غزہ -(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) کلب برائے اسیران نے کہا ہے کہ نام نہاد اسرائیلی سپریم کورٹ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی حراست کو برقرار رکھنے کا فیصلہ غزہ کی پٹی پر جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہاں کے ہزاروں قیدیوں کے خلاف اختیار کردہ من مانی حراست کی پالیسی کا واضح نمونہ ہے۔
کلب نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں وضاحت کی کہ یہ پالیسی اب بھی اسرائیلی عقوبت خانوں اور فوجی کیمپوں میں سینکڑوں قیدیوں کے خلاف ’غیر قانونی جنگجو‘ کے قانون کی بنیاد پر لاگو کی جا رہی ہے۔
کلب نے اس بات پر زور دیا کہ یہ قانون ایک ایسے قانونی آلے میں تبدیل ہو چکا ہے جسے انصاف اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے تحت حاصل بنیادی ضمانتوں سے ہٹ کر، غیر معینہ مدت تک حراست کو طول دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
کلب برائے اسیران کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ان فیصلوں کی ایک کڑی ہے جو ان کے بقول فلسطینی اسیران اور قیدیوں کے خلاف اپنائی گئی پالیسیوں کو مستحکم کرنے میں اسرائیلی عدالتی نظام کی ملی بھگت کی عکاسی کرتے ہیں۔
کلب نے نشاندہی کی کہ یہ رجحان ہزاروں فلسطینیوں کو من مانی طور پر حراست میں رکھنے کے لیے قانونی کور فراہم کرنے کی صورت میں نظر آتا ہے، چاہے وہ غزہ کی پٹی کے قیدی ہوں یا دریائے اردن کے مغربی کنارے، مقبوضہ بیت المقدس اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں کے انتظامی نظر بند قیدی۔
کلب نے توجہ دلائی کہ اسرائیلی عدالتی نظام اسیران کی حراستی حالت اور عقوبت خانوں و حراستی مراکز کے اندر ان پر ہونے والے مظالم سے متعلق اپیلوں سے نمٹنے میں ٹال مٹول اور سستی کی پالیسی بھی اپنائے ہوئے ہے۔
کلب برائے اسیران نے اس بات پر زور دیا کہ ان پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رہنا فلسطینی قیدیوں کی حالت کو مزید ابتر کر رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قانونی اور انسانی حقوق کے فریم ورک سے باہر حراست کے اقدامات کو فروغ دے رہا ہے۔