غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی میں وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش نے محصور پٹی کے اندر تیزی سے ابتر ہوتی ہوئی صحت اور ماحولیاتی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ہسپتالوں اور طبی مراکز میں صفر بیلنس (ختم ہو جانے والی) ادویات کی شرح 53 فی صدسے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ ہولناک بحران ایسے عالم میں شدت اختیار کر گیا ہے جب قابض اسرائیلی فوج نے مسلسل ادویات، طبی آلات، جنریٹرز کے لیے ایندھن اور ضروری تیل کی فراہمی پر سخت ترین پابندی عائد کر رکھی ہے۔
ڈاکٹر منیر البرش نے اپنے اہم پریس بیانات میں وضاحت کی کہ وزارت کے وبائی نگرانی کے اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ غزہ پٹی میں پھیلنے والی کل بیماریوں میں سے تقریباً 28 فی صد امراض براہِ راست آلودہ پانی کی وجہ سے جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پناہ گزین کیمپوں اور مراکزِ پناہ کے اندر پینے کے صاف پانی کا گندے پانی کے جوہڑوں اور نکاسی آب کے ساتھ مل جانا بے گھر ہونے والے شہریوں اور بالخصوص بچوں میں مہلک امراض اور وبائی امراض کے تیز رفتار پھیلاؤ کا سبب بن رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ماحولیاتی اور طبی زوال انسانی زندگیوں کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے، کیونکہ صاف پانی اور نکاسی آب کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور صحت کے ادارے اپنے محدود وسائل کے ساتھ بڑھتی ہوئی طبی ضروریات کو پورا کرنے کی سکت مکمل طور پر کھو چکے ہیں۔
ڈاکٹر البرش نے زخمیوں اور مریضوں کے انتہائی حساس فائل سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا کہ 1500 سے زائد ایسے مریض جو بیرونِ ملک علاج کے لیے باضابطہ سرکاری میڈیکل ریفرلز کے حامل تھے، محاصرہ زدہ پٹی سے باہر جانے کی اجازت کے انتظار میں ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے، جسے انہوں نے "ایک صریح انسانی المیہ” قرار دیا جو غزہ کے تباہ حال طبی نظام کی اصل ہولناکی کو بے نقاب کرتا ہے۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے 8 اکتوبر 2023ء سے غزہ پٹی پر اپنی بربرانہ جنگ کا تسلسل جاری رکھا ہوا ہے، جس پر امریکہ اور متعدد یورپی ممالک کی عسکری و سیاسی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس ظالمانہ جنگ میں قتلِ عام، بھوک کی نبرد آزمائی، جبری انخلا، منظم تباہی اور غیر انسانی حراستیں روز کا معمول بن چکی ہیں، حالانکہ بین الاقوامی اپیلیں اور عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کے واضح احکام بھی اس لامتناهی جنگ کو روکنے کے لیے جاری کیے جا چکے ہیں۔
موجودہ اعداد و شمار کے مطابق اس طویل اور خونریز جنگ نے دو لاکھ سینتالیس ہزار (247,000) سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور شدید زخمی کر ڈالا ہے، جن میں اکثریت معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔ اس کے علاوہ گیارہ ہزار سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں، لاکھوں انسان بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ غذائی قلت اور قحط نے بے شمار جانوں کو نگل لیا ہے جن میں بیشتر کمسن بچے شامل ہیں، اور غزہ پٹی کے شہروں اور علاقوں کا وسیع ترین حصہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے۔