غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے تحریک کی عسکری ونگ کے افراد اور اسلحہ سازی کے حوالے سے ’فوجی قوت‘ میں اضافے کی باتوں میں تیزی ایک ”واضح اشتعال انگیزی“ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد غزہ کی پٹی پر جاری جارحیت، روزانہ ہونے والے قتل عام اور جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کو درست ثابت کرنا ہے۔
حازم قاسم نے ایک پریس بیان میں میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی ذرائع سے معلومات نشر کرتے وقت احتیاط سے کام لیں، خاص طور پر ان معاملات میں جو ان کے بہ قول مزاحمت اور غزہ کی پٹی کے باشندوں کے خلاف اشتعال انگیزی پر مبنی ہوں۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ غزہ کی پٹی میں موجود دیگر مزاحمتی گروپوں کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل پابندی کر رہی ہے۔
انہوں نے ثالثوں اور ضامن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیاں روکنے پر مجبور کرنے کے لیے کام کریں۔
حازم قاسم کا یہ بیان غزہ کی پٹی میں اتوار کو ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کا ایک سلسلہ دیکھا گیا، جس میں گھروں کو بڑے پیمانے پر بارود سے اڑانا، فائرنگ، بحری گولہ باری اور فوجی گاڑیوں کی نقل و حرکت شامل ہے، جس کے نتیجے میں شہری زخمی ہوئے ہیں۔