غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی میں جمعہ کے روز شدید بارشوں کے باعث بڑی تعداد میں بے گھر فلسطینیوں کے خیمے زیرِ آب آگئے۔ خراب موسمی نظام کے نتیجے میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور تیز ہوائیں چلیں، جس سے بے گھر خاندان سردی کی لپیٹ میں آگئے اور ان کے پہلے سے ابتر رہائشی حالات مزید خراب ہوگئے۔
مقامی حکام کے مطابق تقریباً ایک لاکھ 62 ہزار خیموں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ 11 لاکھ افراد کو پناہ دینے والے ایک ہزار سے زائد عارضی رہائشی مقامات کو سیلابی پانی سے متاثر ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار خاندان ایسے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جہاں بارشوں کے باعث سیلاب آنے کا خدشہ ہے۔
صورتحال اس لیے بھی سنگین ہوگئی ہے کہ نکاسی آب کا نظام تباہ ہوچکا ہے، سڑکیں برباد ہیں اور بلدیاتی اداروں اور سول ڈیفنس کی ٹیموں کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے درکار ایندھن اور آلات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
سرد اور نم موسم کی زد میں آنے سے بچوں، خواتین، بزرگوں اور مریضوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ اس دوران مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ اور صحتِ عامہ کی صورتحال مزید خراب ہونے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات میں موسم سرما سے بچاؤ کا سامان فراہم کرنا شامل ہے، بالخصوص نئے خیمے، پانی سے محفوظ رکھنے والا سامان، کمبل، گرم کپڑے، بستر اور محفوظ طریقے سے حرارت فراہم کرنے والے آلات۔
تاہم اسرائیلی پابندیوں کے باعث رہائشی سامان اور ضروری آلات کی غزہ میں آمد بدستور متاثر ہے، جس سے بے گھر خاندانوں کے رہائشی حالات بہتر بنانے اور انہیں موسم سرما کی سختیوں سے محفوظ رکھنے کی کوششوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔