غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے قومی کمیٹی کے حوالے غزہ کی پٹی کے نظم و نسق کو مکمل طور پر سونپنے کے لیے اپنی مکمل آمادگی کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے۔ جماعت نے قابض اسرائیل اور امن کونسل کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادی نوف پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس قومی کمیٹی کے کام میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں اور اسے غزہ کی پٹی کے اندر اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے سے روک رہے ہیں۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امن کونسل میں شامل کچھ فریقوں کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ حماس اقتدار سونپنے کی خواہش نہیں رکھتی، محض جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے بیانات قابض اسرائیل کو غزہ کی پٹی پر اپنی وحشیانہ جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی جاری رکھنے کے لیے ایک ڈھال فراہم کرتے ہیں۔
حازم قاسم نے زور دے کر کہا کہ حماس اب بھی حکومت کے تمام شعبوں بشمول سکیورٹی کے شعبے کو اس متفقہ قومی کمیٹی کے سپرد کرنے کے اپنے اعلانیہ موقف پر قائم ہے جس کا ہیڈ کوارٹر قاہرہ میں واقع ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ قابض اسرائیل اور نکولے ملادی نوف ہی قومی کمیٹی کے غزہ کی پٹی میں داخلے کو معطل کرنے کے پیچھے کارفرما ہیں، جس کی وجہ سے یہ کمیٹی اب تک اپنے فرائض کا آغاز کرنے سے قاصر رہی ہے۔
انہوں نے نکولے ملادی نوف پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ معاہدے کے تحت مختلف امور کو ایک ہی نقطے سے جوڑ کر معاملات کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، جو کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی پٹی میں امن کے لیے پیش کیے گئے وژن کے بالکل برعکس ہے۔
انہوں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ امن کونسل قابض دشمن پر دباؤ ڈالنے میں مکمل طور پر عاجز آ چکی ہے کہ وہ قومی کمیٹی کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت دے یا اسے اپنے فرائض سرانجام دینے کے لیے ضروری وسائل فراہم کرے۔
حازم قاسم نے اس بات پر دوبارہ سخت زور دیا کہ حماس غزہ کی پٹی کا انتظام سونپنے کے لیے بالکل تیار ہے اور قابض اسرائیل اور ملادی نوف ہی وہ دو فریق ہیں جو قومی کمیٹی کے داخلے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ علی شعث کی سربراہی میں انتظامی کمیٹی نے وسط جنوری سنہ 2026ء میں مصری دارالحکومت قاہرہ سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، تاہم قابض اسرائیل کی طرف سے داخلے کی اجازت دینے سے انکار کی وجہ سے یہ کمیٹی اب تک غزہ کی پٹی کے اندر اپنے کام کا آغاز نہیں کر سکی ہے۔
اس سے قبل غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر اسماعیل الثوابتہ نے بھی تصدیق کی تھی کہ سرکاری وزارتوں اور اداروں میں موجود تکنیکی اور انتظامی حکام حکومتی امور کا انتظام قومی کمیٹی کو منتقل کرنے کے عمل کو ایک منظم ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے آسان بنانے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ عوامی خدمات کا تسلسل برقرار رہے اور کوئی انتظامی خلا پیدا نہ ہو۔
یاد رہے کہ یہ قومی کمیٹی ان چار فریم ورکس کا حصہ ہے جو غزہ کی پٹی میں عبوری دور کے انتظام کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ ان دیگر اداروں میں امن کونسل، غزہ کی ایگزیکٹو کونسل اور بین الاقوامی استحکام فورس شامل ہیں، جن کی بنیاد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیس نکاتی منصوبے پر رکھی گئی ہے جس کا مقصد قابض اسرائیل کی جانب سے جاری رہنے والی نسل کشی کی وحشیانہ جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔