غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی میں مزاحمت کے سکیورٹی ادارے "المجد الامنی” نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے تخریبی سیل یعنی نیٹ ورک کو گرفتار کر لیا ہے جو کٹھ پتلی گینگ کی ہدایات اور قابض اسرائیل کی انٹیلی جنس کے ساتھ براہ راست ہم آہنگی کے تحت کام کر رہا تھا اور اس نیٹ ورک نے پٹی کے اندر تخریبی اور اشتعال انگیز سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے متعدد خفیہ ٹھکانوں کا سہارا لے رکھا تھا تاکہ فلسطینیوں کی نسل کشی کرنے والے غاصب دشمن کے عزائم کو پورا کیا جا سکے۔
مذکورہ سکیورٹی ادارے نے ایک پریس ریلیز میں وضاحت کی ہے کہ اس نیٹ ورک کے ارکان کے اعترافات سے یہ ہولناک انکشاف ہوا ہے کہ انہیں شہریوں کو بھڑکانے اور افراتفری پھیلانے کی ہدایات ملی تھیں تاکہ پولیس اہلکاروں کو اپنے جال میں پھنسایا جا سکے اور قابض دشمن اور اس کے کارندوں کے لیے ان کو نشانہ بنانا آسان ہو جائے۔
ادارے نے مزید بتایا کہ مزاحمت کے سکیورٹی تخمینوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قابض دشمن کے پاس ایسے گھناؤنے منصوبے موجود ہیں جن کے تحت وہ مستقبل قریب میں متعدد علاقوں میں تخریبی کارروائیاں کرنے کے لیے اپنے کٹھ پتلی گروہوں کو ذمہ داریاں سونپ رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ پٹی کے اندر اشتعال انگیز سرگرمیاں انجام دینے کے لیے دیگر ایجنٹوں کو بھی متحرک کر رہا ہے۔
"المجد الامنی” نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ ان خطرناک سرگرمیوں میں ملوث افراد کو بے نقاب اور گرفتار کر کے ایک اہم سکیورٹی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے، جبکہ ان کے مفسدانہ قبضے سے مختلف قسم کے ہتھیار اور تخریبی آلات بھی ضبط کر لیے گئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ متعلقہ سکیورٹی حکام ملوث دیگر عناصر کا تعاقب کرنے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو ناکام کرنے کے لیے سکیورٹی آپریشنز کا سلسلہ مستقل جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ امن اور استحکام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے جو فلسطینیوں کے نصب العین کا اہم حصہ ہے۔
سکیورٹی ادارے نے مظلوم شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ کٹھن حالات میں چوکسی اور ہوشیاری کا مظاہرہ کریں، دشمن کے اشتعال انگیز میڈیا پلیٹ فارمز کے بہکاوے میں بالکل نہ آئیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا ایسی نقل و حرکت کی فوری اطلاع دیں جو شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہو۔