غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی دھرتی پر اب پانی کا بحران محض حیات بخش مائعات کی قلت کا قصہ نہیں رہا، بلکہ یہ روح کو چھلنی کر دینے والی ایک ایسی داستانِ کرب بن چکا ہے جو زندگی کے اولین سر چشموں سے جنم لیتی ہے اور کسی ایسے نامعلوم ٹینکر کے انتظار پر دم توڑ جاتی ہے جو شاید کبھی اس اجڑے ہوئے دیار کی دہلیز تک پہنچ ہی نہ سکے۔
مسمار کنویں، تباہ شدہ ڈی سیلینیشن پلانٹس، موت کا منظر پیش کرتے واٹر نیٹ ورکس، ایندھن اور تیل کی بھوک میں مبتلا بے بس پمپس اور دھرتی کی کوکھ میں رستا ہوا غلاظت کا زہر ان تمام ہولناکیوں کے درمیان سسکتے ہوئے بے بس خاندانوں کا اب ایک ہی عذاب مسلسل رہ گیا ہےاپنی اور اپنے بچوں کی روح کو زندہ رکھنے کے لیے ایک قطرہ آب کا بندوبست کیسے کیا جائے؟
اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور (اوچا) کے دل دہلا دینے والے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پانی، صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کی تاریک وادیوں میں بھٹکتے ہوئے اکانوے فیصد خاندان اگست کے آغاز میں موت اور زندگی کی درمیانی لکیر پر کھڑے تھے، جہاں واٹر ان سکیورٹی کا یہ خوفناک عذاب دن بہ دن گہرا ہوتا جا رہا ہے، جبکہ جون کے مہینے میں یہ تناسب 84 فیصد اور جولائی میں 90 فیصد کے اندوہناک درجے پر پہنچ چکا تھا۔
پانی کی بے رحمانہ کمی ہی اکیلی قیامت نہیں تھی, بلکہ پانی کی بوند بوند کو ترسی ہوئی مخلوق کا ان گنت ہجوم جب پانی کے ریگستان نما مراکز پر امڈتا ہے تو وہ منظوم بے بسی اور تذلیل انسانیت کا ایک ایسا نوحہ بن جاتا ہے جو دل کے تار ہلا دیتا ہے۔
چھ لیٹر پانی اور زندگی کی سانسیں
غزہ کے اس مرگستاں میں پانی اور نکاسی آب کے مشترکہ اداروں کی روح فرسا رپورٹس بتاتی ہیں کہ سروے میں شامل 63 فیصد بدقسمت گھرانوں کو فی کس یومیہ چھ لیٹر سے بھی کم ترپانے والا پانی نصیب ہوتا ہے، جبکہ 34 فیصد خاندان اپنے گھروں کی چار دیواری کے اندر زندگی کی بنیادی ضرورت کے لیے نو لیٹر سے بھی کم پانی پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔
سب سے بڑھ کر روح کو جھنجھوڑ دینے والی حقیقت یہ ہے کہ 74 فیصد خاندان اب آسمان کی طرف دیکھنے کے بجائے پانی کے ان ٹینکرز کے رحم و کرم پر ہیں جن کی آمد کسی معجزے سے کم نہیں ہوتی اور جن کا حصول جان لیوا دھکم پیل کے بغیر ناممکن ہے۔ پانی کو جمع کرنے اور محفوظ رکھنے والے برتنوں کی عدم موجودگی اس کرب میں مزید تازیانہ بن جاتی ہے۔
یہیں سے ایک دل سوز تضاد جنم لیتا ہے,سرکاری واٹر نیٹ ورک جتنا ٹوٹتا چلا جاتا ہے، ان ٹینکرز پر مجبوری کا انحصار اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے, ٹینکرز کی یہ دوڑ جس ایندھن اور اسپیئر پارٹس کی محتاج ہے، وہ پہلے ہی اس محاصرہ زدہ خطے میں نایاب ہو چکے ہیں۔
اب سوال یہ نہیں رہا کہ کیا پانی زمین پر موجود ہے؟ اب سوال یہ بن چکا ہے کہ کیا اسے قبر نما تہوں سے نکالا جا سکتا ہے؟ کیا اسے رگوں میں اتارا جا سکتا ہے؟ کیا یہ ٹینکر یا پمپ کے دم توڑنے سے پہلے ان سوکھے ہوئے ہونٹوں تک پہنچ پائے گا؟
جب ٹینکر ہی آخری سہارابن جائے
دردر کی ٹھوکریں کھاتے پناہ گزین کیمپوں میں اب پانی کے یہ ٹینکرز زندگی کی واحد علامت بن چکے ہیں، مگر ان کی بے قاعدہ اور ظالم رفتار وہ سکون نہیں دے سکتی جو زندگی کا استحقاق ہوتا ہے۔
شجاعیہ کے کھنڈرات سے اجڑ کر آنے والے محمد حلس جو اپنے چھ معصوم بچوں کے ساتھ بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں نے مرکز اطلاعات فلسطین کو دل چیر دینے والی روداد سنائی کہ کیسے کبھی ان کے کیمپ میں روزانہ ایک مسیحا ٹینکر آتا تھا اور انہیں ایک سو لیٹر زندگی میسر آ جاتی تھی۔
مگر اب وہ ظلمتیں اتری ہیں کہ ہفتے میں صرف دو بار ٹینکر کا دیدار نصیب ہوتا ہے۔
محمد حلس کے مطابق جب وہ ٹینکر آتا ہے تو انسان انسان کا دشمن بن جاتا ہے، پانی کے حصول کے لیے بھوکوں اور پیاسوں کا وہ سمندر امڈتا ہے کہ انسانیت سسک اٹھتی ہے۔ وہ ایک سو لیٹر کا تندور نما پانی جو ان کے حصے میں آتا ہے، پورے تین یا چار دن تک روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے کفایت سے چلانا پڑتا ہے۔
وہ لرزہ خیز لہجے میں بتاتے ہیں کہ یہ پانی بڑی مشکل سے گلے کی پیاس اور ہانڈی کی آگ بجھا پاتا ہے، جبکہ معصوم بچوں کو غسل دینے کے لیے انہیں مجبوراً اس سمندر کا رخ کرنا پڑتا ہے جس کی لہریں بھی اب زہر آلود ہو چکی ہیں۔
یہ گواہی اس جبرِ مسلسل کے اس تاریک پہلو کو بے نقاب کرتی ہے جہاں پانی کی کمی کا مطلب صرف پیاس نہیں، بلکہ حفظانِ صحت، پاکیزگی، نہانے، کپڑے دھونے اور زندگی کی ہر اس رمق کا قتل ہے جو انسان کو حیوان سے ممتاز کرتی ہے۔
بیسیوں کلوگرام کا بوجھ اٹھائے معصوم بچی
مغازی کیمپ کے اس دل دوز منظر نامے میں اب کردار معصوم بچے بن چکے ہیں جو بچپن کی دہلیز پر ہی موت کی سیاہی دیکھ رہے ہیں۔
دس سالہ میسرہ زقوت جس کی آنکھوں میں ابھی کتابیں پڑھنے کے خواب تھے , درس چھوڑ کر اپنے پانچ سالہ معصوم بھائی جود کے ساتھ اس دہکتی ہوئی دھوپ میں پانی کی تلاش میں نکل پڑی کیونکہ خیمے میں گلے کو تر کرنے کے لیے ایک قطرہ بھی موجود نہ تھا۔
میسرہ نے ہمارے نامہ نگار کو روتے ہوئے بتایا کہ ان کی اس ویران سنسان دنیا میں پینے، برتن دھونے یا غسل خانے کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔
اس شام وہ اپنے خیمے میں لوٹی تو اس کے نازک کندھوں پر بیس لیٹر پانی کا وہ پہاڑ جیسا بوجھ تھا جو چھ انسانوں کی زندگی کی ضمانت بنا تھا۔
یہ تصویر صرف پانی کی بوندوں کی نہیں، بلکہ اس معصومیت کے خون کی ہے جسے جنگ نے اپنے پیروں تلے روند ڈالا ہے۔ غزہ کے یہ بچے اب تعلیم، ہنسی مذاق اور خوابوں کی دنیا سے نکل کر پانی کے سفاک بوجھ تلے دب چکے ہیں۔
بارہ سالہ یامن صالح اور اس کے چھ سالہ بھائی آمان کی داستان بھی کچھ مختلف نہیں، جو اپنے دن کا سورج پانی کی تلاش میں ڈبو دیتے ہیں۔ یامن آہیں بھرتے ہوئے بتاتا ہے کہ یہ بھاری ڈرم اس کے نازک کندھوں اور کمر کی ہڈیوں کو توڑ رہے ہیں، اور کئی بار وہ ان بوجھوں کے نیچے گر کر لہولہان ہو جاتا ہے۔
ہسپتال کے دریچوں سے یہ سچائی بھی عیاں ہوتی ہے کہ ان ننھے فرشتوں کے پٹھے اس ظالمانہ بوجھ تلے اکڑ چکے ہیں، اور ڈاکٹروں نے ایسے ان گنت بچوں میں ہرنیا اور ریڑھ کی ہڈی کی تباہی کے ہولناک کیسز دیکھے ہیں جو اس سفاک عذاب کو اٹھانے پر مجبور ہیں۔
موت کا آغاز کنوؤں کے سینے سے ہوتا ہے
مگر اصل سوال یہ ہے کہ زندگی کا یہ سر چشمہ آخر سوکھ کیوں گیا؟
غزہ کے واٹر اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل منذر سالم کا دل دہلا دینے والا بیان بتاتا ہے کہ اس مٹی کے 320میں سے 210 سے زائد کنویں راکھ کا ڈھیر بنا دیے گئے ہیں اور 80 فیصد سے زائد وہ ڈی سیلینیشن پلانٹس تباہ کر دیے گئے جو اس پیاسی آبادی کو امرت رس فراہم کرتے تھے۔
جنگ کے اس ہونی سے پہلے جو پانی روزانہ تین لاکھ کیوبک میٹر کی روانی سے بہتا تھا، وہ اب گھٹ کر صرف ایک لاکھ 20 ہزار کیوبک میٹر رہ گیا ہے، یعنی 60 فیصد زندگی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔
بنیادی ڈھانچے کے ان زخموں نے پانی کے اندر زہر گھول دیا ہے، اور آلودگی کی شرح جنگ سے پہلے کے چار فیصد سے آسمان کو چھوتی ہوئی 17 فیصد تک جا پہنچی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ غزہ میں پیاس کا یہ طوفان محض تقسیم کی غفلت نہیں، بلکہ یہ اس دھرتی کی پیداواری صلاحیت کا منظم قتل ہے۔
کنوؤں کو بجلی اور تیل چاہیے، پلانٹس کو سانس لینے کے لیے آکسیجن چاہیے، پمپس کو حرکت چاہیے اور یہ سب اس قابض درندے کی نظر میں جرم ہے۔
جب ایک بھی ریشہ ٹوٹتا ہے، تو پیاس کے صحرا پھیل جاتے ہیں اور جب سب رستے بند کر دیے جائیں تو ٹینکر بھی ریت کا ڈھیر بن جاتا ہے۔
جب سفاکیت گاڑیوں کے پہیے بھی روک دے
المیہ یہیں ختم نہیں ہوتا، ظلم کا یہ جال نقل و حمل کے آخری ذرائع کو بھی نگل چکا ہے۔ ہائل المانعہ جن کے دو ٹینکر مواصی خان یونس اور وسطی پٹی کے باسیوں تک زندگی پہنچاتے تھے، ان کے پاس اب رونے کے سوا کچھ نہیں۔
انجن کا تیل اور اسپیئر پارٹس نہ ہونے کی وجہ سے ان کے دونوں آہنی گھوڑے ہمیشہ کے لیے تھک چکے ہیں، جنہیں اب کوئی مسیحا ٹھیک نہیں کر سکتا۔
وہ کہتے ہیں کہ جب تڑپتے ہوئے انسان ان سے پانی مانگتے ہیں تو وہ پتھر کا دل لے کر انکار کر دیتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اب حرکت کرنے کا کوئی وسیلہ باقی نہیں بچا۔
ایک ضرب اور ہزاروں زندگیوں کا ماتم
چوبیس اگست کا دن غزہ کی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب بن کر اترا جب دیر البلح کے کنویں جے بتیس پر قہر ٹوٹا، اور وہ واحد سہارا جو ایک لاکھ پیاسے انسانوں کو زندگی بخش رہا تھا، ملبے کا ڈھیر بن گیا۔
انسانی فلاح کے اداروں نے جب ملبہ ہٹایا تب تک سانسیں رک چکی تھیں، جو اس نازک نظام کی سفاک حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ ایک ضرب دسیوں ہزار انسانوں کو موت کی نیند سلا سکتی ہے۔
اور جب قابض اسرائیل کے اندر سے پانی کی اس سپلائی کو عارضی طور پر روکا گیا تو غزہ کے 10 لاکھ انسانوں پر ایک اور قیامت ٹوٹ پڑی، جو اسی آبی ڈور سے اپنی سانسیں جوڑے بیٹھے تھے۔
جب سمندر بھی پیاس نہ بجھا سکے
ساحل کے کنارے بسے اس غزہ میں نیلا سمندر قریب تو ہے، مگر اس کا پانی گلے کی آگ بجھانے کے بجائے مزید سوزش بخشتا ہے۔
پیاس کی شدت جب حد سے بڑھتی ہے تو لوگ اس نمکین پانی میں نہانے پر مجبور ہوتے ہیں، جبکہ سیوریج کے غلاظت زدہ چشمے اس زیرِ زمین آبی ذخیرے میں زہر گھول رہے ہیں جو کبھی اس خطے کا واحد میٹھا ورثہ تھا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ گواہی دیتی ہے کہ تیرہ لاکھ سے زائد انسانوں کا مقدر چھ لیٹر پانی بن چکا ہے، اور ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق یہ گھٹ کر صرف چار اعشاریہ تین لیٹر تک سمٹ چکا ہے۔
سانس کی بیماریاں چھیالی فیصد، جلد کا ناسور اکتیس فیصد، اور پانی سے پھیلنے والا خونی اسہال اکیس فیصد انسانوں کو قبرستان کی طرف دھکیل رہا ہے۔
کیا یہ پانی کا بحران ہے یا انسانیت کا جنازہ؟
غزہ میں آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض پانی کی قلت نہیں، بلکہ یہ پوری انسانی تہذیب کا ایک منظم انہدام ہے۔
پیداوار ختم، نیٹ ورک مردہ، پلانٹس اجڑے، کنویں مسمار، ٹینکرز بے بس، اور ماحولیاتی زہر میں لپٹے ہوئے وہ انسان جو ایک بوند کے لیے ترس رہے ہیں۔
اوتشا کے مطابق اکانوے فیصد خاندانوں کی روحیں اس واٹر ان سیکیورٹی کے جہنم میں جل رہی ہیں۔
خیموں سے اٹھتی ہوئی وہ آہیں کہ جہاں بوڑھا باپ دو بوند پانی کے لیے دن گنتا ہے، جہاں معصوم بچی بیس لیٹر کا بوجھ اٹھائے ماں کی طرف دوڑتی ہے، اور جہاں سمندر کی نمکین لہریں بچوں کے تن بدن کو جھلساتی ہیں، یہ سب گواہی دیتی ہیں کہ غزہ میں اب پانی کا سوال زندگی اور موت کا آخری معرکہ بن چکا ہے۔
اس سے پہلے کہ یہ پیاس پورے خطے کو راکھ کا ڈھیر بنا دے، دنیا کو یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا اس دھرتی پر سانس لینے والوں کا حقِ حیات اب بھی باقی ہے یا نہیں۔