غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف اپنے حملوں میں شدت لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاری بمباری اور روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی ہلاکتوں نے غزہ کی گلیوں کو "قتل گاہوں” میں تبدیل کر دیا ہے۔
حازم قاسم نے ایک پریس بیان میں کہا کہ یہ روزمرہ کی خلاف ورزیاں قابض ریاست کی ایک مستقل پالیسی بن چکی ہیں، جو ٹرمپ کے منصوبے کا متبادل معلوم ہوتی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ثالث کار اسے معاہدے کی پاسداری کروانے میں ناکام رہے ہیں اور "امن کونسل” کی ان جرائم پر خاموشی قابض فوج کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ "کھلی نسل کشی” جو عالمی برادری اور عرب لیگ کے سامنے براہِ راست دکھائی جا رہی ہے، ہر کسی کو اپنی سیاسی، اخلاقی اور قانونی ذمہ داریوں کا احساس دلاتی ہے کہ وہ غزہ میں جاری اس قتلِ عام کو روکنے کے لیے فوری قدم اٹھائیں۔
یاد رہے کہ قابض اسرائیلی فوج گزشتہ سال 11 اکتوبر کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 10 اکتوبر سے اب تک جنگ بندی کے دوران شہداء کی کل تعداد 1,084 اور زخمیوں کی تعداد 3,491 تک پہنچ گئی ہے۔
وزارت نے مزید تصدیق کی کہ 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت میں مجموعی شہداء کی تعداد 73,110 اور زخمیوں کی تعداد 173,599 تک پہنچ چکی ہے۔