• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

امداد کی بندش اور سردیوں کا موسم، غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کی زندگیاں خطرے میں

جمعہ 06-11-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, غزہ
0
امداد کی بندش اور سردیوں کا موسم، غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کی زندگیاں خطرے میں
0
SHARES
1
VIEWS

غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) انسانی حقوق کی تنظیم یورو میڈ آبزرویٹری کی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سردیوں کی تیاری کے سلسلے میں خیموں کی فراہمی سے متعلق درخواستوں کواسرائیل کی طرف سے مسترد کر دیا گیا ہے، جبکہ نام نہاد سکیورٹی بہانوں کی آڑ میں مضبوط اور پائیدار خیموں کی آمد پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں پری فیبریکیٹڈ مکانات کے داخلے کو بھی اس بنیاد پر روک دیا گیا ہے کہ وہ ان تعمیراتی کاموں کا حصہ ہیں جن کی اجازت کو سیاسی و عسکری شرائط کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں متاثرہ خاندان پائیدار متبادل آپشنز سے محروم ہو کر بوسیدہ خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں اور ان کے پاس خیمے تبدیل کرنے یا اپنے تباہ شدہ مکانات کی مرمت کرنے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں بچا۔

یورو-میڈیٹیرین ہیومن رائٹس مانیٹر نے وضاحت کی کہ گذشتہ تین سردیوں کے موسموں میں جبراً بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے خیمے اور پناہ گزین مراکز بارش اور سیوریج کے پانی میں غرق ہوئے، تیز ہواؤ ں نے ان کی کمزور پناہ گاہوں کو اکھاڑ پھینکا اور ان کے پاس بچ جانے والے کمبل، کپڑے اور بستر تباہ کر دیے۔ اس صورت حال نے متعدد خاندانوں کو ایک خشک جگہ کی تلاش میں دوبارہ ہجرت پر مجبور کر دیا، جبکہ شدید ٹھنڈ کی وجہ سے متعدد بچوں اور شیر خواروں کی اموات واقع ہوئیں۔ ان المناک اموات کو مناسب پناہ گاہ، گرمائش کا سامان اور سردی سے تحفظ فراہم کر کے روکا جا سکتا تھا۔

انسانی حقوق کے ادارے نے زور دیا کہ اس سردی کے موسم میں ان خطرات کے دہرائے جانے کا شدید امکان موجود ہے کیونکہ خیمے مزید گل سڑ چکے ہیں اور مکانات و بنیادی ڈھانچے کی تباہی مسلسل جاری ہے۔ دوسری طرف قابض اسرائیل آبادی کی حفاظت کے لیے ضروری سامان کیے داخلے میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے،حالانکہ وہ گذشتہ سالوں میں اس محرومی سے نکلنے والے دلدوز نتائج سے واقف ہے۔ مانیٹر نے واضح کیا کہ ان تنبیہات کے باوجود پابندیوں پر قائم رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی بقا کو خطرے میں ڈالنے والے حالات کو عمدی طور پر طول دیا جا رہا ہے اور زندگی کی بنیادی مقومات کی بحالی کو مفلوج کیا جا رہا ہے۔ یوں پناہ گاہوں سے محرومی کو انہیں مسلسل نچوڑنے اور ان کی اپنی سرزمین پر قائم رہنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کا ایک ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔

یورو-میڈیٹیرین مانیٹر نے ندی نالوں کی گزرگاہوں، بارش کے پانی کے جمع ہونے والے تالابوں اور ساحلی علاقوں میں قائم سات ہزار 800 کے قریب خیموں میں رہنے والے افراد کو درپیش براہِ راست خطرات پر خبردار کیا، نیز گرنے کے خطرے سے دوچار ایک ہزار کے قریب مخدوش عمارتوں کے رہائشیوں پر بھی بڑے خطرے کی نشاندہی کی ہے، جیسا کہ یکم نومبر کو غزہ کی پٹی میں سردی ایمرجنسی کمیٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا۔ مانیٹر نے زور دیا کہ شدید بارشیں شروع ہونے سے قبل ان خاندانوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کا فوری انتظام کرنا ضروری ہے۔

ادارے نے واضح کیا کہ خطرے کا دائرہ ان مقامات سے کہیں زیادہ وسیع ہے جن سے فوری انخلا کی ضرورت ہے۔ نارویجن رفیوجی کونسل نے گذشتہ 5 اکتوبر کو تخمینہ لگایا تھا کہ تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار افراد ایسے سائٹس پر موجود ہیں جو سیلاب کے شدید خطرے کی زد میں ہیں۔ علاوہ ازیں، شیڈول شیلٹر گروپ کی جانب سے اگست میں شائع ہونے والی رپورٹ (جس کا سروے جون 2025ء میں کیا گیا تھا) نے ظاہر کیا کہ شاملِ سروے 71 فیصد خاندانوں کی پناہ گاہیں سنہ 2025ء-2026ء کی سردیوں کے آغاز سے ہی پانی میں ڈوب چکی تھیں، اور نصف سے زیادہ عارضی پناہ گاہیں انتہائی ابتر حالت میں تھیں۔

مانیٹر نے مزید کہا کہ ان خطرات کی وسعت بلدیات کے 70 فیصد کے قریب بنیادی آپریشنل سامان اور سول ڈیفنس کے 90 فیصد بچاؤ کے آلات کی تباہی کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جبکہ پٹی کے اندر صرف 5 پرانے واٹر سکرز اور 24 چھوٹی موبائل پمپس ہی دستیاب ہیں، اور ایندھن و اسپیئر پارٹس کی شدید قلت موجود ہے۔ مانیٹر نے تاکید کی کہ ان ضروریات کی فراہمی میں مسلسل رکاوٹیں پانی کی نکاسی اور محصور خاندانوں تک رسائی کو مفلوج کر دیتی ہیں۔

ادارے نے اقوام متحدہ کے اوچا (OCHA) کی 29 اکتوبر کی رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں جبالیا کے مقام پر بارش کے پانی کے تالاب اور پمپنگ اسٹیشن کی بجلی کی عدم موجودگی کی وجہ سے مکمل معطلی کا ذکر کیا گیا تھا۔ ادارہ نے متنبہ کیا کہ اگر ان کی مرمت کے لیے فوری مداخلت نہ کی گئی تو تالاب کے اوور فلو ہونے اور قریبی خیمہ گاہوں کے متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہے۔

انسانی حقوقی ادارے نے واضح کیا کہ کچھ خیموں کے داخلے کی اجازت دینا قابض اسرائیل کو ان مطلوبہ مقداروں اور معیاری قسموں کی فراہم کاری میں رکاوٹیں ڈالنے کی ذمہ داری سے ہرگز بری الذمہ نہیں کرتا جو شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ پائیدار خیموں اور مرمتی مواد کو روکنا خاندانوں کو ان عارضی حلوں میں محصور کر دیتا ہے جو جلد خراب ہو جاتے ہیں، جبکہ عارضی مکانات کو مشروط تعمیر نو سے منسلک کرنا شہریوں کے فوری تحفظ کو طویل مذاکرات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔

یورو-میڈیٹیرین مانیٹر نے فلسطینیوں کی پناہ گاہوں کی بحالی کو اسرائیلی انتخابی حساب کتاب اور بنیامن نتن یاھو کی حکومت کی سیاسی ترجیحات کے تابع کرنے کی شدید مذمت کی۔ ادارہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ انتخابی مفادات اور عسکری شرائط شہریوں کے تحفظ کی معطلی یا انہیں زیست کے بنیادی مقومات سے محروم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتے، اور یہ کہ موثر بین الاقوامی اقدامات کی عدم موجودگی نے قابض اسرائیل کو اس محرومی کو سودے بازی کے ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔

مانیٹر نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینیوں کے بنیادی حقوق، جن میں سب سے پہلے جینے کا حق شامل ہے، کسی بھی فریق کی سودے بازی کے تابع نہیں ہیں، اور یہ کہ زندگی سے من مانی محرومی پر پابندی بین الاقوامی قانون میں ایک لازمی قائدہ ہے۔ قابض اسرائیل، بطور قابض طاقت، شہریوں کی بنیادی ضروریات کی ضمانت دینے اور امدادی کارروائیوں کو آسان بنانے کا پابند ہے۔

یورو-میڈیٹیرین مانیٹر نے عالمی برادری سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ قابض اسرائیل کو پناہ گاہوں کا سامان لانے کے لیے بارڈر کراسنگز کھولنے کا پابند بنایا جائے، پائیدار خیموں، ترپالوں، کمبلوں اور مرمتی مواد کی آمد سے پابندیاں ختم کی جائیں، اور پانی کی نکاسی کے آلات، بھاری مشینری اور ایندھن کے داخلے کو ممکن بنایا جائے۔

حقوقی ادارے نے اقوام متحدہ اور انسانی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ سردیوں کے ایمرجنسی رسپانس کے لیے فوری فنڈنگ فراہم کریں، اور سیلا ب زدہ ندی نالوں، ساحلی علاقوں اور گرنے کی زد میں آئی عمارتوں میں رہنے والے خاندانوں کے لیے محفوظ متبادل فراہم کریں، نیز بچوں، مسن افراد اور بیماروں کو ترجیح دی جائے۔

مانیٹر نے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل کی طرف سے رد کی جانے والی پناہ گاہوں کے سامان کی درخواستوں سے متعلق واضح ڈیٹا شائع کیا جائے تاکہ بین الاقوامی ادارے ان رکاوٹوں کی مانیٹرنگ کر سکیں اور ذمہ داروں کا احتساب کر سکیں۔ ادارے نے ممالک پر زور دیا کہ وہ امداد کی فراہمی کو روکنے والے عہدے داروں پر پابندیاں عائد کریں اور ہتھیاروں کی منتقلی کو روکیں۔

یورو-میڈیٹیرین مانیٹر نے اس بات کی تاکید کی کہ عالمی عدالتِ انصاف کے جاری کردہ مشورتی فیصلے کے مطابق مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں قابض اسرائیل کے غیر قانونی وجود کو جلد از جلد ختم کیا جائے، بشمول غزہ کی پٹی سے مکمل انخلا، محاصرے کا خاتمہ، اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کرنا۔ ادارہ نے اعادہ کیا کہ احتلال کا تسلسل قابض اسرائیل کو شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں کرتا۔

Tags: DisplacedPalestiniansgazaHumanitarianAidHumanitarianCrisisIsraeliAidRestrictionspalestineWinterCrisis
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.