غزہ (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعيم نے معرکہ ’طوفان الاقصیٰ‘ کی تیسری برسی کے موقع پر جاری کردہ ’امن کونسل ‘ کے بیان کو نسل پرستانہ، جانبدارانہ اور شکل و مضمون دونوں لحاظ سے ناقابل قبول قرار دیا ہے،انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کا مواد ایک ایسے ادارے کے شایانِ شان نہیں ہے جسے بین الاقوامی مرضی، اس کے قوانین اور فیصلوں کی نمائندگی کرنی چاہیے۔
ایک پریس بیان میں باسم نعيم نے کہا کہ یہ بیان ایک ایسی زبان اپناتا ہے جو خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کی بنیاد نہیں بن سکتی، جو کہ اسرائیلی بیانیے کی واضح جانبداری اور فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کی طویل مصائب سے چشم پوشی کی ایک صریح علامت ہے۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء کے واقعات کی تیسری برسی کے موقع پر جاری ہونے والا ’امن کونسل ‘ کا یہ بیان بنیادی طور پر صیہونی مقتولین اور اسیران کی یاد تازہ کرنے پر مرکوز رہا، جس نے فلسطینی مزاحمتی جنگجوؤں کو دہشت گرد قرار دیا، اور اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل کی حقیقی اور دائمی سیکیورٹی ہی وہ بنیاد ہے جس پر کسی بھی امن کی عمارت کھڑی ہونی چاہیے، اور یہ اس بات کی ضمانت ہے کہ سات اکتوبر کے واقعات دوبارہ نہ دہرائے جائیں، جبکہ اس نے فلسطینی عوام کے کسی بھی حق پر کوئی بات نہیں کی جو تقریباً ایک صدی سے جاری صیہونی نسل کشی کے سائے میں پس رہے ہیں۔
اس توجہ کے مقابلے میں، بیان نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو پہنچنے والے بڑے نقصانات اور گہرے مصائب کا صرف ایک عمومی تذکرہ کرنے پر اکتفا کیا اور جنگ اور اس کے ساتھ ہونے والی ہلاکتوں، تباہی، نقل مکانی اور غزہ کے انسانی بحران کو کسی وسیع تر سیاسی اور قانونی پس منظر میں نہیں رکھا، اور نہ ہی قابض اسرائیل کو ان جنگی جرائم کی ذمہ داری ٹھہرایا ۔
کونسل کے بیان میں صیہونی سکیورٹی کو کسی بھی مفاہمت کے نقطہ آغاز کے طور پر پیش کرنے کو نمایاں کیا گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ غزہ کے تخفیفِ اسلحہ اور وہاں انتہا پسندی کے خاتمے کو اس کے مشن کا ایک بنیادی محور بنایا گیا ہے۔کونسل نے کہا کہ سلامتی کونسل نے اسے اس بات کی ضمانت دینے کا فریضہ سونپا ہے کہ غزہ دوبارہ قابض اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بنے اور اس خوف اور خونریزی کے دائرے کو توڑنے کے لیے کام کرے جو دہائیوں سے جاری ہے۔
کونسل کے ناقدین کے مطابق یہ لائحہ عمل ایک ایسا زاویہ پیش کرتا ہے جو صیہونی سکیورٹی مطالبات کو منظر نامے کے سب سے آگے رکھتا ہے، جبکہ اس سے وہ بنیادی مسائل انتہائی نمایاں طور پر غائب رہتے ہیں جو اس تنازع کی جڑ ہیں، جن میں سرفہرست قبضہ، یہودی بستیاں، غزہ پر مسلط کردہ محاصرہ، جبری بے دخلی، خود ارادیت اور اپنی ریاست کے قیام کا فلسطینیوں کا حق، اس کے علاوہ جنگ کے دوران پیش آنے والے جرائم پر بازپرس اور احتساب شامل ہیں۔
کونسل کے سابقہ مواقف ان تنقیدات کو مزید تقویت دیتے ہیں، کیونکہ اس نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں ہتھیاروں اور سرنگوں سمیت تخفیفِ اسلحہ کی تکمیل سے پہلے سرخ لکیر کے اس پار صیہونی انخلا نہیں ہوگا، جو کہ خطے کے مستقبل کے بارے میں صیہونی مطالبے کے ساتھ واضح طور پر ہم آہنگ ہے۔
کونسل کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس کے طرزِ عمل پر فلسطینی حلقوں کی طرف سے لگاتار تنقید کی جا رہی ہے۔ اس پر یہ الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ وہ غزہ میں جارحیت اور جرائم کو روکنے اور جنگ بندی سے متعلق مفاہمتوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے قابض اسرائیل پر کافی دباؤ ڈالنے میں ناکام رہا ہے۔
اس طرح فلسطینی اس بیان کو سات اکتوبر کی یاد تازہ کرنے کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ ایک ایسی سیاسی تحریر کے طور پر دیکھتے ہیں جو جنگ کے صیہونی بیانیے کو دوبارہ زندہ کرتی ہے، اور اسے غزہ کے مستقبل سے نمٹنے کی بنیاد بناتی ہے، جو اس خطرے کو جنم دیتا ہے کہ امن کی بات چیت کو ایک ایسے راستے میں بدل دیا جائے جو تنازع کی جڑوں کو حل کرنے کے بجائے فلسطینیوں پر سیکیورٹی اور سیاسی شرائط مسلط کرتا ہے۔