• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 8 اکتوبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

غزہ بغیر اسکولوں کے، جنگ نے تعلیمی نظام تباہ اور ایک نسل کا مستقبل متاثر کر دیا

قابض اسرائیل کی طرف سے غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ نے نہ صرف مکانات، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو مسمار کرنے پر ہی اکتفا کیا، بلکہ اس کی وحشت سکولوں اور یونیورسٹیوں تک بھی پھیل گئی ہے۔

جمعرات 08-10-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, غزہ
0
غزہ بغیر اسکولوں کے، جنگ نے تعلیمی نظام تباہ اور ایک نسل کا مستقبل متاثر کر دیا
0
SHARES
0
VIEWS

غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیل کی طرف سے غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ نے نہ صرف مکانات، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو مسمار کرنے پر ہی اکتفا کیا، بلکہ اس کی وحشت سکولوں اور یونیورسٹیوں تک بھی پھیل گئی، جس نے تعلیمی نظام کو اس کی تاریخ کے سب سے بڑے اور تباہ کن بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ہزاروں تدریسی گھنٹے نقل مکانی اور انتظار کے دنوں میں بدل چکے ہیں، جبکہ سکول علم کی روشنی پھیلانے والے مراکز سے پناہ گاہوں میں تبدیل ہونے کے بعد اب تباہ شدہ یا ناقابلِ استعمال عمارتوں کا روپ دھار چکے ہیں۔

اس جنگ کے شروع ہونے کو تین سال بیت جانے کے بعد فلسطینی اور بین الاقوامی اعداد و شمار تعلیمی شعبے کو پہنچنے والے اس ہولناک المیے کی عکاسی کرتے ہیں۔ فلسطینی وزیرِ تعلیم و اعلیٰ تعلیم امجد برهم نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کے نوے فیصد سے زائد سکول اور پچاسی فیصد سے زیادہ یونیورسٹیاں اور اعلیٰ تعلیمی ادارے تباہی کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ بین الاقوامی اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پٹی میں سکولوں کی تقریبا 98 فیصد عمارتیں کسی نہ کسی شکل میں نقصان کا شکار ہوئی ہیں اور ان میں سے 93فیصد سے زیادہ کو یا تو بڑے پیمانے پر بحالی کی ضرورت ہے یا پھر ان کی مکمل از سرِ نو تعمیر ناگزیر ہے۔

طلبہ اور عملے کے اکیس ہزار سے زائد شہداء

فلسطینی وزارتِ تعلیم و اعلیٰ تعلیم کے اعداد و شمار سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ تعلیمی شعبے میں جنگ کا انسانی جانی خسارہ صرف عمارتوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ غزہ میں سکولوں کے 19 ہزار 188 طلبہ و طالبات اور یونیورسٹیوں کے 1386 طلبہ و طالبات جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، جبکہ 28 ہزار پانچ سو چھاسی سکول طلبہ اور تین ہزار بیاسی جامعات طلبہ مختلف نوعیت کے زخموں سے دوچار ہوئے ہیں۔

تعلیمی عملے کی بات کی جائے تو سکولوں کے 805 ملازمین اور یونیورسٹیوں کے 246لیکچرار اور کارکنان شہید ہو چکے ہیں، جبکہ سکولوں کے تین ہزار دو سو اٹھانوے ملازمین اور یونیورسٹیوں کے ایک ہزار چار سو تریانوے کارکنان زخمی ہوئے ہیں۔

وزارت تعلیم کی اس رپورٹ کے مطابق جو سات اکتوبر سنہ 2023ء سے لے کر سات اکتوبر سنہ 2026ء تک کے عرصے کا احاطہ کرتی ہے، فلسطین میں طلبہ اور تعلیمی عملے کے شہداء کی تعداد بائیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جو جنگ کے ان سالوں کے دوران تعلیمی عمل کو ہدف بنانے کی ہولناکی کو واضح کرتی ہے۔

تقریباً ہر دوسر سکول تباہی کی زد میں

تباہی کے یہ اعداد و شمار پٹی کے اندر کسی بھی قسم کے عام تعلیمی نظام کے بارے میں بات کرنے کی گنجائش باقی نہیں چھوڑتے، کیونکہ اقوام متحدہ کے ایک جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 97 فیصد سکول کسی نہ کسی نوعیت کے نقصان سے دوچار ہوئے ہیں، جبکہ کل 565 میں سے 518 سکول کی عمارتوں کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے لیے مکمل تعمیر نو یا بنیادی بحالی کے کاموں کی ضرورت ہے۔

جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک اقوام متحدہ کے اعداد و شمار اور مصنوعی سیاروں کی تصاویر پر مبنی نقصان کے ایک جائزے کے مطابق 432 سکول کی عمارتیں، جو کہ کل سکولوں کا76اعشاریہ چھ فیصد بنتی ہیں، براہ راست حملوں کی زد میں آئی ہیں۔

فلسطینی وزارتِ تعلیم و اعلیٰ تعلیم کے اعداو شمار کے مطابق غزہ میں 189سے زائد سرکاری سکول مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں، اس کے علاوہ پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے ’انروا‘ کے زیرِ انتظام چلنے والے 105 سے زیادہ سکول بھی ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، ساتھ ہی 63 سے زائد جامعاتی عمارتیں بھی برباد کر دی گئی ہیں۔

یہ نقصان صرف دیواروں اور بینچوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس تباہی کی زد میں لیبارٹریاں، سکول کا سامان اور تکنیکی آلات بھی آئے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ تعلیمی عمل کی بحالی کا تعلق کسی معمولی مرمت سے نہیں، بلکہ ایک پورے نظام کی از سرِ نو تعمیر سے ہے۔

سات لاکھ بچے باقاعدہ تعلیم سے محروم

ان اعداد و شمار کے پس منظر میں پڑھنے کی عمر کے تقریبا سات لاکھ ایسے بچے موجود ہیں جنہوں نے باقاعدہ تعلیمی سلسلے سے کٹے ہوئے کئی سال گزار دیے ہیں۔ یونیسف کے مطابق غزہ کے بیشتر بچوں کو لگاتار تین تعلیمی سالوں تک باضابطہ حاضری والی تعلیم سے محروم رکھا گیا، جبکہ سکولوں کی تقریبا اٹھانوے فیصد عمارتیں نقصان کا شکار ہو چکی ہیں۔

یونیسیف نے سنہ 2025ء کے آخر میں یہ انتباہ جاری کیا تھا کہ پٹی کے 97 فیصد سے زیادہ سکول تباہ یا برباد ہو چکے ہیں 91اعشاریہ آٹھ فیصد تعلیمی سہولیات کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے مکمل تعمیر نو یا بڑی بحالی کی ضرورت ہے، جبکہ تعلیم کی عمر کے اکثر بچے دو سے زیادہ تعلیمی سالوں سے باقاعدہ حاضری والے تعلیمی اداروں تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر رہے ہیں۔

بار بار کی نقل مکانی، سکولوں کی تباہی اور عدم تحفظ کے احساس کے ساتھ تعلیمی انقطاع اب کوئی عارضی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسا بحران بن چکا ہے جو بچوں کی تعلیمی قابلیت، نفسیاتی و سماجی نشوونما اور ان کے مستقبل کے تمام امکانات کو شدید خطرے سے دوچار کر رہا ہے۔

تعلیم خیموں کی طرف منتقل

اس انہدام کے مقابلے میں وزارتِ تعلیم و اعلیٰ تعلیم دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے تعلیمی عمل کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، چنانچہ پٹی کے مختلف علاقوں میں سات سو کے قریب تعلیمی مراکز قائم کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ غزہ کے اندر اور باہر کے طلبہ کی خدمت کے لیے بارہ افتتاحی سکول بھی بنائے گئے ہیں۔

گذشتہ ستمبر کے مہینے میں امجد برهم نے بتایا تھا کہ غزہ پٹی میں تقریبا پانچ لاکھ 42 ہزار طلبہ و طالبات سات سو سے زیادہ تعلیمی زونز کے ذریعے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ پٹی کے باہر سے تقریباً 20 ہزار طلبہ آن لائن تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جب کہ چالیس ہزار کے قریب طلبہ کو تعلیمی مراکز تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور انہیں الیکٹرانک طریقے سے تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔

خیمے اور عارضی مراکز سکول کا کوئی آسان متبادل ثابت نہیں ہو رہے؛ کیونکہ یہ تعلیمی عمل محفوظ جگہوں، ضروری سازوسامان، کتابوں اور بنیادی ڈھانچے کی شدید قلت کے ماحول میں جاری ہے، جبکہ اساتذہ اور طلبہ ایسے ماحول میں پڑھائی جاری رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں جو اب بھی جنگ اور نقل مکانی کے زخم اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔

یونیورسٹیاں بھی ملبے تلے

اس المیے کی زد میں اعلیٰ تعلیم بھی آئی ہے، کیونکہ غزہ کی اکثریت یونیورسٹیاں اور اعلیٰ تعلیمی ادارے یا تو مکمل تباہی کا شکار ہو چکے ہیں یا انہیں شدید نوعیت کا نقصان پہنچا ہے، جس نے ہزاروں طلبہ کو ان لیبارٹریوں، ہالوں، لائبریریوں اور سہولیات سے محروم کر دیا ہے جن کی انہیں اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے لیے اشد ضرورت تھی۔

مئی سنہ 2026ء میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے تعلیمی اداروں تک رسائی کی بحالی اور ہائیر سیکنڈری کے طلبہ کی مدد کے فلاحی اقدامات کے تحت پٹی کے دس سکولی مقامات پر پھیلے ہوئے ایک سو تعلیمی یونٹس کی تکمیل کا اعلان کیا، جو کہ وسیع تر تباہی کے اس دور میں عارضی تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے سکول بھی خطرے کی زد میں

اس ہدف کو بنانے کے اثرات صرف غزہ تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ امجد برهم نے مغربی کنارے میں قابض فوج کی طرف سے چیلنج سکولوں کو نشانہ بنانے میں اضافے کی طرف بھی اشارہ کیا، بالخصوص وادی اردن اور الخلیل کے جنوب میں مسافر یطا کے علاقوں میں، جہاں مسافر یطا میں بیس سے زائد سکولوں کو مسمار کرنے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جو سیکڑوں طلبہ کے حقِ تعلیم کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

وزارتِ تعلیم نے مغربی کنارے میں تعلیمی اداروں، طلبہ اور تدریسی عملے پر جاری حملوں کی بھی نشاندہی کی ہے، جن میں گرفتاریاں، دھاوے اور تالے لگانا شامل ہیں، جس سے فلسطینی تعلیم پر دائرہ کار کا دباؤ پٹی سے باہر بھی پھیلتا جا رہا ہے۔

جب تعلیم کو بچانا خود ایک جنگ بن جائے

جنگ کے تین سال بیت جانے کے بعد غزہ میں اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ طلبہ اپنے سکولوں میں کب واپس لوٹیں گے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ایک ایسے تعلیمی نظام کو کیسے دوبارہ تعمیر کیا جائے جس نے ہزاروں طلبہ اور اساتذہ کو کھو دیا ہو، جس کی اکثر عمارتیں تباہ ہو چکی ہوں اور جس کی پوری پوری نسلیں لگاتار کئی سالوں سے تعلیم سے کٹ چکی ہوں۔

سکولوں اور یونیورسٹیوں کی تعمیرِ نو شاید دیواریں، بیچ، اور لیبارٹریاں تو واپس لے آئے، مگر یہ ان سالوں کو واپس نہیں لا سکتی جو بچوں سے چھن چکے ہیں۔ نہ ہی یہ نقل مکانی، خوف اور ساتھیوں اور اساتذہ کو کھو دینے کے زخموں کو مٹا سکتی ہے۔ ملبے، خیموں اور افتتاحی تعلیم کے درمیان غزہ کی یہ نسل علم کے اپنے حق سے چمٹے رہنے کی کوشش کر رہی ہے، ایسے وقت میں جب تعلیم کے تسلسل کو برقرار رکھنا خود بقا کی ایک اور جنگ بن چکا ہے۔

Tags: EducationCrisisgazaGazaSchoolsGazaWarPalestinianChildrenPalestinianStudents
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.