مقبوضہ فلسطین – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) زیتونہ سینٹر برائے مطالعات و مشاورت نے ویڈیو کانفرنسنگ (زوم) کے ذریعے ایک علمی مباحثے کا اہتمام کیا، جس کا عنوان ”ایران کے خلاف اسرائیلی امریکی جنگ کے فلسطین کاز پر اثرات“۔ رکھا گیا۔اس نشست میں ماہرین اور محققین کی ایک ممتاز تعداد نے شرکت کی۔
نشست کی نظامت زیتونہ سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محسن محمد صالح نے کی، جنہوں نے اپنے افتتاحی کلمات میں زور دیا کہ ایران کے خلاف یہ جنگ علاقائی اور بین الاقوامی ماحول پر دور رس اثرات مرتب کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نشست کا مقصد علمی اور مستقبل کی بصیرت کے ساتھ یہ جائزہ لینا ہے کہ اس جنگ نے ایرانی، اسرائیلی اور امریکی رویوں، فلسطینی مزاحمت کے مستقبل اور عرب دنیا کے ماحول کو کس طرح متاثر کیا ہے۔
ایرانی رویے پر جنگ کے اثرات
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ڈاکٹر حسام مطر نے کہا کہ ایران کے مستقبل کے رجحانات کا انحصار تین عوامل پر ہے: جنگ کے نتائج کی ایرانی تعبیر، فلسطین کاز کی حقیقت، اور علاقائی ماحول میں تبدیلی۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ نے ایران میں یہ یقین پختہ کر دیا ہے کہ قابض اسرائیل اس کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ اگرچہ ایران فلسطین کی حمایت اور محورِ مزاحمت کی حمایت کے عزم پر قائم ہے، تاہم براہِ راست عسکری تصادم کی بھاری قیمت نے تہران کو اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ ایران اب سیاسی، سفارتی اور انسانی حمایت کو ترجیح دے گا اور مزاحمت کی حمایت کے لیے نئے طریقے اختیار کرے گا۔
اسرائیلی پالیسی پر اثرات
اسرائیلی امور کے ماہر ڈاکٹر نہاد الشیخ خلیل نے کہا کہ اسرائیلی حکومت فلسطینی عوام کے وجود کو ایک تزویراتی خطرہ سمجھتی ہے۔ ان کے مطابق جنگ جاری رکھنے کے پیچھے چار محرکات ہیں: نیتن یاہو کا اقتدار میں رہنا، داخلی سیاسی کشمکش، دائیں بازو کی انتہا پسند نظریات اور خطے میں اسرائیلی تسلط کا منصوبہ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی مزید جارحیت جاری رکھنے کی صلاحیت کا انحصار امریکی موقف پر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عرب اور اسلامی دنیا کی باضابطہ کارروائیوں کا دوبارہ فعال ہونا اور عوامی دباؤ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کا سب سے اہم عامل ہے۔
لبنانی رویے پر اثرات
اسلامی تحریکوں کے ماہر ڈاکٹر شفیق شقیر نے کہا کہ لبنان اور فلسطین کے تعلقات باہمی اثرات پر مبنی ہیں۔ لبنان کا سرکاری موقف فلسطینی قومی حقوق کی حمایت اور وطن واپسی کے حق کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حالیہ تبدیلیوں کے بعد کچھ لبنانی حلقے فلسطین کاز کو لبنان پر بوجھ قرار دے رہے ہیں، جو فلسطینیوں کو پسماندہ کرنے یا انہیں نقل مکانی پر مجبور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
امریکی پالیسی پر اثرات
بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر ولید عبدالحی نے کہا کہ امریکی پالیسی پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کا گہرا اثر ہے۔ ٹرمپ نے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے، سفارت خانہ منتقل کر کے اور ’صدی کی ڈیل‘ پیش کر کے اسرائیل کی مکمل حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ تناؤ کو علاقائی اتحادوں کی تنظیمِ نو اور فلسطین کاز سے ایران کے تعلق کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
فلسطینی مزاحمت پر اثرات
سیاسی تجزیہ کار عاطف الجولانی نے کہا کہ ایران اور لبنان کے محاذوں پر تصادم طوفان الاقصیٰ کے تسلسل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان اور ایران پر اسرائیلی توجہ نے غزہ پر دباؤ کو کچھ حد تک کم کیا، جس سے مزاحمت کو اپنی صفوں کو منظم کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ ”وحدتِ ساحات“ (محاذوں کا اتحاد) کا نظریہ دوبارہ فعال ہوا ہے اور حزب اللہ کی بحالی فلسطینی مزاحمت کے لیے ایک نمونہ ثابت ہو سکتی ہے۔
عرب ممالک کے رویے پر اثرات
عرب امور کے ماہر فراس ابو ہلال نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ نے خطے میں امریکی اثر و رسوخ کی حدود کو واضح کر دیا ہے۔ یہ صورتحال عرب ممالک کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ فلسطین کے معاملے پر واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنے معاشی اور تزویراتی کارڈ استعمال کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ معمول کے تعلقات (نارملائزیشن) کے عمل کو منجمد کیا جائے اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فلسطینی قوتوں کے ساتھ کھلے پن کا مظاہرہ کیا جائے۔
نشست کے اختتام پر ماہرین نے حاضرین کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیے اور فلسطین کاز کے تحفظ کے لیے یکجہتی اور تزویراتی بصیرت پر زور دیا۔