غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی پٹی میں روزانہ کی بنیاد پر خواتین اور بچوں کا قتل عام جاری رکھنا ایک سال قبل شرم الشیخ میں جنگ بندی کے معاہدے پر طے پانے والےمعاہدےکے باوجود جاری نسل کشی کی جنگ میں مزید شدت لانے کے مترادف ہے۔
حازم قاسم نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ امن کونسل اور اس کے اداروں کی خاموشی اور قابض اسرائیل کو واضح طور پر اس فریق کے طور پر نامزد کرنے سے انکار جو جنگ بندی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، سراسر ناقابلِ قبول ہے اور اسے مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امن کونسل، نکولے ملادی نوف اور امریکی ثالث کی جانب سے قابض ریاست کے جرائم کو جواز فراہم کرنے کی کوششیں، اس کی خلاف ورزیوں سے نمٹتے وقت آئندہ اسرائیلی انتخابات کو مدنظر رکھنا، دراصل ان جرائم کے تسلسل کے لیے ڈھال فراہم کرنے اور جنگ بندی کے معاہدے کی جڑیں کاٹنے کے مترادف ہے۔
حماس کے ترجمان نے امن کونسل میں شامل عرب اور مسلمان ممالک کو دعوت دی کہ وہ کونسل کی جانب سے ان جرائم کو روکنے میں ناکامی کے تناظر میں، قابض ریاست کے جاری کردہ جرائم اور پے در پے خلاف ورزیوں کے خلاف ایک واضح اور عملی موقف اختیار کریں، بالخصوص جب فلسطینی فریق جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل طور پر کاربند ہے۔
دوسری جانب میدانی صورتحال یہ ہے کہ قابض فوج اکتوبر سنہ 2025ء میں اعلان کردہ جنگ بندی اور عارضی امن معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جنہیں آج 347 واں روز ہو چکا ہے، یہ خلاف ورزیاں پرسکون ماحول کی بحالی کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کے حوالے سے جولائی سنہ 2026ء کے اواخر میں طے پانے والے سمجھوتوں کے بھی صریحاً خلاف ہیں۔
موصولہ اعداد و شمار کے مطابق ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں جنگ بندی کے نفاذ کے آغاز سے لے کر اب تک 1,394 فلسطینی شہید اور 4,839 دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔
میدانی سطح پر آج قابض فوج نے غزہ پٹی کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں اپنی توپ خانے کی بمباری اور ٹینکوں و عسکری گاڑیوں سے فائرنگ کا سلسلہ مزید تیز کر دیا، جبکہ جنگی طیاروں نے پٹی کے وسط میں واقع البریج کیمپ کے شمال مشرقی علاقوں میں رہائشی عمارتوں پر فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد فلسطینی شہید اور زخمی ہو گئے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پرسکون ماحول کے قیام سے متعلق اسرائیلی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں، اور اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شہریوں کو نشانہ بنانے اور ان سمجھوتوں کو سبوتاژ کرنے کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جو اصولی طور پر جنگ بندی کو یقینی بنانے اور غزہ پٹی میں آبادی کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔