غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کی تکالیف میں گرمیوں کے موسم کے آغاز اور درجہ حرارت کی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے ساتھ غیر معمولی حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جہاں اہل غزہ گذشتہ جارحیت کے دوران پانی کے بنیادی ڈھانچے کی وسیع اور منظم تباہی کے نتیجے میں روزمرہ کے عذاب کے ایک نئے اور تکلیف دہ باب کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس تباہی کے مرکز میں غزہ میں پانی کا ایک قطرہ ایک سادہ سا قدرتی حق ہونے کے بجائے ایک ناممکن خواہش اور ایسی جنس نایاب بن چکا ہے جس کے حصول کے لیے شہری اپنی محنت اور صحت کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ غزہ کے باسیوں کی صبح اور شام پانی کے ٹینکرز اور محدود فلنگ پوائنٹس کے سامنے گھنٹوں لمبی قطاروں میں گزرتی ہے، جبکہ کیمپوں میں موجود لاکھوں بے گھر افراد، بالخصوص بچوں، بزرگوں اور مریضوں کے لیے صحت کے بحران کی سنگین تنبیہات جاری ہیں۔
اقوام متحدہ کی تنظیمیں نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ بحران مزید خطرناک پیچیدگی کی طرف بڑھ رہا ہے، کیونکہ دسیوں ہزار خاندان مکمل طور پر ٹرانسپورٹ ٹینکرز یا مقامی تنصیبات پر انحصار کرتے ہیں جن کے وسائل ختم ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ غزہ کے 82 فیصد خاندان پہلے ہی پانی کی عدم دستیابی کا شکار ہیں، جبکہ 70 فیصد خاندان زندہ رہنے کے لیے درکار انسانی بنیادی ضرورت یعنی چھ لیٹر پانی روزانہ حاصل کرنے سے بھی قاصر ہیں۔
اس روزانہ کے جبر کا مشاہدہ کرنے کے لیے ایک میدانی دورے کے دوران، غزہ شہر کے مغرب میں ایک کیمپ میں بے گھر ہونے والی تین بچوں کی والدہ ام عدی مہنا نے اپنے مشکل سفر کی تفصیلات بتاتے ہوئے مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کو بتایا کہ وہ پانی کے ٹرک کے انتظار میں جلتی ہوئی دھوپ میں دو گھنٹے سے زیادہ کھڑی رہنے پر مجبور ہیں۔ ٹرک کے پہنچتے ہی پانی ختم ہونے کے ڈر سے شہریوں کے درمیان ایک خوفناک دھکم پیل شروع ہو جاتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بحران اب صرف پیاس تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ذاتی صفائی، کپڑے دھونے اور نہانے کے فقدان تک پھیل چکا ہے۔
روزمرہ کا معمول
الشاطی کیمپ میں پانی لانا ایک ایسا لازمی معمول بن چکا ہے جو بچوں کا بچپن چھین رہا ہے۔ چالیس سالہ اشرف مقداد فجر کے وقت خالی برتن تیار کرنے کے لیے بیدار ہوتے ہیں اور اپنے بچوں کو ساتھ لے کر لمبی مسافت طے کرتے ہیں تاکہ اپنے چھ رکنی خاندان کے لیے صرف ایک دن کا پانی حاصل کر سکیں۔ وہ حال ہی میں ان کے علاقے میں آنے والے ٹرکوں کی تعداد میں نمایاں کمی پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
دیر البلح میں بھی صورتحال کم تکلیف دہ نہیں ہے، جہاں شیریں خالد اور ان کا خاندان پانی کے ٹینکرز کی مکمل عدم موجودگی کے نتیجے میں پانی کے گھٹن زدہ محاصرے میں جی رہے ہیں۔ اس صورتحال نے انہیں پانی کی بچت کی ایسی جبری پالیسی اپنانے پر مجبور کیا جو شدید گرمی اور ان کے تین بچوں کی ضروریات کے سامنے ناکام ہو چکی ہے۔ وہ اس بات کا شدید خوف محسوس کرتی ہیں کہ کہیں ان کے بچے پانی کی کمی کا شکار نہ ہو جائیں یا انہیں آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
اس کا تائید ان کے تیرہ سالہ بیٹے خالد نے بھی کی، جس نے حسرت کے ساتھ بتایا کہ وہ بھاری برتن اٹھا کر لمبی مسافت طے کرتا ہے اور صرف یہ خواہش کرتا ہے کہ وہ اپنی معمول کی زندگی میں واپس چلا جائے، بغیر اس سوچ کے کہ صاف پانی کا ایک گلاس کیسے حاصل کیا جائے۔
یہ جسمانی بوجھ مومن حمدونہ کے معاملے میں ایک حقیقی خطرے میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو غزہ کے مغرب میں کیمپ میں رہتے ہیں اور اپنے ضعیف والدین کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ دستیاب پانی اکثر بہت نمکین یا آلودہ ہوتا ہے، جو ان کے والد کی زندگی کے لیے براہ راست خطرہ ہے جو دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ یہی امر انہیں اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی روزانہ کی خوراک میں کٹوتی کر کے مہنگے داموں منرل واٹر خریدیں، جبکہ ان کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
فنڈنگ میں کمی
اسی تناظر میں پٹی میں کام کرنے والی ایک بین الاقوامی امدادی تنظیم کے ایک ذمہ دار ذریعے نے ایک نئے صدمے کا انکشاف کیا، جو بین الاقوامی عطیہ دہندگان کی طرف سے پینے کے پانی کی حمایت کے لیے مختص فنڈز اور مالی امداد میں کمی کی صورت میں سامنے آیا ہے، جس کی کوئی واضح وجوہات نہیں بتائی گئیں۔
ذرائع نے خبردار کیا کہ العربي الجديد کے مطابق، اس کمی کے آنے والے ہفتوں میں شہریوں کی زندگیوں پر تباہ کن اور خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔
ایک پکار
دوسری طرف واٹر اتھارٹی اور ماحولیاتی معیار کے منصوبہ بندی کے ڈائریکٹر جنرل مازن البنا نے ایک انتباہی چیخ بلند کرتے ہوئے زور دیا کہ پانی کی کمی اب عوامی صحت کے لیے براہ راست خطرہ بن چکی ہے اور مہلک وبائی امراض کے پھیلنے کے امکانات کو بڑھا رہی ہے۔
ایک پریس بیان میں، البنا نے اعداد و شمار کے ساتھ تباہی کے حجم اور متبادل راستوں کے بند ہونے کا احاطہ کرتے ہوئے کہا: "جنگ نے غزہ کی پٹی میں پانی اور نکاسی آب کی تقریباً 85 فیصد تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے، جس میں کنویں، پمپنگ سٹیشنز، ڈی سیلینیشن اور ٹریٹمنٹ پلانٹس شامل ہیں۔ اس اہم شعبے کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ تقریباً 800 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔”
اس مکمل تباہی کے نتیجے میں، پانی کی پیداوار اب کم ہو کر تقریباً 130 ہزار کیوبک میٹر روزانہ رہ گئی ہے، جو کہ جنگ سے پہلے دستیاب مقدار کا صرف 30 سے 40 فیصد ہے، جس کا انحصار تین اہم ذرائع پر تھا۔ زیر زمین آبی ذخائر، سمندری پانی کو میٹھا کرنے کے پلانٹس، اور قابض اسرائیل کی (میکروت) کمپنی سے آنے والا پانی، جس کی کل مقدار 300 ہزار کیوبک میٹر روزانہ تک پہنچتی تھی۔
البنا نے مزید کہا کہ نیٹ ورکس کے متاثر ہونے سے پانی کے ضیاع کا تناسب جنگ سے پہلے 30 فیصد سے بڑھ کر اب 50 یا 60 فیصد ہو گیا ہے، جس سے شہریوں تک پانی پہنچانے میں بلدیات کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ "آج، بے گھر ہونے والے کیمپوں میں فی کس پانی کا حصہ جو ٹینکروں پر انحصار کرتے ہیں، 10 لیٹر روزانہ سے زیادہ نہیں ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی سفارش کے مطابق کم از کم 100 لیٹر روزانہ ہونا چاہیے۔”
البنا کے مطابق جلتی پر تیل کا کام یہ حقیقت کرتی ہے کہ ان ٹینکروں کے ذریعے پہنچایا جانے والا پانی نقل و حمل یا کیمپوں کے اندر ابتدائی ذخیرہ اندوزی کے دوران شدید آلودگی کا شکار رہتا ہے، جس سے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ پٹی میں 97 فیصد زیر زمین پانی کے کنویں جنگ سے پہلے ہی پینے کے پانی کے معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔
ڈائریکٹر جنرل منصوبہ بندی نے مستقبل کے بارے میں انتباہ کرتے ہوئے اپنی بات ختم کی: "موسم گرما کا داخلہ پانی کی طلب کو بہت زیادہ اور ریکارڈ سطح تک بڑھا دے گا، ایسے وقت میں جب بلدیات کو شدید ممانعت، ایندھن کی کمی، اسپیئر پارٹس، اور پانی کی تنصیبات کو چلانے اور صاف کرنے کے لیے درکار کلورین سے متعلق بڑھتے ہوئے وجودی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قابض اسرائیل کا سخت محاصرہ پیداوار بڑھانے یا جان بچانے والی خدمات کو بہتر بنانے کی کسی بھی کوشش میں مکمل رکاوٹ ہے۔”
اس تاریک حقیقت کے سامنے، غزہ کی پٹی میں پانی کا بحران اب صرف خدمات کی کمی نہیں رہا، بلکہ یہ خاموش موت کا ایک آلہ بن چکا ہے جو سیوریج کے پانی اور جمع شدہ کوڑے کے ملنے کے نتیجے میں آنتوں اور جلد کی مہلک بیماریوں کا محاذ کھولنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ یہ صورتحال بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ایک حتمی اخلاقی امتحان کے سامنے کھڑا کرتی ہے کہ وہ کراسنگ کھولنے، ایندھن، کلورین اور نیٹ ورکس کے بقیہ حصے کی مرمت کے لیے آلات داخل کرنے کے لیے فوری دباؤ ڈالیں، اس سے پہلے کہ پیاس اور بیماریاں اس تباہ حال پٹی میں باقی ماندہ جانوں کو نگل جائیں۔