غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے مطالبہ کیا ہے کہ قابض اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے معاہدے کے پہلے مرحلے کی شقوں پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے، تاکہ دوسرے مرحلے کے امور پر سنجیدہ مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکے۔
حماس نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ اس کے وفد نے گذشتہ ہفتے کے دوران مصری دارالحکومت قاہرہ میں ثالثوں اور متعدد فلسطینی دھڑوں کے ساتھ ملاقاتوں اور مکالمے کا ایک سلسلہ جاری رکھا، جس کا مقصد شرم الشیخ معاہدے کی روشنی میں پہلے مرحلے کی شقوں پر عمل درآمد کو مکمل کرنا تھا۔
حماس نے واضح کیا کہ یہ کوششیں ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب قابض اسرائیل اپنے زیادہ تر وعدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر معاہدے کو سبوتاژ کرنے میں مصروف ہے۔
حماس نے اس بات پر زور دیا کہ اس نے مذاکراتی عمل میں مثبت طرز عمل اپنایا ہے، اور وہ ثالثوں کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی جاری رکھنے کی خواہاں ہے تاکہ ایک ایسا قابل قبول معاہدہ طے پا سکے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز اور شرم الشیخ معاہدے پر مبنی ہو اور جس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں انسانی مصائب کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
حماس نے مزید کہا کہ کسی بھی معاہدے میں قابض فوج کا غزہ کی پٹی کے تمام حصوں سے مکمل انخلاء اور تعمیر نو کے عمل کا آغاز شامل ہونا لازمی ہے۔
حماس نے قابض اسرائیل کو پہلے مرحلے کی شقوں پر عمل درآمد کا پابند بنانے کی ضرورت پر دوبارہ زور دیا اور اسے دوسرے مرحلے کے امور پر سنجیدہ مذاکرات کی طرف منتقلی کے لیے ایک بنیادی راستہ قرار دیا۔