قاہرہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی دفتر کے سربراہ کے سیاسی مشیر طاہر النونو نے اعلان کیا ہے کہ حماس کا ایک وفد جس کی قیادت غرب اردن میں جماعت کے سربراہ زاہر جبارین کر رہے ہیں، آج صبح مصری دارالحکومت قاہرہ پہنچ گیا ہے۔ اس دورے کا مقصد مصری حکام اور ثالثوں کے ساتھ ملاقاتیں کرنا ہے تاکہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کو مکمل کیا جا سکے۔
طاہر النونو نے منگل کے روز ایک پریس بیان میں تصدیق کی کہ وفد اپنے ایجنڈے میں سب سے اوپر غزہ کی پٹی میں اسرائیلی خلاف ورزیوں، روزانہ کی بنیاد پر قتل اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کو روکنے، نیز قابض اسرائیل کو غزہ کی ضروریات مکمل طور پر داخل کرنے پر مجبور کرنے کو ترجیح دے رہا ہے۔ ان ضروریات میں ہسپتالوں، بیکریوں اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا سامان شامل ہے، اس کے علاوہ شرم الشیخ معاہدے کی باقی شقوں پر عمل درآمد بھی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔
النونو نے مزید کہا کہ اس دورے کے دوران ثالث برادران کے تعاون سے نکولے ملادی نوف کی جانب سے تیار کردہ روڈ میپ کے دوسرے مرحلے پر بحث مکمل کی جائے گی، جس میں انتظامی کمیٹی کا داخلہ، بین الاقوامی حفاظتی افواج کی تعیناتی اور آخر کار غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلاء شامل ہے۔
انہوں نے کہا: "ہم اپنے عوام کی تکالیف ختم کرنے، قابض اسرائیل کے جرائم کو روکنے اور اپنے عوام کے سیاسی حقوق، بالخصوص آزادی اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب پیش رفت حاصل کرنے والے معاہدے تک پہنچنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔”