خریدنے کی غرض سے بازار کا رخ کرتی ہے۔ ابھی وہ شہر غزہ کے مغربی حصے میں واقع حی النصر کے پرسکون مکاں سے نکلے ہی تھے کہ قابض اسرائیل کے سفاک ڈرون نے ان کی چلتی ہوئی گاڑی کو موت کے شعلوں میں لپیٹ لیا۔ فلسطینی ذرائع اور الشفاء ہسپتال کے معتبر طبی ذرائع کی گواہی کے مطابق، اس دلخراش حملے میں یہ پیارا باپ اور بیٹی اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے جبکہ کئی دوسرے بے گناہ افراد لہو لہو ہو گئے۔
خون میں لت پت اس قیامت کے بعد جب کیمرے کے عدسے نے جائے وقوعہ کی تصویر کشی کی تو روح دہل گئی۔ وہاں ننھی وفاء کا بے جان جسدِ خاکی، اس کی کتابیں، اور سکول کا معصوم سازوسامان خون میں تر بتر بکھرا پڑا تھا۔ یہ ایک ایسا دل چیر دینے والا منظر تھا جہاں ایک طرف نئے تعلیمی سال کی خوشبو تھی اور دوسری طرف بربریت کے پائے کوب نشانات تھے۔
گھر کا اجالا اور آنکھوں کا تارا
شہید وفاء کے چچا رباح عقیلہ نے اپنے بھائی اور بھتیجی کے اس اچانک بچھڑنے پر دل کا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یوسف ان کے گھر کا سب سے پہلا چشم و چراغ تھا اور اس کی اولاد پر جتنا فخر اور خوشی یوسف کو تھی، ویسی کسی اور کو نہ تھی۔ انہوں نے بھرا دل لے کر مزید بتایا کہ وفاء اپنے والد کے دل کی دھڑکن اور کائنات کی سب سے بڑی مسرت تھی، وہ اس گھر کا ایسا اجالا تھی جو کبھی ماند نہیں پڑتا تھا۔
رباح نے ہچکیوں کے درمیان بتایا کہ اس معصوم کلی نے سکول جانے کی تیاریاں کتنے انوکھے چاہت اور شوق سے کی تھیں۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی کاپیاں اور بستے کا سامان چنا تھا، مگر گھر کی طرف لوٹتے ہوئے راہیِ منزل کو کیا خبر تھی کہ موت گھات لگائے بیٹھی ہے۔ گھر کی دہلیز پر اس کے دو ننھے بھائی اس کی راہ تک رہے تھے مگر وہ اپنے والد کے ہمراہ امر ہو گئی۔
چچا کا دل پھٹ پڑا جب انہوں نے بکھرے ہوئے خون آلود ورق اور نشستوں کے سینوں میں پیوست لوہے کے ٹکڑے دکھائے۔ انہوں نے اشکبار آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھ کر سوال کیا کہ آخر ہم ایسے دور میں کیوں موت کے گھاٹ اتارے جاتے ہیں جہاں کسی اپنے کے بچھڑنے کا وہم و گمان تک نہیں ہوتا؟
سکول کا ایک بستہ قابض کے لیے کون سا خطرہ ہے؟
وفاء کی اس دل سوز کہانی نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ داستان اس بھاری تاوان کا دردناک استعارہ ہے جو غزہ کے ننھے فرشتوں کو اس تاریک جنگ کی بھٹی میں چکانا پڑ رہا ہے۔
غزہ میں وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش نے اپنے دل کا غبار نکالتے ہوئے کہا کہ وفاء اپنے ننھے منے سینے میں بڑے بڑے خواب سجوائے علم کی روشنی کی طرف بڑھ رہی تھی، مگر قابض دشمن کے میزائلوں کی آندھی اس کی سانسوں سے پہلے آپہنچی۔ انہوں نے ظالموں سے سوال کیا کہ جدید ہتھیاروں سے لیس یہ سفاک فوج ایک معصوم بچی کے جسم میں کون سا خوف دیکھتی ہے؟ کیا سکول کا ایک بستہ، ایک کاپی اور ایک معمولی قلم کسی غاصب ریاست کے لیے کوئی خطرہ بن سکتا ہے؟
دوسری طرف صحافی عبد الحکيم ابو ریاش نے درد بھرے لہجے میں لکھا کہ آج غزہ میں تعلیمی سال کا آغاز بچوں کے قہقہوں اور پیارے بستوں سے نہیں، بلکہ جلتی ہوئی سٹیشنری، دھواں دیتی لاشوں اور گوشت کے ٹکڑوں کی کہانی بن کر رہ گیا ہے۔
معروف کارکن معین الكحلوت نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاء اپنے ننھے قدموں میں خوابوں کی دنیا اور علم کی پیاس لیے گھر سے نکلی تھی، مگر قابض اسرائیل کی درندگی نے اسے اور اس کے باپ کو ابدی نیند سلا دیا۔ ادھر صحافی محمد ہنیہ نے اس عبرتناک تضاد کو اجاگر کیا جہاں ایک طرف کچھ بچے زندگی کا نیا تعلیمی سال سجانے نکلے تھے اور دوسری طرف کئی بچوں کی میتیں سالوں بعد ملبے کے سینے سے نکالی جا رہی تھیں۔
اسی دردناک تسلسل میں کارکن محمود العيلہ نے اپنے قلم کے آنسو بہاتے ہوئے لکھا کہ آج کا دن تو وہ مبارک دن ہونا تھا جہاں غزہ کی گلیاں بچوں کے شور سے مہک اٹھتیں، مائیں محبت سے بچوں کے بستوں کی تہوں کو درست کرتیں اور باپ اپنے بچوں کی انگلیاں تھام کر علم کے راستے پر چلاتے، مگر ظالم جنگ نے تقدیر کا پورا روپ ہی بدل ڈالا۔ آج بچے سکول تو پہنچتے ہیں مگر ان کے سروں سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہوتا ہے اور خاندان ان یادوں کے سہارے تعلیمی سال شروع کرتے ہیں جنہیں یہ جنگ نگل چکی ہے۔
وفاء کی شہادت پر دنیا بھر کا ماتم
اس معصوم روح کی پرواز نے صرف مقامی فضا کو ہی سوگوار نہیں کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی دلوں کو ہلا ڈالا۔ فرانس کی انقلابی جماعت کے نامور رکن پارلیمنٹ ایمریک كارون نے گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معصوم نے اپنے والد کے ساتھ موت کے منہ میں جانے سے چند لمحے پہلے ہی اپنے علم کے سفر کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے فلسطینیوں، بالخصوص معصوم بچوں کے اس بہیمانہ اور مسلسل قتل عام پر شدید تنقید کی۔
غزہ کے معروف مصنف اور بلند پایہ سیاسی تجزیہ کار إياد القرا نے وفاء کے اس آخری دن کے ہر ایک لمحے کو یاد کرتے ہوئے لکھا کہ وہ کیسی خوش نصیب بیٹی تھی جو اپنے والد کی انگلی پکڑ کر کتابیں خریدنے نکلی تھی، اور پھر دونوں ایک ہی گولی اور ایک ہی دھماکے کا نشانہ بن کر ہمیشہ کے لیے سو گئے۔
اس المناک سانحے پر اپنے شدید رنج کا اظہار کرتے ہوئے اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ قابض دشمن نے علم کے پہلے دن اس معصوم کو قتل کرکے اپنی درندگی کی انتہا کر دی ہے۔ انہوں نے صیہونی فضائیہ کو اس خون کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے نام نہاد عالمی امن کونسلوں کی مجرمانہ خاموشی پر کڑی تنقید کی جو ان کھلی نسل کشی پر مہرِ لب سکوت لگائے بیٹھی ہیں۔
ایک پوری نسل کا سلگتا ہوا المیہ
وفاء کی یہ دلخراش موت غزہ میں تعلیم کے پورے نظام کی بربادی کی ایک زندہ تصویر ہے۔ یہاں تعلیمی سال ایسے قیامت خیز حالات میں پروان چڑھتا ہے جہاں جنگ نے درسگاہوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے۔ تعلیمی عمل کی اس راکھ سے اڑنے والے چنگاریوں جیسے چند فدائیوں نے خیموں کے اندر عارضی تعلیمی مراکز قائم کیے ہیں تاکہ نسلِ نو کے مستقبل کو اس تاریکی میں مکمل طور پر ڈوبنے سے بچایا جا سکے۔
فلسطینی مرکزی ادارہ شماریات کے دردناک اعداد و شمار گواہی دیتے ہیں کہ اس سفاکانہ جنگ کے طوفان میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کی تعداد اکیس ہزار دو سو تراسی تک جا پہنچی ہے، جن میں تقریبا انیس ہزار وہ نور نظر شامل ہیں جو سکول کے طالب علم تھے۔ اس کے علاوہ چالیس ہزار سے زائد بچے شدید زخمی ہیں اور لاکھوں بچے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
یوں ننھی وفاء نے اپنے علم کے سفر کا آغاز ایک چھوٹے سے بستے، چند کاپیوں اور قلم کے ساتھ کیا تھا، مگر اس کی زندگی کا پہلا دن کاندھوں پر اٹھائے جانے والے تابوت پر تمام ہوا۔ کل کو جس نے اپنی جماعت کے تختے پر بیٹھ کر روشن مستقبل کی بنیاد رکھنی تھی، اس کا وہ بستہ اور کاپیاں اب اس میدانِ جنگ میں اس بچپنے کی بے گناہی کی ابدی گواہی بن کر رہ گئی ہیں جس نے پڑھنے کی چاہت تو کی تھی مگر ظالموں نے اسے جینے کا حق ہی نہ دیا۔