غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی جہاد تحریک کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ نے تحریک کے آپشن یعنی مزاحمت کے ساتھ وابستگی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئےاس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر جاری جنگ اور مغربی کنارے اور بیت المقدس میں جاری جارحیت کے سائے میں فلسطینی عوام ہر ممکن طریقے سے قابض اسرائیل کا مقابلہ جاری رکھیں گے۔
زیاد النخالہ نے اسلامی جہاد کے انتیسویں یوم تاسیس اور طوفان الاقصیٰ کے معرکے کی تیسری برسی کے موقع پر ایک خطاب میں کہا کہ سال 2026ء اسرائیلی اور امریکی حملے اور فلسطینی کاز کو ختم کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے میں ”ثابت قدمی اور استقامت کا سال“ کی نمائندگی کرتا ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ طوفان الاقصیٰ کا معرکہ قابض اسرائیل کی اس مسلسل جارحیت کے سیاق و سباق میں سامنے آیا جو فلسطینی عوام کے خلاف جاری ہے اور غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ محاصرے، مسجد اقصیٰ پر حملوں، گرفتاریوں، زمینوں کے غصب اور بستیوں کی توسیع کی طرف توجہ دلائی۔
جنگ کا تسلسل
زیادنخالہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ قابض اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے والی پہل ، مذاکرات اور کوششوں کے باوجود غزہ کی پٹی میں قتل، تباہی، محاصرے اور بھوک مسلط کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مزاحمت نے وساطت کاروں کی تجاویز اور شرم الشیخ کانفرنس کے نتائج کے ساتھ مثبت رویہ اختیار کیا اور معاہدے پر پہنچنے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں حصہ لیا، لیکن ان کے بقول قابض اسرائیل نے اس بات کی پابندی نہیں کی جس پر اتفاق ہوا تھا، اس نے اپنی جارحیت کو جاری رکھا جو مغربی کنارے تک پھیل گئی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ کی وجہ سے ہونے والے انسانی نقصانات اور تباہی کا حجم جارحیت کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے، اور اس بات سے خبردار کیا کہ قابض اسرائیل کی کوششیں صرف عسکری کارروائیوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ وہ فلسطینیوں، ان کی زندگی کے ذرائع اور ان کے کاز کے مستقبل کو نشانہ بناتی ہیں۔
مزاحمت کا اتحاد
نخالہ نے فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے اتحاد کی اہمیت پر زور دیا، اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اسلامی جہاد تحریک کے مجاہدین نے القسام بریگیڈز، پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین اور دیگر دھڑوں کے شانہ بشانہ جنگیں لڑی ہیں۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ تحریک مزاحمت کے اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے کام جاری رکھے گی، اس بات کو مانتے ہوئے کہ جارحیت کے تسلسل اور اس کے دائرہ کار کے پھیلنے کے پیش نظر قابض اسرائیل کے مقابلے میں کوششوں کو یکجا کرنا ایک ضرورت ہے۔
انہوں نے فلسطینی عوام اور اس کی سیاسی قوتوں کے اتحاد کو برقرار رکھنے کی بھی دعوت دی جو اس کے وجود کی مختلف جگہوں پر ہیں، اور اس جنگ اور اسرائیلی حملوں کے تسلسل کے سائے میں اندرونی اختلافات کو پس پشت ڈالنے کے لیے کام کرنے کی اپیل کی۔
جبری بے دخلی کا مسلسل ہدف
نخالہ نے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو بیدخل کرنے کی کوششوں سے خبردار کیا، اس بات کو مانتے ہوئے کہ قابض اسرائیل اس بے دخلی کے منظرنامے کو دہرانے کی کوشش کر رہا ہے جس کا شکار فلسطینیوں کو سنہ 1948ء میں ہونا پڑا تھا۔
انہوں نے پٹی کے مکینوں کو بیدخل کرنے کے خلاف مصری مؤقف کی تعریف کی، اور ساتھ ہی فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد کے تسلسل اور ان کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔
اسلامی جہاد کے سیکرٹری جنرل نے لبنان اور یمن میں مزاحمت کے کردار اور ایران کی طرف سےفراہم کردہ حمایت کی تعریف کی، اس کے علاوہ فلسطینی عوام کی حمایت کرنے والے عرب، اسلامی اور بین الاقوامی عوامی اور سرکاری مواقف کو بھی سراہا۔
اپنے خطاب کے آخر میں النخالہ نے اسلامی جہاد تحریک کے مزاحمت کے آپشن سے وابستگی کا اعادہ کیا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ فلسطینی عوام قابض اسرائیل کا ہر ممکن طریقے سے مقابلہ کرنے کے اپنے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔