غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیل کی فوج نے جمعرات کی صبح غزہ کی پٹی میں گھروں کو اڑانے اور مختلف علاقوں میں فائرنگ کرکے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھیں۔
ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں خان یونس شہر کے مغرب میں واقع المحررات کے علاقے میں قابض اسرائیل کی فوج کی گولیوں سے ایک خاتون زخمی ہوئی ہے۔
آج فجر کے وقت غزہ شہر میں قابض اسرائیل کی بحریہ کی فائرنگ سے ماہی گیر محمد جلال العبد القرعان شدید زخمی ہوگیا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ پٹی کے جنوب میں خان یونس کے مشرقی علاقوں میں قابض اسرائیل کی بکتر بند گاڑیوں کی طرف سے فائرنگ کی گئی اور شہر کے مشرقی حصے میں ایک بڑی عمارت کو تباہ کرنے کا آپریشن کیا گیا۔
پٹی کے وسطی حصے میں قابض اسرائیل کی جنگی کشتیوں نے الزوایدہ کے ساحل کی جانب فائرنگ کی۔
قابض اسرائیل کی فوج غزہ کی پٹی میں فضائی اور توپ خانے کے ذریعے بے گھر افراد کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر، اور نام نہاد ’پیلی لائن‘ (الخط الأصفر) کے اندر عمارتوں کو گرانے اور تباہی مچانے کے ساتھ ساتھ سامان، امداد اور سفر کی نقل و حرکت پر پابندیاں برقرار رکھ کر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ دس اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے آغاز سے اب تک شہداء کی تعداد ایک ہزار سات ہو گئی ہے، اس کے علاوہ تین ہزار ایک سو پینسٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں اور سات سو چوراسی افراد کی لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی جارحیت کے نتیجے میں کل شہداء کی تعداد تقریباً تہتر ہزار اٹھارہ اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ تہتر ہزار دو سو تہتر تک پہنچ گئی ہے، جو اس پٹی پر قابض اسرائیل کی جاری جارحیت کی بھاری انسانی قیمت کا اشارہ ہے۔